کیا یہ عذاب الہی نہیں ہے؟؟؟

0 149

 

جب ظلم حد سے گزرجائے تو خدا کی لاٹھی چل پڑتی ہے اور خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہر مرض کا، ہر مشکل کا حل رکھا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے سمجھ کر پڑھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔قرآن میں جن قوموں پر عذاب آئے تھے، ان پر آئےعذابوں کا اور جس جرم کے باعث وہ قومیں دردناک عذاب الٰہی کی شکار ہوئیں،کا ذکر کیا گیا ہے۔
اگر ہم ادراک کریں توحقیقت یہ ہے کہ آج اس زمین پر وہی تمام جرم دہرائے جارہے ہیں۔ ہم ایمان والے ہیں اور ہمیں اللہ پر کامل یقین ہوناچاہئے کہ کروناوائرس عذاب الٰہی کی ایک شکل ہے. ایک آزمائش ہے۔کرونا وائرس چین سے پھیلا ہےجہاں تمام حرام جانور کتے، بلی، چوہے، چھپکلی، کیڑے مکوڑے ، سانپ ، بچھو، چمگاڈر کا گوشت فروخت کیا جا رہا اور کھایا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسی کے چلتے کرونا وائرس پھیل گیا اور آج اس وائرس نےپوری دنیا کو اپنی لپٹ میں لے لیا ہے۔ پوری دنیا دہشت کے سائے میں جی رہی ہے۔
بھوک کا وائرس روزانہ کئی ہزار بچوں کو موت کے گھاٹ اتار رہا ہے اور اس وائرس کی ویکسین بھی موجود ہے جسے روٹی کہتے ہیں۔ ٹی بی سے،کینسر سے روز نہ جانے کتنے لوگوں کی موت ہوتی ہے۔ ایکسیڈنٹ سے روزانہ لوگ مرتے مگر میڈیا آپ کو ان سب کے بارے میں نہیں بتائے گی۔ بس ہر طرف ہا ہا کار مچی ہے اور ہر طرف بس کرونا وائرس ۔۔۔۔کرونا وائرس ۔۔۔۔
سو دو سو لوگوں کی موت ہوگئی تو کیا سب کو کرونا وائرس ہوجائے گا۔کوئی کسی بیماری سے بھی مر جائے تو افواہ پھیلتی ہے کرونا وائرس سے مرا ہے۔ لوگ وائرس سے کم اور دہشت سے زیادہ مر رہے ہیں۔ اور لوگ سوشل میڈیا پر بے جا تصویریں ویڈیو اپلوڈ کئے جارہے ہیں ۔ نہ جانے کیوں سب کی سوچنے سمجھنے کی طاقت ختم ہوگئی ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو پھیلا کر بڑی بڑی خبریں بنا کر پیش کی جارہی ہے۔
قرآن پاک میں انسانی زندگی کو لاحق ہونے والے خطرات کا چودہ سو سال پہلے حل بتایا گیا ہے۔ حلال و حرام کی تمیز جس پراسلام میں بہت زور دیا جاتا ہے۔ پیدا کرنے والا رب بہتر جانتا ہے کہ کس چیز کا گوشت انسانی مزاج کے موافق ہے اور کون سا انسان کے لیے زہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج کرونا وائرس اسی زہر کا ایک نمونہ ہے ۔
انسانی ملاپ کی ناجائز صورتیں(زنا) بھی جسمانی بیماریوں کا پیش خیمہ ہے۔ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے آج جو سب سے بڑی پرہیزی بتائی جا رہی ہے وہ منہ اور ہاتھ پیر کو بار بار دھونا جب کہ ہمارے اسلام میں دن میں پانچ بار وضو کرنا ہے جو اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہر بندے کے لیے لازم قرار دیا ہے۔
کرونا وائرس جیسی بیماریوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے مگر لوگ برائی سے نکلنے کی بجائے مزید اور برائیوں میں گھرتے جارہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جس معاشرے میں یا جس زمانے میں عریانی، فحاشی عام ہو اس معاشرے میں اس زمانے میں ایسی بیماریاں آئیں گی جو کبھی سنی نہ ہوگی۔ آج مسلمان کا ایمان بہت کمزور ہوگیا ہے۔ اللہ و رسول سے رشتہ بہت کمزور ہوگیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ آج جو حالات ہیں ان پر غور کیا جائے اور اپنا محاسبہ کیا جائے تو ساری باتیں صاف ہوجاتی ہیں۔ آج ساری خرافات، ساری برائیاں، شکوہ شکایتیں، غیبت و چغلی، شراب، جوا، سود خوری، زناکاری سب کچھ مسلمانوں کے اندر پایا جا رہا ہے یہاں تک کہ دینی کاموں میں بھی نام اور شہرت حاصل کرنے کے لیے خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے مذہب کی شکل بگاڑ دی ہے۔ کعبہ میں صفائی کے لئے کچھ دیر کے لئے طواف روکا گیا تو اسے سوشل میڈیا پر نہ جانے کس کس طرح طرح سے پیش کیا گیا۔ کیوں ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنے مذہب کی شکل بگاڑنے پر تلے ہیں۔ جس مومن کا اللہ تعالی پہ کامل یقین ہو اُس کو کوئی وائرس کوئی وبا کوئی آفت کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
آج ایک انجانے خوف نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے موت کے سائے سر پر منڈلا رہے ہیں۔پوری دنیا خوف ودہشت میں جی رہی ہے۔ موت تو بر حق ہے۔ جو وائرس سے مرنا ہے وہ وائرس سے مرے گا۔کہیں پر بھی چلے جاؤ۔ تہہ خانے میں چھپ جاؤ، پہاڑوں میں جا کر چھپ جاؤ ،جہاں موت آنی ہے آکر رہے گی۔ موت حیات صرف اور صرف اللہ تعالی کے ذمہ ہے نہ کہ کسی وائرس یا انسان کے اور جب تک اللہ تعالی نہ چاہے تب تک موت ہمیں چھو بھی نہیں سکتی۔ اور موت اس انسان کو اس جگہ ضرور کھینچ لاتی ہے جہاں موت آنی ہے۔ موت کا فیصلہ تو اس وقت ہی ہو چکا ہوتا ہے جب انسان پیدا ہوتا ہے۔ ایک مومن کیوں ڈرتا ہے۔ کیا اللہ کی ذات پر یقین نہیں؟ جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والاہے۔جو درختوں کی ٹہنیوں پر بیٹھے پرندوں کو بھی نیند میں گرنے نہیں دیتا۔ یہ سب ہمارے اپنے کرموں کا نتیجہ ہے۔ یہ اللہ تعالی کی ناراضگی ہے اور جب اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے تو ایسی ایسی بیماریاں مسلط کر دیتا ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ یہ عذاب الہی ہے۔
اللہ کا گھر کعبہ، جہاں شفا ہی شفا ہے وہاں کبھی زلزلہ نہیں آسکتا۔ شہر مکّہ مکرمہ میں دجال داخل نہیں ہو سکتا۔ وہاں پر لوگ ایک عام سے وائرس سے خوف زدہ ہیں۔ جس کعبہ میں اللہ کا رعب اس قدر مضبوط ہے کہ عورت ومرد اکٹھے طواف کرتے ہوئے ایک دوسرے پر نظر اٹھانے کی ہمت نہیں کر سکتے. خدا کے لیےاے مومنو! اپنے آپ کو پہچانو ۔۔۔۔۔ تمہارا اللہ پر یقین اور تمہاری ثابت قدمی دیکھ کر باقی اور مذہب کے لوگوں کو اسلام قبول کر لینا چاہئے تھا۔ مگر افسوس!!! خود اس قدر بے یقین ہو گئے کہ جس کا کعبہ ہے جس نے عبادت کےلیے پوری دنیا کے لوگوں میں سے اپنے گھر کے طواف کےلیے منتخب کیا ہے کیا وہ ہماری حفاظت نہیں کر سکتا؟؟ ایک مومن جب قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو فرشتےاس مومن کے منہ کو چومتے ہیں۔ جب ایک مومن اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان کوسوں دور بھاگ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جب ایک مومن اپنے مومن بھائی کو گلے لگاتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے تو اللہ انکی اس ادا کو دیکھ کر دونوں کے گناہوں معاف کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ جب ایک مومن جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی نیت سے مسجد جاتا ہے تو فرشتے اس پر سایہ فگن ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
آج مسجدوں کے دروازے بند ہوگئے ہیں۔ اللہ نے اپنے گھر تک آنے کا راستہ بند کر دیا مگر ابھی تک سجدہ کرنے سے نہیں روکا۔ توبہ کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔ لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف۔۔۔۔رجوع کر لو اپنے رب سے۔۔۔۔قرآن کو اتار لو اپنے دلوں میں۔ مسجدوں میں جانے پر پابندی لگ گئی۔۔۔۔عمرہ پر پابندی لگ گئی۔ آج مسجدِ نبویﷺ کے دروازے بند کر دیئے گئے۔ باہر سے لوگوں کو اندر آنے کی اجازت نہیں کیا یہ عذاب الہی نہیں ہے؟؟ کیا اللہ رب العالمین ہم سے ناراض نہیں ہے؟ یہ ساری قیامت کی نشانیاں ہیں۔ کئی صغیرہ نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں اور کئی ہو رہی ہیں۔
’’آخری زمانے میں جہاں بہت سے فتنے رونما ہوں گےاور دین کا راستہ روکنے کی کوششیں کی جائیں گی، وہاں کعبہ پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ حج اور عمرہ معطل ہوجائے گا۔‘‘حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک بیت اللہ شریف کا حج موقوف نہ ہوجائے۔‘‘( صحیح البخاری، الحج،حدیث نمبر 1593)
‫ایسا نہ ہو کہ کرونا سے انسان تو بچ جائیں لیکن انسانیت مر جائے۔ کرونا وائرس سے مرنے کا ڈر ایک یا دو فی صد ہےلیکن موت کسی بھی وقت آسکتی ہے یہ سو فی صد صحیح ہے۔ کرونا وائرس سے ڈرنے کے بجائے اپنے اعمال کو درست کریں۔ اہنے گناہوں سے ڈریں ۔ہر جگہ سب کچھ بند ہو رہا ہے مگرتوبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے۔ اللہ ہم سب کو توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہم سب کے گناہوں کو معاف کرے اور ہماری توبہ قبول کرے آمین۔
سیدہ تبسم منظور ناڈکر۔(موربہ) ممبئی
نائب ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال ہندوستان اردو ٹائمز 9870971871

Leave A Reply

Your email address will not be published.