بھارت کی ہیں شان  بنکر اور کسان!! 

0
( آئینہ سچائی کا)
تحریر: جاوید اختر بھارتی
 بنکر اور کسان ملک کی دو آنکھیں ہیں، ایک آنکھ کی روشنی سے تنائی بنائی ہوتی ہے اور دوسری آنکھ کی روشنی سے کھیت کی کڑائی روپائی ہوتی ہے نتیجے میں ایک طرف کپڑا تیار ہوتاہے تو دوسری طرف فصل تیار ہوتی ہے ایک تن ڈھکنے کا ذریعہ اور دوسرا پیٹ بھرنے کا ذریعہ اور انسان کے لئے یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں عالمی اور ملکی و علاقائی سطح پر صنعتیں تو بہت سی ملیں گی مگر زراعت اور کپڑا یہ بنیادی صنعتوں میں سے ہیں باقی جتنی بھی صنعتیں ہیں وہ ان دونوں کے بعد ہی ہیں،، جیسے پھل فروٹ، جوس کولڈرنک و دیگر مشروبات و لوازمات ہیں چاہے وہ کتنی ہی قیمتی ہوں مگر انہیں وہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا جو مقام روزانہ وقت پر میسر ہونے والے کھانے کو حاصل ہے یعنی مذکورہ لوازمات سے پیٹ نہیں بھرا جاسکتا اس لئے وہ ساری چیزیں اصل کھانے کے بعد ہی ہیں اسی طرح بھلے ہی اونچی اونچی صنعت ہو، مل فیکٹری ہو بھلے ہی اس کے مالکان منیجر، پروپرائٹر، انجینئر کہلاتے ہوں مگر اصل صنعت زراعت اور تنائی بنائی ہے جس کے مالکان کو بنکر اور کسان کے نام سے جانا جاتا ہے،،
بنکر اور کسان اس ملک کی شان ہیں، گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار ہیں یوں تو گنگا جمنی تہذیب کے فروغ کے دعویدار بہت ملیں گے مگر حقیقی دعویدار بنکر اور کسان ہی ہیں آج کے پرفتن و پر آشوب ماحول میں بھی بنکر اور کسان فرقہ پرستی کی مخالفت کرتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام دیتے ہیں ایک کسان سردی، گرمی برسات ہر موسم میں کھیت میں ہل چلاتا ہے کبھی دھوپ کے تھپیڑے کھاتا ہے، کبھی سردیوں میں کانپتا ہے تو کبھی سر سے لے کر پاؤں تک پسینہ بہاتا ہے، کبھی بارش میں بھیگتے ہوئے کھیتوں میں جاتا ہے تب جاکر زمین سے پودا اگتا ہے پھر فصل تیار ہوتی ہے لیکن جب فصل تیار ہوگئی تو کسانوں نے اس فصل کی خریدوفروخت پر اور کھانے پر مذہبی پابندی نہیں لگائی بلکہ ہر مذہب ہر ذات برادری کے لوگ اپنا پھیٹ بھرتے ہیں،، اسی طرح ایک بنکر اپنی مشینوں پر تانا بانا چڑھاکر ہر موسم میں اپنے پورے کنبے کے ساتھ محنت کرتے ہوئے سردی، گرمی، برسات جیسے موسموں کی مار جھیلتا ہے پورا کنبہ لگا رہتا ہے تب جاکر تھان اور ساڑی کی شکل میں کپڑا تیار ہوتاہے تو بنکروں نے بھی یہ پیغام دیا کہ ہمارے ہاتھوں سے تیار مالوں پر کوئی مذہبی پابندی نہیں ہر مذہب و ذات برادری کے لوگ ہمارے ذریعے تیار کپڑوں کی خریدوفروخت کرسکتے ہیں اور استعمال بھی کرسکتے ہیں کوئی مذہبی پابندی نہیں ہے اب خود فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ بنکر اور کسان گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار ہیں کہ نہیں ، امن و امان و اتحاد کا پیغام د یتے ہیں کہ نہیں،،
 بنکر اور کسان دونوں ہی ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہیں پھر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کی کتنی اہمیت ہوتی ہے اس لئے بنکروں کو خود چاہیے کہ وہ پوری طرح بیدار رہیں اور اپنی صنعت کو بچانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں اور ساتھ ہی کپڑا صنعت کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کریں ساتھ ہی ساتھ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ بنکروں کے فلاح و بہبود کے لئے ٹھوس اقدامات کرے بہتر سے بہتر پالیسی بنائے اور بنکروں کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے خصوصی سہولت فراہم کرے یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ آج بنکر طبقہ خط افلاس سے نیچے اپنی زندگی کا گذر بسر کررہا ہے بنکروں کے بچے ضروریات زندگی کی سہولیات سے محروم ہو تے جارہے ہیں نتیجہ یہ ہے کہ بنکروں کا بہت بڑا طبقہ آج بھکمری کے دہانے پر کھڑا ہے بنکروں میں بھی تین طرح کی کٹیگری کے لوگ پائے جاتے ہیں ایک وہ جو مال مٹیریل دیتا ہے ( نقد) اور تیار مال حاصل کرتاہے وقتی طور پر کچھ رقم دیتا ہے باقی چھ ماہ، سال بھر میں حساب کرتاہے اس نظام کو لگار کے نام سے جانا جاتا ہے دوسرا نظام ہے مال مٹیریل دیکر تیار مال حاصل کرنے والا فی ساڑی فکس مزدوری دیتا ہے اس نظام کو بانی کے نام سے جانا جاتا ہے تیسرا نظام ہے پاور لوم کسی اور کا ہوتا ہے اس پر کام کوئی اور کرتا ہے اسے بھی ساڑی کے اعتبار سے فکس مزدوری ملتی ہے لیکن سب سے خراب حالت لگار اور بانی چلانے والے بنکروں کی ہے ایک ایک دو دو پاور لوم لگا کر پورا گھر اس میں لگا رہتا ہے لیکن پھر بھی مشکل ہی مشکل کا سامنا ہوتا ہے اور اترپردیش کے بارہ بنکی، میرٹھ، بجنور، وارانسی، الہ آباد، مئو ائمہ، مرادآباد، امبیڈ کر نگر، اعظم گڑھ، گورکھپور، بستی، خلیل آباد، میہداول ، سنت کبیر نگر، ٹانڈہ، جلالپور، مبارک پور، مئو، گھوسی، محمد آباد گوہنہ، خیرآباد، غازی پور وغیرہ اضلاع و علاقوں میں ایسے ہی مزدور بنکروں کی اکثریت ہے ریشم، سوت، کتان، نائلان زری وغیرہ جیسے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حکومت کو ایسا قانون بنانا چاہئے کہ کم از کم ایک سال تک تو قیمتوں میں اضافہ نہ ہو یعنی ایک ریٹ کم از کم ایک سال تک تو ضرور برقرار رہنا چاہئے اور مرکزی و صوبائی سطح پر بنکر کمیشن کا قیام ہونا چاہئے سال میں دو بار بنکر اکثریتی علاقوں میں مفت طبی کیمپ لگایا جانا چاہیے اور بنکروں کے لئے ماہانہ بجلی کا ریٹ رعائتی در پر مقرر ہونا چاہیے اور پاس بک کے ذریعے بجلی بلوں کی ادائیگی کا انتظام ہونا چاہیے اگر ایسا ہوجائے تو غریب مزدور بنکروں کو بہت حد تک راحت مل سکتی ہے –
          javedbharti508@gmail.com

Leave A Reply

Your email address will not be published.