معین الحق کے اہل خانہ کو جمعیۃ نے دیا ایک لاکھ ، پانچ سال تک مستقل امداد کا بھی اعلان  گروکھوٹی سے بے دخل ہونے والے متاثرین کیلئے مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء آسام نے دل کھول کر امداد کی اور وزیراعلیٰ کو دیا میمورنڈم 

0
نئی دہلی : امیر الہند اور صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر آسام جمعیۃ علماء کی ٹیم گروکھوٹی میں بے دخل متاثرین کی مدد میں دن رات مصروف عمل ہے ۔ واضح رہے کہ یہ کام آسام ریاستی جمعیۃ علماء کے صدر مولانا مشتاق عنفر کی قیادت میں ہورہا ہے اور خود مولانا مشتاق عنفر زمین پر اتر کر متاثرین کی امداد میں مصروف عمل ہیں ۔ آسام جمعیۃ علماء کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ درنگ ضلع کے دھول پور گروکھوٹی میں بے دخل ہونے والے لوگوں کی مدد کے لئے جمعیۃ علماء آسام کا ایک وفد مولانا مشتاق عنفر کی سربراہی میں پہنچا، جہاں اس نے سب سے پہلے مظلومین کی خیریت دریافت کی اور متاثرین کی دل کھول کر امداد بھی  کی۔ واضح رہے کہ آسام جمعیۃ علماء شروع سے ہی بے دخل ہونے والوں کی مختلف طریقے سے امداد کر رہی ہے۔اس سے پہلے این آرسی معاملہ میں بھی آسام جمعیۃ علماء نے سپریم کورٹ میں آسامیوں کے مقدمے کی پیروی کی تھی ،جہاں اسے عدالت سے بڑی کامیابی ملی اور ایک بڑی تعداد بے گھر ہونے سے رہ گئی۔
آسام جمعیۃ علماء کے صدر مولانا مشتاق عنفر نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ آسام جمعیۃ علماء اپنے صدر مولانا سید ارشد مدنی کے حکم سے پہلے دن سے ہی متاثرین کی امداد میں مشغول ہے۔ انہوںنے کہاکہ صدر محترم کی ہدایت ہے کہ متاثرین چاہے جو ہوں جمعیۃ کو ان کی مدد کرنی چاہئے اور جمعیۃ کی یہی پہچان ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کی امداد روزل اول سے کرتی آرہی ہے۔واضح رہے کہ جمعیۃ علماء آسام نے حکومت آسام سے مطالبہ کیا ہے کہ بے دخل کئے گئے افراد کے نقصانات کی تلافی کی جائے۔ انہیں باز آبادکاری کا معاوضہ دیا جائے اور زخمیوں کے اہل خانہ کو معاوضہ اور زخمیوں کو بہتر علاج فراہم کیا جائے۔ آسام ریاستی جمعیۃ کے صدر مولانا مشتاق عنفر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما سے ملاقات بھی کی اور بے دخل کئے گئے لوگوں کے مختلف مسائل کا ذکر کرتے ہوئے دس نکاتی مطالبات پر مشتمل ایک میمورنڈم بھی انہیں پیش کیا۔
وزیر اعلیٰ نے مولانا عنفر کے مطالبہ کو مثبت اندازمیں لیااور اس پر ان کیساتھ تفصیلی بات چیت بھی کی ۔ آسام جمعیۃ نے پولیس کی گولی سے زخمی ہوئے اور زیرعلاج لوگوں کو دس اور پندرہ ہزار روپیہ کا مالی تعاون بھی پیش کیا ۔ اس کے ساتھ ہی موقع پر پہونچ کر مولانا مشتاق عنفر نے بے دخل ہونے والوں میں چیرے، شکر، بچے کی خوراک، ساڑیاں، لنگی، کمبل، ٹرپال اور امول وغیرہ وافر مقدار میں سب کے درمیان تقسیم کی ۔ پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے معین الحق کے تینوں بچوں کی تعلیم، علاج وغیرہ کے لئے نقد ایک لاکھ روپے کا تعاون بھی فراہم کیا۔ مولانا عنفر نے یہ بھی اعلان کیا کہ ماہانہ پانچ ہزار روپے پانچ سال تک ادا کریں گے۔ نیز شیخ فرید کے اہل خانہ کو پچاس ہزار روپے کا تعاون نقد دیاگیا ۔اہم بات یہ ہے کہ گروکھوٹی کے بے سہارا لوگ مولانا عنفرکو اپنے درمیان پاکر کافی خوش ہوئے۔ویسے بھی مولانا عنفر آسامیوں کے درمیان کافی مقبول ہیں اور مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر وہ ہمیشہ مظلوں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں ۔ بے گھر ہونے والوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عنفر نے کہا کہ ان مشکل حالات میں ہمیں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا ہے ۔ نظم و انصرام اور لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنا ہے ، ساتھ ہی تعلیم اور بہتر کردار سازی پر ہمیں سب سے زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے سبھی مسائل کاحل تعلیم اور بہترین کردار سازی ہی میں ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.