بچوں کے لئے پڑھائی کا ہر دن اہم ہے

0
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
 کووڈ 19 کی وجہ سے بچوں کی تعلیم کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ۔ اس نے کسی ایک ملک یا خطّہ کو نہیں بلکہ عالمی سطح پر تعلیم و تعلم کی تمام سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے ۔ ویسے تو ہر عمر کے بچے اس کی زد میں آئے لیکن اسکول جانے کی تیاری کر رہے اور پری پرائمری کے بچے اس سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔ حالات معمول پر آنے کے ساتھ ہی بچوں کو اسکول واپس آنا چاہئے تاکہ وہ تعلیم کے مواقع سے محروم نہ ہوں ۔ مگر کئی ریاستوں میں چھوٹے بچوں کے لئے اسکول کے دروازے ابھی بھی بند ہیں ۔ ہندی روزنامہ بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق وبائی امراض کی وجہ سے بھارت کے 15 لاکھ سے زائد اسکول بند ہوئے تھے ۔ جن میں سے کچھ مرحلہ وار کھل چکے ہیں ۔ اسکولوں کے بند ہونے کی وجہ سے پری پرائمری سے سیکنڈری لیول تک کے 28.6 کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہوئے ۔ ان میں 49 فیصد لڑکیاں ہیں، اس کے علاوہ تقریبا 60 لاکھ وہ بچے ہیں جو کوویڈ 19 سے پہلے ہی اسکولوں سے باہر تھے ۔ حالانکہ اسکول بند ہونے سے ہوئے نقصان اور بچوں پر اس کے اثرات کا اندازہ لگایا جانا ابھی باقی ہے ۔
وبائی بحران میں بچوں کی پڑھائی جاری رکھنے کے لئے آن لائن طریقہ تعلیم کو اپنایا گیا ۔ لیکن سب کو انٹرنیٹ کی سہولت مہیا نہ ہونا بڑا مسئلہ ثابت ہوا ۔ ملک میں دیہی و شہری گھرانوں اور صنفی سطح پر ڈیجیٹل تقسیم کی کھائی کافی گہری ہے ۔ غریب خاندانوں کے بیشتر بچوں کو آن لائن تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہوئی ۔ اس کی وجہ سے ان کی پڑھائی چھوٹنے اور بچوں کے مزدور بننے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ وبائی بیماری نے اسکولوں تک رسائی، سیکھنے کے نتائج اور ڈیجیٹل رابطے میں عدم مساوات کو بھی بے نقاب کیا ہے ۔ مثلاً جھارکھنڈ میں صرف 12-13 لاکھ بچے ہی آن لائن تعلیم حاصل کر پائے ۔ ریاست میں 15 اضلاع کے قریب 2000 بچوں کے درمیان پروفیسر جیاں دریز کی سربراہی میں کرایا گیا بی جی وی ایس سروے، ڈیجیٹل تقسیم کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔
 سروے کے مطابق ، بچوں کو اساتذہ کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع نہیں ملا ، انہیں گھر میں یا تو بالکل نہیں یا بہت محدود تعلیمی مدد ملی ۔ اسکولوں کے بند ہونے سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما بھی متاثر ہوئی ہے ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ کئی ریاستوں میں نویں سے بارہویں تک کی کلاسیں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں ۔ پہلی سے آٹھ تک کے طلبہ کی پڑھائی شروع کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسکول بچوں کے سیکھنے، ترقی، حفاظت اور فلاح و بہبود کے مرکز ہیں ۔ وبا نے بحران کے تباہی میں بدلنے کا احساس بھی دلایا ہے ۔ اس نے پہلے سے حاشیہ پر پڑے بچوں اور نوجوانوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور اقتصادی و سماجی ترقی کے امکانات کو بھی کمزور کیا ہے ۔ تعلیم میں رکاوٹ کسی نسل کو زندگی میں صرف ایک بار ملنے والے سیکھنے کے اس موقع سے محروم کرتی ہے، جس سے وہ مہارت حاصل کرکے اچھی ملازمت اور زندگی حاصل کر سکتے ہیں ۔ اسکولی نظام نے مختلف طریقوں سے طلباء تک پہنچنے کی کوشش کی ہے، لیکن مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اسکول بند ہونے کا سب سے گہرا اثر غریب بچوں پر پڑا ہے ۔
مطالعہ سے معلوم ہوا کہ جن کے پاس پیسے ہیں وہ اپنے بچوں کا نجی اسکول میں اندراج کراتے ہیں ۔ دوسرے جن کی آمدنی کم ہے لیکن بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں، وہ سرکاری اسکولوں کا رخ کرتے ہیں ۔ سرکاری اسکول پہلی جماعت سے شروع ہوتا ہے ۔ نئی تعلیمی پالیسی 2020 کا کہنا ہے کہ بچوں کے سیکھنے کا سلسلہ پہلی جماعت میں پہنچنے سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے ۔ اس کے مطابق فاونڈیشن اسٹیج پانچ سال کی ہے ۔ اسی کے پیش نظر نجی اسکولوں نے پری پرائمری کے لئے ایل کے جی، یو کے جی کلاس قائم کئے ہیں ۔ سرکاری اسکولوں میں پری پرائمری کا انتظام ہونا چاہئے ۔ کیوں کہ پہلی کلاس کا نصاب چھ سال کے بچوں کو دھیان میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے ۔ چھوٹے بچے صحیح طریقے سے اسے جھیل نہیں پاتے ۔ بچوں کی عمر اور نشوونما کی مناسبت سے تعلیمی سرگرمیاں اور مواد تیار کیا جاتا ہے ۔ الگ الگ ریاستوں نے اس کمی کو پورا کرنے کے لئے الگ الگ طریقے اختیار کئے ہیں ۔ ہریانہ حکومت نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے 25000 آنگن واڑی کارکنوں کو تیار کیا ہے ۔ دہلی، پنجاب اور ہماچل میں اسکولوں میں الگ سے پری پرائمری کلاسز کا انتظام کیا گیا ہے ۔
کووڈ کے دوران حکومت نے ریڈیو، ٹی وی اور دیگر آن لائن ذرائع سے تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن تمام بچوں کی ڈیجیٹل موڈ تک رسائی نہ ہونا تشویشناک ہے، البتہ اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل ٹولز اور وسائل کو بچوں کے سیکھنے کی ضروریات جیسے کہ ہدایات کی زبان ، مثالیں اور نصاب اس کے مطابق تیار کیا جائے ۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ موثر ڈیجیٹل وسائل بھی ساتھیوں اور اساتذہ کے درمیان اسکولوں میں حاصل ہونے والی تعلیم کی جگہ نہیں لے سکتے ۔ اسکول میں بچے تبادلہ خیال کرنا اور بقائے باہمی کے بارے میں سیکھتے ہیں ۔ صاف صفائی اور صحت کے طریقوں سے متعلق سرگرمیوں میں شامل ہونے اور صنفی مساوات کے بارے میں رویوں کو فروغ دینے کا بھی انہیں موقع ملتا ہے ۔ اسکول ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں لڑکیوں کو چھ سات گھنٹے کے لیے خاندان کی دیگر ذمہ داریوں سے آزادی ملتی ہے ۔
اسکول مختلف ذاتوں اور سماجی گروہوں کے بچوں کو آپس میں گھلنے ملنے کا مواقع فراہم کرتا ہے ۔ بقائے باہمی اور شہریت کی اقدار کی پرورش میں اسکول کا کردار بہت اہم ہے ۔ خاندان کے افراد بھی وبائی مرض میں دباؤ کا شکار ہیں ۔ موجودہ حالات میں، والدین کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ ان کے بچے کووڈ سے متاثر نہ ہوں اور ساتھ ہی وہ اپنی تعلیم سے بھی محروم نہ رہیں ۔ حالانکہ، ابھی تک انفیکشن کے پھیلاؤ میں اسکولوں کے کردار کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے ۔ اس لیے احتیاط اور مناسب اقدامات کے ساتھ اسکول کھولنے کی تیاری کرنی چاہئے ۔ ماہرین کی مانیں تو چھوٹے بچوں میں انفیکشن کا امکان بہت کم ہوتا ہے ۔ اگر انہیں انفیکشن ہو بھی جائے تو وہ شدید نہیں ہوتا ۔ بالغوں کے مقابلے بچوں میں کوویڈ 19 کی علامات ہلکی ہوتی ہیں ۔ اسکولوں میں کوویڈ 19 کے ٹرانسمیشن کے خطرے کو مناسب حکمت عملی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ اسکول کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ انفیکشن کے خطرے کے تجزیے اور جہاں اسکول موجود ہے وہاں کی سوسائٹی میں وبا کے اثرات اور پھیلاؤ کی بنیاد پر کیا جانا چاہئے ۔
اسکولوں کے دوبارہ کھلنے سے بچوں خصوصاً حاشیہ کے خاندانوں کے بچوں کو فائدہ ہوگا ۔ تعلیم کے علاوہ، اسکول بچوں کو صحت، حفاظتی ٹیکے اور غذائیت سے متعلق خدمات اور محفوظ و معاون ماحول فراہم کرتے ہیں ۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اسکول کا ہر ایک دن معنیٰ خیز ہوتا ہے، کیونکہ بچہ جتنے لمبے عرصہ اسکول سے باہر رہے گا، اتنا ہی اس بات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ پڑھائی میں اس کی دلچسپی کم ہو جائے، پہلے سیکھے ہوئے علم کو بھول جائے اور جب اسکول دوبارہ کھلے تو واپس اسکول جانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے ۔ اس کا نتیجہ ڈراپ آوٹ کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ اس لئے پڑھائی کا ہر دن اہم ہے ۔ جس پر حکومت کے ساتھ والدین کو بھی توجہ دینے کی ضروری ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.