خوردنی اشیاء کا ضیاع ایک لمحہء فکریہ‎‎

0

عباس دھالیوال

ضلع ملیرکوٹلہ ،پنجاب
خوردنی اشیاء کا ضیاع ایک لمحہء فکریہ
گزشتہ کئی برسوں سے اکثر اوقات یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ ہماری بیاہ شادیوں اور دوسری تقریبات میں کچھ رئیس قسم کے لوگ دیگر لوگوں پہ اپنا رعب و دبدبہ ڈالنے کے لیے مہمانوں کے لیے ایک ہی وقت میں طرح طرح کے کھانے پروسنے کے فیشن کو لگاتار بڑھاوا دیتے چلے آ رہے ہیں. اس چلن کی دیکھا دیکھی جو لوگ صاحب استطاعت نہیں ہیں وہ بھی امراء کی پیروی کرنے میں خود کو ہلکان کرنے کی نوبت تک پہنچ جاتے ہیں.
لیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ زیادہ تر لوگ ان حالات میں کھانوں کی بے قدری کرتے ہیں. مذکورہ تقریبات میں کچھ لوگ تو اپنی پلیٹوں کو اس طرح بھرتے دیکھے جاتے ہیں مانو وہ زندگی کا آخری کھانا کھانے جا رہے ہوں اور مستقبل میں انھیں کھانا ملنے کا قطعاً امکان نہ ہو. ایسے میں صورت اکثر لوگ کھانے کو بہت زیادہ ضائع کرتے ہیں سالن یا دیگر پکوانوں سے لباب بھری پلیٹیں ڈسٹبن میں پھینکنے سے بھی گریز نہیں کرتے.
اس کے علاوہ اناج کے گوداموں اور تھوک اور پرچون کی دکانوں میں سڑنے اور گلنے والے اناج کی خبریں بھی آئے دن ہم سرخیوں میں دیکھتے رہتے ہیں یقیناً یہ سب آج کے دور کا ایک بڑا المیہ ہے.
رواں سال جولائی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ گزشتہ برس کورونا وائرس کی وبا عالمی سطح پر فاقہ کشی کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے کی ایک بڑی وجہ بنی ہے. رپورٹ کے مطابق اگرچہ بھوک سے دوچار افراد کی تعداد میں عالمی سطح پراضافہ ہوا ہے لیکن وہیں جنگ سے متاثرہ علاقوں کے عوام سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
دریں اثناء اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ سن 2030 تک عالمی سطح پر بھوک یا فاقہ کشی پر مکمل طور پر قابو پایا جائے.
لیکن کورونا کے چلتے 2020 میں اس میں کمی ہونے کی بجائے مذید اضافہ ہوا ہے جس ان کی کاوشوں کو گہرا دھچکا لگا ہے.
مذکورہ رپورٹ کے مطابق سن 2019 کے مقابلے میں سن 2020 میں عالمی سطح پر تقریباً پونے بارہ کروڑ مزید افراد کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح بھوک مری کی شرح میں تقریباً 18 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے.
جبکہ فوڈ سکیورٹی اور غذائیت سے متعلق سالانہ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سن، ”2020 میں دنیا بھر میں تقریباً ہر تین میں سے ایک شخص (یعنی دو سو 37 کروڑ) لوگوں کو مناسب خوراک تک رسائی حاصل نہیں رہی اور جس میں گزشتہ صرف ایک برس کے اندر 320 ملین افراد کا اضافہ ہوا ہے۔”
رپورٹ کے مطابق خطہ افریقہ میں سب سے زیادہ فاقہ کشی میں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں اس وقت تقریباً 21 فیصد آبادی کم غذائیت کا شکار ہے۔
اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں یہ خلاصہ ہوا ہے کہ ”زیادہ قیمتوں کی وجہ سے تین ارب بالغ افراد اور بچوں کو صحت مند غذاؤں تک رسائی حاصل نہیں ہو پاتی ہے۔” جبکہ عالمی سطح پر تقریبا ًتین کروڑ نوے لاکھ بچوں کا وزن ان کے قد اور عمر کے لحاظ سے زیادہ پا یا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ ”مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران وبائی امراض نے ہمارے کھانے پینے کے کمزور نظام میں پائے جانے والے خطرات کو بھی بے نقاب کردیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف تنازعات، آب و ہوا کے تغیر، انتہا پسندی، اور معاشی سست روی کے نتیجے میں بھی مندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔”
ادھر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کے تشویش ناک اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ”بھوک اور غذائیت سے نمٹنے کے لیے دیگر عالمی چیلنجوں سے الگ تھلگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔
جبکہ گزشتہ دنوں سامنے آئی ہے ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کےخوراک اور زراعت سے متعلق ادارے، ایف اے او نےخوراک کے نقصان اور ضیاع کو روکنے کے لئے مناسب اقدامات پہ زور دیا ہے، دراصل عالمی سطح پر جس طرح سے خوراکی اشیاء کا بڑے پیمانے پر ضیاع ہوتا ہے وہ دنیا بھر میں بھوک اور غذائی قلت کی ایک بڑی وجہ بنتا نظر آ رہا ہے۔ خوراکی اشیاء کے اس ضیاع کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی اردو کے ایک شاعر اس ٹریجڈی کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ :
گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب
بیٹی مگر غریب کی فاقوں سے مر گئی
ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر کے ممالک لگ بھگ آٹھ ارب لوگوں کے لئےکافی خوراک پیدا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود 80 کروڑ لوگ ابھی تک بھوک کا شکار ہیں اور دو ارب انسانون کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے صحت کے سنگین و تشویش ناک مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے.
ادھر ایک نیوز رپورٹ میں یہ بات ابھر کر سامنے آئی ہے کہ جس میں خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں پیدا کی جانے والی خوراک کا لگ بھگ ایک تہائی یا ایک ارب 30 کروڑ ٹن خوراک کسی کے پیٹ میں جانے کی بجائے آخر کار پرچون مارکیٹ میں پڑے پڑےگل سڑ جاتی ہے یا صارفین کے کوڑے دانوں میں چلی جاتی ہے۔ شاید خوراکی اشیاء کی اس ضیاع و بد حالی کو لیکر ہی ایک شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ :
گندم امیرِ شہر کی ہوتی رہی خراب
بیٹی مگر غریب کی فاقوں سے مر گئی
اقوام متحدہ کے مطابق اس نقصان کا اندازہ سالانہ ایک ٹریلین ڈالر ہے۔ اس ضمن میں خوراک اور غذائیت کے امور سے متعلق ایف اے او کی ڈپٹی ڈائریکٹر ننسی ابورٹو کا کہنا ہے کہ خوراک کے ضیاع کے نتیجے میں پانی، زمین، توانائی، مزدوری اور سرمائے سمیت وہ تمام وسائل ضائع ہو جاتے ہیں جو اسے پیدا کرنے میں صرف ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خوراک کے ضیاع کی روک تھام کے لئے اقدام نہ کئے گئے تو اقوام متحدہ2030 تک بھوک کے خاتمے سے متعلق دیرپا ترقی کےاپنے ہدف کو کبھی حاصل نہیں کر سکے گا۔ ان کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ غذائی قلت کے باعث ایک جانب لاکھوں بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو دوسری طرف ہر تین میں سے ایک بالغ شخص موٹاپے کا شکار ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ غذائیت کی کمیابی کا ایک اور سبب غیر صحت بخش خوراک اور ضروری وٹامنز اور معدنیات کی غذا میں کمی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صحت بخش خوراک کی زیادہ قیمت ہونے کے سبب دنیا کے ہر براعظم، علاقے اور ممالک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ اور کرونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران یہ صورت حال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ صحت بخش خوراک کے بغیر ہم کبھی بھی بھوک اور غذائیت میں کمی کے مسئلے پر قابو نہیں پا سکتے۔
خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2019 کے دوران دنیا بھر میں پیدا ہونے والی خوراک کا 14 فی صد حصہ کھیتوں کھلیانوں سے لے کر اسے فروخت کے مراکز تک پہنچانے کے عمل کے دوران ضائع ہو گیا۔ جب کہ اس سال کے اعداد و شمار کے مطابق دستیاب خوراک کا اندازاً 17 فی صد حصہ ضائع ہو گیا۔
ادھر خوراک و زراعت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال جتنی خوراک ضائع ہوتی ہے اس کی تیاری کے عمل میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج دنیا کے مجموعی کاربن گیسوں کے اخراج کے 10 فی صد کے مساوی ہے۔ اس میں صرف خوراک ہی ضائع نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیداوری عمل میں استعمال ہونے والا پانی، زمین، ایندھن، انسانی محنت اور اس پر خرچ کیا جانے والا تمام سرمایہ بھی رائیگاں چلا جاتا ہے۔
رابطہ 9855259650

Leave A Reply

Your email address will not be published.