آہ شاہین باغ: حکومت نے کورونا کو مواقع کے طور پر استعمال کیا ہے

0 110

دہلی پولیس نے آج طاقت کے زور پر شاہین باغ احتجاج کو ختم کرادیا اور تمام سامان اٹھاکر لے گئی۔جب کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا اور سپریم کورٹ کا اس پر فیصلہ آنا باقی تھا اس کے باوجود پولیس نے پورے علاقے میں دہشت ماحول پیدا کرکے، پورے علاقے کو سیل کرکے اور بریکیڈ لگاکر ہٹادیا۔ پولیس کی بربریت کی تازہ ترین مثال ہے۔ بہانہ کورونا وائرس کو بنایا گیا۔ کورونا وائرس کے درمیان پارلیمنٹ کے اجلاس ہوسکتے ہیں، بی جے پی کی میٹنگ ہوسکتی ہے، مدھیہ پردیش کے سابق اور موجودہ وزیر اعلی جشن مناسکتے ہیں اور اسمبلی اجلاس چلاسکتے ہیں،پورے ملک میں بی جے پی کے ورکر گھنٹہ اور تالی تھالی جلوس نکال سکتے ہیں۔ حکومت کے وزرائے، اراکین پارلیمنٹ اور عہدیداران اجتماعی طور پر تھالی پیٹ سکتے ہیں گھنٹہ اور تالی بجاسکتے ہیں، اس سے کوئی بھی کورونا سے متاثر نہیں ہوگا۔ سیکڑوں لوگوں کے ساتھ پیلی بھیت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس پی گھنٹہ اور سنکھ بجا سکتے ہیں لیکن مسلمان اپنے حق کے لئے مظاہرہ نہیں کرسکتے۔ امید یہی ہے کہ شاہین باغ ہٹنے سے دہلی سے کورونا ختم ہوجائے گا۔اب دہلی ہی نہیں پورے ملک میں کسی کو کورونا نہیں ہوگا۔ ہندوستان کے سارے مسئلے اب حل ہوگئے ہوں گے۔
شاہین باغ مظاہرین میں رضاکارانہ طور پر صرف پانچ عورتیں بیٹھنے لگی تھیں تاکہ حکومت کو کورونا کا بہانہ نہ ملے۔ صفائی ستھرائی، سنیٹائزر کا استعمال کر رہی تھیں۔ احتیاط کے سارے کام کررہی تھیں لیکن حکومت کو شاہین باغ کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے اور وہ اسے دشمن کا مظاہرہ سمجھ رہی تھی۔ پوری دنیا میں شاہین باغ کی تعریف ہورہی تھی اور اس مظاہرے کرنے کے اسٹائل اور طریقہ کار کو اپنایا جارہا تھا لیکن ملک کے سارے ہندی چینل (ایک دو کو چھوڑکر) اس کے پروپیگنڈہ کررہے تھے۔ بدنام کرنے کے لئے ہر طرح کا حربہ اپنا رہے تھے اور حکومت، آر ایس ایس اور دیگر فسطائی طاقتیں طرح طرح کی دھمکیاں دے رہی تھیں۔ ان سب کے درمیان شاہین باغ اپنا قدم مضبوطی سے بڑھاتا گیا، شاہین باغ کی موت کبھی نہیں ہوسکتی اور نہ ہی شاہین باغ کا دھرنا کبھی ختم ہوگا، جسمانی طور پر ختم ہوگیا ہے روحانی طور پر جاری رہے گا۔ہندوستان کی تاریخ میں شاہین باغ دھرنے کو جہاں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا وہیں، دہلی پولیس کی بربریت، حکومت کی غنڈہ گردی، دہلی حکومت کے سنگھی چہرے اور حکومت کی منشا کو بدترین الفاظ میں ذکر کیا جائے گا۔
جس طرح دہلی پولیس نے پورے شاہین باغ کی گلیوں کو بند کیا اور پولیس فورس کو بھر دیا اگر اسی طرح اس نے شمالی مشرقی دہلی میں پولیس اور فورس کو بھر دیا ہوتا پچاس سے زائد جانیں جاتیں اور 25ہزار کروڑ کا نقصان نہیں ہوتا۔ پوری دنیا میں ملک کی اس قدر بدنامی نہیں ہوتی، پوری دنیا تھو تھو نہیں کرتی۔ یہ دنیا کی واحد بدترین اور ذلیل ترین حکومت ہے جو کورونا کو مواقع کے طور پر دیکھتی ہے اور مواقع کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ اس کو کورورنا سے کچھ زیادہ ہی محبت ہے۔اللہ کرے……
عابد انور

Leave A Reply

Your email address will not be published.