سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، اسلام کا مطالعہ کریں اور غلط فہمیاں دور کریں!!!

0
 تحریر۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔۔۔۔جاوید اختر بھارتی
دین اسلام دنیا کے تمام ادیان میں سب سے عظیم الشان اور سب سے باوقار دین ہے مذہب اسلام کے اندر ذرہ برابر بھی ناانصافی اور حق تلفی کی گنجائش نہیں ہے اور دہشت گردی و خونریزی کی بھی گنجائش نہیں ہے،، مذہب اسلام امن و سلامتی کا سرچشمہ ہے مہذب معاشرے میں حقوق نسواں کا تصور اسلام کی ہی دین ہے مذہب اسلام حقوق العباد کو بہت اہمیت دیتا ہے یہاں تک کہ ایک بندے کا دوسرے بندے کے ساتھ کوئی معاملہ ہے تو جب تک بندہ اسے درگزر نہیں کریگا تو اللہ رب العالمین بھی اسے معاف نہیں کرے گا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مذہب اسلام کے قوانین بہت سخت ہیں تو وہ اسلام کی تعلیمات سے ناواقف ہیں یا کہ بغض اور حسد کے مرض میں مبتلا ہیں کیونکہ اسلام مکمّل ضابطہ حیات ہے جسے سمجھنے کے لیے علم کی ضرورت ہے اور کامیابی کے لیے عمل کی ضرورت ہے مذہب اسلام کے قوانین معتدل ہیں ماضی، حال، مستقبل سب کچھ سمیٹ کر اللہ رب العالمین نے مرتب کیا ہے اور رحمۃ اللعالمین کے ذریعے نافذ کیا ہے اب اس میں کسی کو ردوبدل کرنے کی اجازت نہیں ہے کلمہ حق کا اقرار کرنے کے بعد کسی کو اپنی طبیعت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق نہیں ہے بلکہ اسے اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گذار ناہے اور اسی کو شریعت کہا جاتا ہے مذہب اسلام نے کسی کے اوپر بوجھ نہیں ڈالا ہے کسی کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی ہے جبکہ دیگر مذاہب کے حالات پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ شوہر کی عمر درازی کیلئے عورت کو برت رکھنا ہے اور مرد پوری طرح آزاد ہیں لیکن مذہب اسلام کے اصولوں کا جائزہ لیں تو یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے یہاں عورت مرد دونوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے روشن مستقبل کے لئے، صحت و سلامتی کے لئے ایک دوسرے کے لیے دعا کریں اور جہاں تک بات روزہ رکھنے کی ہے تو یہ مذہب اسلام کے اندر عمر درازی کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے اور رمضان المبارک کا روزہ تو مذہب اسلام کا ایک رکن ہے جو فرض ہے بلا کسی عذر شرعی کے چھوڑنا گناہ عظیم ہے اور انکار کرنا کفر ہے اور یہ قانون عورت و مرد دونوں کے لئے ہے اب اسی کو کچھ تنگ نظر قسم کے لوگ سخت قوانین میں شمار کرتے ہیں جبکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ حالت بیماری میں روزہ معاف ہے، کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں ہے تو بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ہے، بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہیں ہے تو لیٹ کر پڑھنے کی اجازت ہے، حرکت کرنے کی طاقت نہیں ہے تو اشارے سے نماز پڑھنے کی اجازت ہے، سفر میں ہیں تو کسر کی اجازت ہے، وضو کر نے کیلئے پانی میسر نہیں ہے یا پانی کے استعمال سے صحت کو نقصان پہنچتا ہے تو مٹی کے ڈھیلے سے تیمم کی اجازت ہے، شوہر بدمزاج ہے تو بیوی کو کھانے کا نمک زبان کی نوک سے چکھنے کی اجازت ہے، حق و باطل کی لڑائی میں نابینا کو شامل نہ ہونے کی چھوٹ ہے غرضیکہ اسلام کا کوئی بھی قانون دشوار کن نہیں ہے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ عورتوں کو جو مقام مذہب اسلام نے دیا ہے وہ دنیا کے کسی اور مذہب نے نہیں دیاہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مذہب اسلام کے قوانین امیر و غریب سب کیلئے ہیں کسی کو کسی کے ساتھ بھید بھاؤ، اونچ نیچ کی شکل میں تفریق کی اجازت نہیں ہے اب کوئی خود سے تکبر و گھمنڈ کی چادر اوڑھ لے اور خود ساختہ طور پر اپنے آپ کو بہت بلند سمجھے تو یہ الگ بات ہے اس کی بدقسمتی ہے ورنہ مذہبی اصولوں کی بنیاد پر دیکھا جائے تو اس طرح کی تمام خرافات سے، رنگ و نسل، ذات و برادری کے فخر یہ انداز جیسی برائیوں سے مذہب اسلام پوری طرح پاک وصاف ہے رنگ و نسل کی بنیاد پر فخر کرنا احکامات خداوندی کی خلاف ورزی کرنا ہے اور اپنے آپ کو جہنم کے ایندھن میں جھونکنا ہے مذہب اسلام نے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک، ماں کی آغوش سے لیکر قبر کی آغوش تک، یعنی پیدائش سے لیکر موت تک اصول بتایا ہے اور سارے اصولوں و قوانین پر خود نبی سید الکونین صل اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے اور امت کو عمل کرنے کا حکم دیا ہے آج دشمنان اسلام اور کچھ مغربی تہذیب کے دلدادہ زنا کی سزا پر سوال کھڑے کرتے ہیں اور اسے سخت ترین سزاؤں میں شمار کرتے ہیں لیکن انہیں کیا معلوم کہ جس کی عزت لٹ جائے اس کے اوپر کیا گزرتی ہے اس کے ماں باپ پر کیا گزرتی ہے اس کی خاندان پر کیا گزرتی ہے اس کے ارمانوں کا خون ہوجاتا ہے اس کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے سماج میں بھی سر اٹھا کر چلنا مشکل ہوجاتا ہے جس کی بیٹی کی عزت لٹ جائے اس بیٹی کا باپ جب اپنی بیٹی کی عزت کے لٹیرے کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا تو وہ کیا محسوس کرے گا وہ کیسے برداشت کریگا اس درد کو محسوس کیا ہے تو رحمت اللعالمین صل اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا اور اسی لیے اتنی سخت سزا مقرر کی گئی کہ زانی اگر کنوارا ہے تو 80 کوڑے مارے جائیں اور شہر بدر کردیا جائے اور شادی شدہ ہے تو سنگسار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تاکہ دیکھنے والوں کے دل دہل جائیں تاکہ کسی کو کسی کی دنیا اجاڑ نے کی ہمت نہ ہو سکے اس کے دوسرے پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے ایک شادی شدہ میاں بیوی کے تعلق سے بچہ پیدا ہوتا ہے تو عقیقے کا انعقاد و اہتمام ہوتا ہے ولیمے کا پروگرام ہوتا ہے لوگ مبارکباد پیش کرتے ہیں بچے کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں تحفے تحائف پیش کرتے ہیں اور دعاؤں سے نوازتے ہیں لیکن جب ناجائز تعلقات کی بنیاد پر حمل ٹھہرتا ہے تو پیٹ میں ہی بچے کو مارنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ناکامی کی صورت میں پیدائش کے وقت مارنے کی کوشش کی جاتی ہے پھر بھی ناکامی ہاتھ لگنے پر غلاظت کے ڈھیروں پر پھینک دیا جاتا ہے، نالیوں میں بہادیاجاتا ہے یاد رہے کہ مذہب اسلام نے شادی کو نصف ایمان قرار دیا ہے تا کہ اسلام کی کھیتی ہری بھری ہو کر لہلہائے لیکن لذت اندوزی والی شادی کو حرام بھی قرار دیا ہے آج جو زناکاری عام ہوتی جا رہی ہے اس کا صرف ایک علاج ہے کہ اسلام کا قانون نافذ کردیا جائے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ چاہے جائز تعلق ہو یا ناجائز تعلق ہو پیٹ میں بچے کو مارنے کا انجام یہ ہوگا کہ کل میدان محشر میں وہی پیٹ میں مارا جانے والا بچہ اپنی ماں کے پستان سے لٹکا ہوا ہوگا اور چیخ چیخ کر کہے گا کہ ائے اللہ یہ میری ماں ہے جس نے دنیا میں مجھے مارڈالا تھا اس وقت اللہ تعالیٰ جب سوال کریگا تو کیا جواب دیں گے وہ لوگ جو دنیا کی رنگ ریلیوں میں اپنے آپ کو رنگتے جارہے ہیں اور اسلامی تعلیمات پر، اسلامی احکامات پر آج انگلیاں اٹھا رہے ہیں،، مذہب اسلام نے ایسی تعلیمات بھی دی ہے کہ دنیاوی اعتبار سے بھی بیشمار فوائد ہیں اسلام تعلیم دیتا ہے کہ رات میں جب بستر پر سونے کے لئے جاؤ تو چراغ بجھادو، برتن کو ڈھک دو، پینے کے لئے گلاس میں انڈیل نے سے پہلے گلاس کو دیکھ لو، کوئی چیز کھاؤ پیو تو اس میں پھونکیں نہ مارو اور آج اس پر عمل کرنے کے لئے میڈیکل سائنس بھی زور دیتی ہے جبکہ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے یہ طریقہ بتایا چراغ بجھا دینے سے انسان حالت نیند میں محفوظ ہے، برتن ڈھکنے سے راتوں میں اڑنے والے جراثیم اور آفات سماوی سے محفوظ ہے اللہ کے رسول نے فرمایا کہ کہ جب تم چھت کی تعمیر کرو تو منڈیر ضرور باندھو اور چھت پر مندیر باندھنے اور تعمیر کرنے سے کتنا فائدہ ہے ہر شخص اس کا اندازہ لگا سکتا ہے،، پوری عالم انسانیت اذان کے کلمات پر بھی غور کرسکتی ہے،، کسی کی دلآزاری کے لئے اذان کے کلمات بلند نہیں کئے جاتے بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی کبریائی اور بڑائی کا اعلان اور بیان ہوتاہے، انسانوں اور مسلمانوں کو عبادت کے لئے بلایا جاتاہے اذان کے ایک ایک کلمات پر غوروفکر کریں تو پتہ چلے گا کہ اذان کی حقیقت کیا ہے آئیے اذان کے کلمات پر غوروفکر کیا جائے مسجد کے مینارے سے مؤذن کانوں میں انگلیاں ڈال کر بلند آواز میں پکارتا ہے اللہ اکبر اللہ اکبر،، ایشور مہان ہے ایشور مہان ہے،، اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بہت بڑا ہے،، اشہد ان لا الہ الااللہ،، میں ساکچھی ہوں ایشور کے علاوہ کوئی پوجہ نہیں،، اشہد ان محمد الرسول اللہ،، میں ساکچھی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایشور کے رشی ہیں،  اللہ کے رسول ہیں،، حی علی الصلوٰۃ،، آؤ پرارتھنا کے لئے،، آؤ نماز کے لئے،، حی علی الفلاح،، آؤ (سفلتا کی اور)،، آؤ کامیابی کی طرف،، اللہ اکبر اللہ اکبر،، ایشور مہان ہے ایشور مہان ہے،، لا الہ الااللہ،، ایشور کے علاوہ کوئی پوجہ نہیں،، کوئی معبود نہیں،،
یہ ہیں اذان کے کلمات اور اس کا معنیٰ اذن کے معنیٰ ہی ہیں حکم،، تو اذان یعنی احکام الہٰی کا اعلان کہ اے اللہ کے بندوں آؤ اللہ کی بارگاہ میں جھک جاؤ، سربسجود ہو جاؤ اسی میں نجات ہے اسی میں دونوں جہاں کی کامیابی ہے،،
حقیقت یہی ہے کہ اسلام سب سے مقدس مذہب ہے اور قرآن سب سے مقدس کتاب ہے اسلام مذہب ہے،، اور قرآن دستور العمل ہے،، جسے سمجھنے کیلئے علم کی ضرورت ہے اور کامیابی کے لیے عمل کی ضرورت ہے –
Javed Akhtar Bharti

Leave A Reply

Your email address will not be published.