مولانا کلیم صدیقی کی رہائی کے لئے دلت قوم  احتجاج کرنے تیار

0
 نقاش نائطی
   +966562677707
وہ مسلم قوم جسے اپنے لئے ایک لیڈر ایک رہنما چننے اور اس کی اتباع کرنے کی ہدایت ملی وہی آج بے مہار زندگی گزارنے پر تلی ہوئی ہے۔  وہ قوم جو اپنے سردار کے اشارے پر جان تک نچھاور کرتے ہمہ وقت آمادہ پائی جاتی تھی آج اس کا  نہ کوئی  سیاسی لیڈر ہے اور نہ مذہبی لیڈر۔ وہ بے مہار جانور کی طرح آزادانہ زندگی جینے کو گویا قائل ہو چکی ہے۔ اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مشاورت سے کوئی بھی انکا سالار منتخب ہوجاتا تھا تو سالار اپنے وقت کا ایک بھی جنگ نہ ہارنے والا  خالد بن ولید ہے یا  اسے برطرف کر ان کی جگہ سالار بنا دیا گیا کوئی سترہ سال کا سابقہ غلام زید بن حارثہ ہے یہ دیکھنا ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا۔ سالار سالار ہوتا تھا اس کی اتباع ہر کسی پر واجب ہوتی تھی
آج کی مسلم قوم کسی کے بھی تابع رہنے کے بجائے ہر کسی کو خود اسکا متبع بنائے رکھنے پر ہی آمادہ پائی جاتی ہے۔  ہم بازار میں بکنے کےلئے ڈربے میں رکھی مرغیوں کے مانند ہوگئے ہیں جو مالک کے ڈربے میں ہاتھ ڈالے کاٹنے اور بیچنے کے لئے ایک مرغی کے پکڑے جانے پر خود کے بچنے پر مسرور ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ لیکن انہیں کیا پتہ ایک کے بعد ایک آخیر میں ہی صحیح ہر مرغی کا نمبر آنے والا ہے۔ ہر کسی کو بک کر کٹ مر جانا ہی ہے۔ 9/11 دہشت گردانہ حملے کے بعد پڑھے لکھے ہزاروں نوجوانوں کو پابند سلاسل  کیا گیا ہم بحیثیت مسلم قوم یہ سوچ کر خاموش  رہے  کہ ہوسکتا ہے ان نوجوانوں نے کوئی خطا کوئی لغزش کی ہوگی، پھر ہمارے بہاوبلی مسلم لیڈروں کو جیل میں ٹھونسا گیا ہم نے کہا پاپ کا گھڑا ایک نہ ایک دن تو بھر کر سر راہ پھوٹ ہی جاتا ہے۔ ہماری خاموشی نے انہیں ہمت بخشی انہوں نے اعظم خان جیسے عظیم الشان لیڈر کو بمع انکے بیوی بیٹے کے پابند سلاسل کر دیا،اعظم خان کا جرم اتنا تھا کہ انہوں نے قوم و ملت کو اعلی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی ٹھانی تھی۔ ہم پھر بھی خاموش رہے۔ انہوں ڈاکٹر نائیک جیسے عالمی سطح کے مبلغ دین کو ملک چھوڑ ہجرت کر جانے پر انہیں مجبور کیا، ہم نے اپنے دل کو سکون دیا یہ کہہ کہ چلو ان تک کوئی ہماری قبر پرستانہ غیر اسلامی افعال پر، ہمیں غیر اسلامی کہنے والا نہ رہا۔ اب ہمارے متبع سنت داعی اسلام مولانا کلیم صدیقی کو دعوت  اسلام الی الکفار کا بہانہ بنا انہیں اسیر کیا گیا ہے۔ مسئلہ بااختیار شدت پسند حکومت کے ان پر الزام لگا قید و بند کرنے کا نہیں ہے انکی حکومت ہے اور انہیں حضرت مولانا سے خطرہ لاحق ہے کہ ان کے اخلاق حسنہ سے متاثر ہوکر ہزاروں کی تعداد میں کفار و مشرکین جوق در جوق داخل اسلام ہوئے جارہے ہیں۔ اگر انہیں انکے صاحب  اقتدار رہتے نہ روکا گیا تو بھارت میں اسلام کے پھیلنے کو نہ روکا جاسکے گا ۔ مسئلہ انکے حضرت مولانا کو زیر حراست لینے کا نہیں ہے بلکہ مسلم امہ کی خموشی   لاحق فکر بنی ہوئی ہے۔ آخر یہ قوم مسلم پھر کب جاگے گی یہ سوال اہم ہے؟
دراصل ویدک سناتن دھرمی ھندو جو تھوڑا بہت اپنے دین اور اپنے تعلیمات وید گرہنت سے آشنا ہیں انہیں اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ مورتی پوجا ان کا اصل ویدک دھرم نہیں ہے۔ خصوصا” مابین مذاہب یہ آجکل کے زبردستی پھیلائے گئے منافرت آمیز ماحول سے وہ خود نالاں ہیں۔ وہ انہیں ایک بہت بڑی ناؤ میں بٹھا بھگوان ایشور کے عذاب سے انہیں بچانے والے رشی منی منو (حضرت نوح علیہ السلام) کے متلاشی ہیں  اس منو کی تعلیمات کے متلاشی ہیں جس منو نے انہیں ایک بھگوان ایک ایشور کی پرستش کی دعوت دی تھی۔ یہ ہم مسلمانوں کی ہی کمزوری ہے کہ ہم نے انکے پاس اب تک محفوظ ریے آسمانی ویدوں کو، آخری آسمانی کتاب قرآن مجید سے تقابل کر ،ان میں موجود مشترک احکامات ہی کو پرت در پرت کھول کھول کر، قرآن و وید کے تقابل کے ساتھ، ایشور اللہ کے احکام  آسمانی کو ان تک نہیں پہنچا یاہے۔ ہماری کوتاہیوں لغزشوں کے باوجود، موجودہ کورونا وبا پس منظر میں، انکے اپنوں کے فوت شدہ بزرگوں کے پارتو شریر کے ساتھ، انتم سنسکار میں ہوئی بے حرمتی سے وہ نہایت دلبرداشتہ ہیں۔ اس آفت و وبائی دور میں جہاں انکے اپنے مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے انکی مدد کرنے کے بجائے، انہیں جس بے رحمی سے لوٹا ہے اور اسوقت مسلم قوم کی طرف سے ، انکی مدد کو آگے آئے ہاتھوں سے، انکے اخلاق حسنہ سے، وہ اسلامی تعلیمات سے ایک حد تک متاثر ہوئے ہیں۔ وہ خود آگے آ آکر اسلامی تعلیمات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ایشور اللہ بھگوان کے تفاوت و فرق کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ اپنے ایشور بھگتی میں یہ ھندو قوم ہم مسلمانوں سے بہت آگے ہیں، اگر انہیں انکے اپنے ایشور بھگوان سے روبرو کرانے میں ہم مسلمان  صحیح معنوں  اخلاص سے کوشش کریں تویقین مانئے ، پورے بھارت کے ہندوؤں کو داخل اسلام ہونے سے کوئی بھی نہیں روک نہیں پائے گا۔ اس حقیقت کا ادراک خود انکے ھندو پروہتوں پنڈتوں کو بھی ہے اسی لئے تو عام ھندوؤں کو، صحیح معنوں بااخلاق سچے پکےمومن مسلمانوں سے انہیں خوف محسوس ہوتا ہے ۔ انہیں اپنے آپ کو اہل سنہ و الجماعہ کہنے والے  قبر پرست  مسلمانوں سے یا جھولا اٹھائے در در بھٹکنے والے پنج وقتہ نمازیوں سے کوئی شکوہ شکایت نہیں ہے۔ یہ تو اپنی مسلم دشمنی درشانے میں؛ اپنے مہان  لیڈر مودی جی لغزشوں کا کھیکڑا تبلیغیوں کے سر پھوڑنے کا بہانہ اس وقت انہیں ملا تھا سو انہوں نے اس کا اپنی گودی میڈیا سے بروقت خوب استعمال بھی کیا تھا ۔ اصل میں وہ ڈاکٹر ڈاکر نائک  اور  کلیم صدیقی جیسے باشرح مومن مسلمان داعیوں سے ڈرا کرتے ہیں۔
کیا یہ بات دیش کے عام ھندو مسلمانوں کو معلوم ہے جب ایک موقع پر دیش کا دستور العمل ترتیب دینے والے بابا امبیڈکر کے ہاتھوں دئیے پانی کے گلاس کو پنڈت مدن موہن مالویہ نے یہ کہہ کر پینے سے انکار کیا تھا کہ ان کا دھرم بھرشٹ ہوجائیگا  اس خبر کو سننے کے بعد  مسلمانوں کے دھرم گرو حضرت مولانا حسرت موہانی نے ان ایام بعد رمضان عید پر اپنے گھر ڈاکٹر امبیڈکر کو کھانے پر بلاکر نہ صرف ساتھ کھانا کھایا تھا بلکہ انکےجھوٹے کھانے کو ان کے سامنے کھاتے ہوئے اسلام دھرم  چھوٹ چھات سے پاک تعلیمات ہم مسلمانوں کو دیتا ہے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی
آل انڈیا امبیڈکر سماج پارٹی دلت لیڈربھائی تیج سنگھ نے اپنے اے ایس پی کاریہ لیہ دہلی مئں دئے ایک انٹرویو میں یہ بات ثابت کر بھارت کے کروڑوں دلتوں کو مولانا   کلیم صدیقی کا عاشق بننے پر مجبور کیایے کہ بقول  بھائی تیج سنگھ کے ایک مرتبہ مولانا کلیم صدیقی کے آفس میں ملاقات دوران حسب معمول انہیں پیش کئے گئے پانی کے گلاس میں سے ایک دو گھونٹ پی کر گلاس سامنے ہی رکھا ہوا تھا کہ کچھ دیر بعد مولانا کلیم صدیقی نے انکے یعنی ایک دلت کے منھ لگاکرجھوٹا کئے پانی کو، انکے سامنے پیتے ہوئے اسلام دھرم میں چھوت نہئں ہے یہ ثابت کیا تھا۔ کیا آج بھارت کے یہ بڑے بڑے دھرم گرو یا پروہت پنڈت یا آرایس ایس بی جے پی لیڈران مودی جی یا امیت شاہ یا موہن بھاگوت ہی کسی دلت کا جھوٹا نہ صحیح انکے ہاتھ کا بنا کھانا کھاسکتے ہیں؟ مودی امیت شاہ نے کسی غریب  دلت  کے گھر جاکر برہمن ہوٹل سے منگوایا کھانا کھانے کا ناٹک ضرور رچا ہوگا اور دیش واسئوں کو خوب بے وقوف بنایا ہوگا لیکن کیا واقعتا کسی دلت کے ہاتھ کا بنا کھا سکتے ہیں؟ اگر ان جیسے برہمن، دلتوں کے ہاتھوں  کا کھانا کھانے لگیں تو  یوپی کے بریمنوں کے ہاتھوں ان دلتوں کا  یوں  استحصال نہ ہوتا  کسی دلت کو مندر کے اندر جا بھگوان کی پوجا کرنے پر ڈنڈت نہ کیا جاتا
مسلمانوں کے دھرم گرو ان کے اپنے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وعلیہ وسلم کی پیشین گوئی مطابق مسلم ھجری کیلنڈر مطابق  ڈیڑھ ہزار سال بعد یعنی آج سے 66 سال بعد  ھندوؤں کے مذہبی رشی منی، منو اور ہم مسلمانوں کے عقیدے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے امتی یہ سناتن دھرمی ھندو قوم، من حیث القوم، نہ صرف  پوری کی پوری داخل اسلام ہوجائے گی  بلکہ آج کے مسلم دنیا کی سربراہ عرب کی چوہدراہٹ بھی ان منو وادی سناتن دھرمی مسلم قوم کے پاس آجائے گی جسے رسول خاتم الانبیاء سرور کونین محمد مصطفی صلی اللہ وعلیہ وسلم نے، آسمانی صحوف اولی والی ( ویدک دھرم) مسلم قوم صائبین  کا خطاب دیا تھا جس کا تذکرہ قرآن مجید میں یہود و نصاری و صائبین کے ساتھ مکرر آیا ہے۔ تصور کیجئے مسلمانوں کے مذہبی پیشوا خاتم الانبیاء رحمت اللعالمین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے، آج سے چودہ سو چالیس سال قبل آج کے بھارت کے سناتن دھرمی ھندوؤں کے بارے میں کس قدر دل خوش کن پیشین گوئی کی تھیں کہ انکے زندگی کے پندرہ سو سال بعد عالم اسلام کی رہبری و سالاری صائبین  قوم کے حوالے کی جائے گی اور وہ آرین قوم والے فارسی النسل حضرت سلمان فارسی رض اور ڈراوڈین  قوم والے یمنی النسل  حضرت ۔۔۔۔ خضری رض کی مشترکہ  نسل   صائبین  میں سے ہوگی اور یقینا اللہ کے رسول صلی اللہ وعلیہ وسلم کی بتائی کوئی بھی بات آج تک غلط  ثابت نہیں ہوئی ہے جو یہ پیشین گوئی غلط ثابت ہو۔ بھارت کی منوا وادی  سناتن دھرمی ھندو  قوم اللہ کے رسول صلی اللہ وعلیہ وسلم کے پیشین گوئی کردہ تفاصیل جیسی آریں و ڈراویڈین قوم کی مشترکہ آل  میں سے کیا  نہیں ہے؟  اور 1500 سال پورے ہونے سے پہلے اس کورونا وبا کا پھیلنا اور ان سنگھی مودی یوگی لیڈروں کی ناعاقبت اندئش پالیسیوں سے کچھ مہینوں میں ہی، امریکی رہورٹ مطابق پچاس لاکھ کے قریب بھارتیوں کی کورونا اموات  اور انتم سنسکار میں غفلت باعث ہزاروں کی تعداد میں ھندو  بزرگوں کے پارتو شریر کو گنگا میں بہائے جانے اور گدھ کوئے کتوں کے نوچ کھاتے مناظر کو ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر، ھندو بہن بھائیوں کے، اپنے ہی ھندو مذہب سے بیزاری ظاہر کرتے اور انکے اسلام کے تئیں انسیت کو دیکھتے ہوئے، اوربھارت پرحکومت کررہے ان سنگھی یوگی مودی کے مسلم قوم پر ہوتے ظلم کو دیکھتے ہوئے، آج سے ساٹھ ایک سال بعد بھارتیہ ھندوؤں کا مکمل دھرم پریورتن ہوتے ہوئے،پوری ھندو قوم کے اسلام دھرم قبول کرتے پس منظر میں، کیا عقل و فہم رکھنے والے بھارت واسیوں کو نہیں لگتا ہے کہ مسلمانوں کے خاتم الانبیاء کی بھارتیہ ھندوؤں کے متعلق کی جانے والی  پیشین گوئی سچ ثابت ہونے کا وقت آگیا ہے
یقینا اس بات کا ادراک و احساس ھندو پنڈتوں کو بھی ہے اسلئے دس بیس سال پہلے مسلم دھرم گرو حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کے ریل سفر دوران ھندوؤں کے رام نگری ایودھیہ سے ریل پر سوار بزرگ  پنڈتوں کی سیوا کرتے کرتے، اس میں ایک بڑے بزرگ ھندو پنڈت نے حضرت مولانا سے کیا کہا تھا یہ بات حضرت مولانا کی ویڈیو تقریر ہی سے براہ راست سنی جاسکتی ہے ہاں البتہ اللہ کے رسول صلی اللہ وعلیہ وسلم کی اسی پیشین گوئی کے تناظر میں حضرت مولانا کی وہ مشہور  معرکہ آراء تقریر 6 سال کی فرصت باقی بچی ہے یہ کم علم طالب علم، حضرت مولانا کے چھ سالہ باقی رہے وقفہ سے اتفاق نہیں رکھتا ہے ہماری اپنی معلومات کے مطابق اسلامی 15 ویں صدی کے اختتام تک پوری ھندو قوم اسلام دھرم قبول کرتے ہوئے، بحیثیت صائیبن قوم، پورے عالم اسلام کی سالاری کے منصب تمکنت پر براجمان ہوگی۔انشاءاللہ
یہی وہ کچھ گیان و علم ہے جس کے چلتے ھندو  پنڈت اور ھندو دھرم گرو اپنی ھندو قوم کے مسلمان دھرم اپنانے کے خوف سے پریشان ، اپنے ھندو سیاسی لیڈروں سے کہتے ہوئے، مسلم علماء پر ظلم و زیادتی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ بے شک مالک دوجہاں ان تمام اسرار رموز سے واقف، اپنے منصوبےپر عمل پیرا رہتے، اپنے محبوب نبی آخر الزماں کے پیشین گوئی مطابق ھندو قوم کو دائرہ اسلام  میں لانے، حالات سازگار کرتا رہیگا لیکن افسوس ہوتا ہے حضرت مولانا کلیم صدیقی جیسی شخصیت کے یوگی مہاراج کے ہاتھوں زیر حراست لئے جانے پر بھی، مسلم قوم کی خاموشی پر۔ اب بھی مسلم قوم نہ جاگے کی تو کیا برما میں روہنگیائی مسلمانوں پر کئے مظالم بھارت مئں روا رکھے جانے پر کیا جاگے گی؟ یا دلت قوم کی طرف سے مولانا کلیم صدیقی کو رہا کرنے شروع کئے احتجاج بعد مسلم قوم کو ہوش آئیگا؟  یا ڈربے میں بند یکے بعد دیگرے خود کے کٹنے اور مرنے کا انتظار ہی ہوگا۔ وما علینا الا البلاغ

Leave A Reply

Your email address will not be published.