بزم نشتر سہارنپور کے زیر اہتمام عظیم الشان مشاعرہ

0

سہارنپور۔۔گزشتہ شب سہارنپور کے مرحوم استاد شاعر حضرت نشتر مظاہری کے نام سے منسوب بزم نشتر کے زیراہتمام ایک مخصوص اعزازی محفل شعروسخن بہ عنوان ایک شام دو فنکاروں نام کا انعقاد مانک مئو واقع محمدیہ ہال میں بڑے کروفر کے ساتھ کیا گیا

جس میں عبدالحق سحر مظفرنگری اور عبداللہ راہی دیوبندی نے بطور مہمانان اعزازی شرکت کی پروگرام کی صدارت عبداللہ راہی دیوبندی نے کی بطور مہمانان خصوصی فیاض ندیم سہارنپوری اور کاوش ثمر دیوبندی نے شرکت کی
پروگرام کی شمع گلریز متین اور مولانا ذاکر الہی نے مشترکہ طور پر روشن کی اس نشست کی نظامت نوجوان ترقی پسند شاعر خرم سلطان نے اپنے منفرد انداز سے کی
پروگرام سے قبل بزم نشتر کے صدر عاصم پیرزادہ نے عبداللہ راہی کی شخصیت اور ان کی فنکارانہ عظمتوں پر اظہار خیال کیا بزم کے نائب صدر اشرف ہلال قاسمی نے عبدالحق سحر مظفرنگری کی ادبی خدمات اور ان کے کار ہائے نمایاں پر تفصیل سے روشنی ڈالی

بزم نشتر کے ناظم اعلی سید عمران نے تمام مہمانان کرام کی خدمت میں استقبالیہ پیش کیا

پروگرام میں شہر سہارنپور کے معزز شعرائے کرام اساتذہ کرام صحافی حضرات کے علاوہ سامعین نے خاصی تعداد میں شرکت کی پروگرام بعد نماز عشاء مولانا ذاکر الہی کی نعت پاک سے شروع ہوکر کر دیر رات دو بجے نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جن شعراء کو زیادہ پسند کیا گیا ان کا ایک ایک شعر باذوق سامعین کی خدمت میں پیش ہے

ہم تم اگر ملیں تو مکمل ہو زندگی
خوشیاں تمہارے پاس ہیں غم میرے پاس ہیں
عبداللہ راہی دیوبندی

 

سب کی نگاہ اٹھتی ہے اس پھول کی طرف
بستا جو لے کے جاتا ہے اسکول کی طرف

عبدالحق سحر مظفرنگری

تمام دن کی تھکن جسم سے لپیٹے ہوئے
اداس شام کی دہلیز پر کھڑا ہوں میں

کاوش ثمر دیوبندی

مرے پروں کے تعاقب میں کیوں کمانیں ہیں
مرے پروں میں نہیں خون میں اڑانیں ہیں

گلریز متین

ہم نئے دور کے تشنہ لب ہیں ہمیں
پیاس ہے اور پانی نہیں چاہتے ہیں

مولانا ذاکر الہیٰ

جوشِ جنوں میں چاک گریبان کر لیا
بے کار اک قمیص کا نقصان کر لیا
عاصم پیرزادہ

 

سورج کو چھو کے دیکھ لیں وہ ہاتھ بھی نہیں
توفیق دے خدا تو بڑی بات بھی نہیں
فیاض ندیم

جوش میں پرچم اسلام نکل آتے ہیں
اور اذاں سنتے ہی کچھ کام نکل آتے ہیں

خرم سلطان

 

زندگی مجھ سے بہت دیر لپیٹ کر روئ
رو برو موت کا جب میرے فرشتہ آیا
اشرف ہلال قاسمی

 

دل کو ہوئی ہے آج کسی کی تلاش پھر
یہ جھیل تھی خموش ہوا ارتعاش پھر

عدیل تابش

عبرت کے لفظ جن کے دلوں میں اتر گئے
ان کے قسم خدا کی مقدر سنور گئے

ایوب صادق

 

سنا ہے سادھوؤں کے بھیس میں ڈاکو بھی رہتے ہیں
جو ایسا ہے تو پھر خطرے میں ہے ہندوستان اپنا

سید عمران

 

اس موقع پر افضال صدیقی ماسٹر نظام الدین چودھری عبدالباسط لقمان پردھان حاجی انور خان مولانا ارشد اور چاند محمد ڈاکٹر معین الدین محمد سہیل محمد پیغام اور قاری شان محمد قاری مبین کی موجودگی قابل ذکر ہے اس موقع پر فیاض ندیم کے شعری مجموعے بنیاد کی ایک ایک جلد مہمانان کو پیش کی گئ

پروگرام کے اختتام پر عاصم پیرزادہ اشرف ہلال اور سید عمران نے مہمانان کرام اور شعراء کرام کا شکریہ ادا کیا

Leave A Reply

Your email address will not be published.