22مارچ عالمی یومِ گجر اور گجر قوم کی تاریخ

شازیہ چودھری کلر راجوری جموں و کشمیر بھارت۔ shaziya.chaudhary080@gmail.com

0 773

ایک مختصر جائزہ

شازیہ چودھری
تاریخ کو محفوظ رکھنا بیدار قوم کی ذمہ داری اور نشانی ہوتی ہے۔ اور اگر اس سے غفلت برتی جائے تو قوم اِجتماعی اور انفرادی ہلاکت کا شکار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کے طبقوں نے تاریخ کو محفوظ کر کے بعد کی نسلوں تک پہنچایا ہے۔ 22 مارچ کو ہر سال عالمی یومِ گجر کے طور پر منایا جاتاہے۔ اس دن کے جشن کے پیچھے بھی ایک تاریخ ہے۔ جس سے یہ واضع ہوتا ہے کہ اس دن کی کیا اہمیت ہے۔ ہور یہ کیوں منایا جاتاہے۔ دراصل یہ دن گجر مہاراجہ کنشک کی یاد میں منایا جاتاہے۔

دوسری صدی عیسوی میں کشان خاندان کے ایک راجہ نے کشمیر میں اس وقت کے راجہ شالیواہن کے تخت پر قبضہ کر کے اپنی سلطنت کی بُنیاد رکھی۔ اس کا نام مہاراجہ کنشک کشان گجر تھا۔ اور یہ راجہ کشان خاندان کا نامور، طاقتور اور تجربہ کار، منتظم راجہ تھا۔ کنشک کی سلطنت میں گندھارا، کشمیر سے لے کر مشرق میں بنارس تک، اور مغرب میں سندھ تک کا علاقہ شامل تھا۔ اس کے علاوہ افغانستان، چین اور ترکستان تک کا علاقہ بھی شامل تھا۔ وادی ستلج بہاولپور موجودہ پاکستان سے ملنے والے کتبوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جب اس نے وادی سندھ، وادی گنگا اور مگدھ کے علاقے فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کئے اور اس علاقے کا نام اپنی قوم کے نام پر "گرجراتر” (گجرات) رکھا، اور اس بات کا حوالہ ممبئی گزیٹر میں بھی ملتا ہے۔ پرانی تحریروں میں کشان خاندانوں نے اپنے آپ کو کشان ہی لکھا ہے۔ لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گجروں کی کسانہ گوت کشان خاندان سے وجود میں آئی ہے۔ افغانستان کے علاقہ رباط سے 1907ء میں ملنے والے ایک کتبہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مہاراجہ کنشک کشان نے اپنے آپ کو گزر یعنی گجر لکھا ہے۔ ایران میں بھی ایک شہر کا نام کشان ہے۔ نامور مؤرخ رانا علی حسن چوہان نے اپنی کتابوں ’تاریخ گرجر‘ اور مختصر ‘تاریخ گرجر‘ میں کشان لفظ کو گجر گوت کے لئے ہی استعمال کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے، کہ ٹیکسلا شہر کشان گجر خاندان کا بسایا ہوا ہے۔ کشمیر میں کنش پورہ شہر بھی اسی خاندان کا بسایا ہوا ہے۔ کنشک کشان گجر بڑا بہادر دلیر اور جنگجو راجہ تھا۔ انھوں نے اپنی لیاقت اور بہادری سے اپنے خاندان گجر کشان کی سلطنت کو کافی بڑھایا۔ کنشک نے ’پرش پورہ‘ ( پشاور) کو اپنا دارالسلطنت مقرر کیا۔ جہاں سے سارا ملک گندھارا کشمیر اور سندھ تک نظر رکھی جا سکتی تھی۔ اور 40 سال کے عرصہ تک بڑے جوش و خروش سے حکومت کی۔ اس نے تخت نشین ہوتے ہی سب سے پہلے کشمیر کو فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کیا۔ اس کے علاوہ کنشک نے وسط ایشیا کے کئی جنگلی قبائل کو لگاتار شکست دے کے بہت سارے علاقے اپنے قبضے میں کر لئے۔ مہاراجہ کنشک کی سب سے بڑی اور اہم جنگ چین کے ساتھ ہوئی، پہلی لڑائی میں کنشک کو شکست ہوئی۔ لیکن اس نے دوبارہ گرجر فوج کو منظم کیا جس میں اس کو فتح ہوئی، چین میں صوبہ سنکیانگ میں گوجری زبان کے اثرات اور چین میں ہی دنیا کے سب سے بڑے ڈیم کا نام گرجس ڈیم اس بات کا ثبوت ہے کہ گجر راجہ کنشک کو چین میں بھی فتح حاصل ہوئی تھی۔ مہاراجہ کنشک کشان گجر علم و ادب کے ساتھ دلچسپی رکھنے اور ایک عظیم فاتح ہونے کے علاوہ بہترین منتظم بھی تھا۔ انھوں نے پشاور کو اپنی عظیم سلطنت کا پایۂ تخت قرار دیا اور اپنی عظیم سلطنت کے انتظام کےلئے سلطنت کو کئی صوبوں میں تقسیم کر کے گورنر یا صوبہ دار مقرر کئے تھے۔ ہر صوبے دار اپنے صوبے کا نظم و نسق اور امن کے ذمہ دار ہوتے تھے۔ اس طرح اگر ہم مہاراجہ کنشک کشان گجر کو سکندرِ ثانی کہیں تو بے جا نہیں ہوگا۔ گجر خاندان کے اس حکمران نے اپنے دورِ حکومت میں گندھارا آرٹ کو اپنے عروج پر پہنچایا تھا۔ کنشک ایک بہت بڑا فاتح ہونے کے علاوہ آرٹ کے سرپرست اور عالی شان عمارت بنوانے کے شوقین بھی تھے۔ مہاراجہ کنشک کے زمانہ میں یورپ سے وسط ایشیا اور افغانستان کے راستے تجارت ہوتی تھی۔ جس کی وجہ سے یونانیوں کے ساتھ گہرے تعلقات رہے۔ جس کے باعث اس نے مجسمہ سازی، سنگ تراشی اور تعمیرات کے فن کو اپنا کر اس کو کمال درجہ تک پہنچایا۔ یہ فنون کا مجموعہ ’گندھارا آرٹ‘ کہلاتا ہے۔ جس کے نادر نمونے لاہور، ٹیکسلا، پشاور اور وادی سوات کے عجائب گھروں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں کنشک گجر کے دور کے بُت اور سکے ملتے ہیں۔

مہاراجہ کنشک گجر نے مجسمہ سازی کے لئے زیادہ تر پتھروں کا استعمال کیا۔ اور یہ پتھر زیادہ تر وادی سوات بونیر کے پہاڑوں میں دستیاب تھے۔ گندھارا آرٹ میں سکہ اور دوسری چیزیں بھی ملتی ہیں۔ لیکن اس آرٹ کی نمایاں ترین چیز گوتم بدھ کے مجسمے ہیں۔ یعنی گندھارا آرٹ میں بُنیادی اہمیت گوتم بدھ کے مجسموں کو حاصل ہیں۔ گندھارا قدیم برصغیر ہند، پاک اور بنگلہ دیش کے وہ علاقے ہیں۔ جو اب شمال مغربی پاکستان میں واقع ہیں، زمانہ قدیم میں کابل اور دریائے سندھ کے درمیانی علاقہ ٹیکسلا کے شمال مغرب میں گندھارا کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ نام سب سے پہلے ہندوؤں کی مذہبی کتاب ’رگ وید‘ میں ملتے ہیں۔ راجہ کنشک کشان گجر خود عالم دوست تھے۔ اور عالموں کی قدر کرتے تھے۔ اور انھوں نے تبلیغی جماعت ایران، توران، چین اور منگولیا بھیجیں اور کشمیر میں بدھ کانفرنس منعقد کی گئی، اور کچھ سالوں میں ہی بدھ مت مذہب جاپان تک پہنچایا۔ مہاراجہ کنشک کشان گجر کی حکومت سن 80ء سے سن 132ء تک رہی، اور نوے سال کی عمر میں سن 132ء میں انتقال کیا۔ دراصل راجہ کنشک کشان گجر نے اپنے خاندان کی گوت کشان کے نام پر راجہ شالیواہن سمبت کا نام بدل  کر سمبت کشان رائج کیا جس کا اجراء 22 مارچ سن 78ء میں ہوا۔ اور اسی لئے گجر بادشاہ کے جاری کردہ کلینڈر کی مناسبت سے 22 مارچ کو "انٹر نیشنل گجر ڈے” یعنی عالمی یومِ گجر منایا جاتا ہے۔ ‘گجروں کی بھاری آبادی اس وقت ہندوستان، پاکستان، اور افغانستان میں ہے، اور روزی روٹی کی تلاش میں یہ جفا کش لوگ پوری دنیا میں پھیلے ہوۓ ہیں۔ ہندوستان کی تقریبا بارہ ریاستوں میں گجروں کی بھاری آبادی پروان چڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے تقریبا سارے صوبوں اور قبائلی علاقوں میں گجر آبادی موجود ہے، افغانستان میں بھی گجروں کی اچھی خاصی آبادی موجود ہے اور وہاں کے قومی ترانہ میں بھی گجروں کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ گجر دنیا کے تقریبا ہر ملک میں معاش کے سلسلے میں آباد ہیں، ہندوستان کے مرکزی زیرِ انتظام علاقہ جموں کشمیر میں اور پاکستان و افغانستان میں  رہنے والے  گجر مذہبِ اسلام کے ماننے والے ہیں جبکہ ہندوستان کے باقی علاقوں میں رہنے والے گجروں کا مذہب ہندو ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان مانھ سکھ گجر، پارسی گجر اور جین گجر بھی موجود ہیں۔ ہندوستان میں گجروں کی موجودگی پر محققوں اور مؤرخوں میں مختلف راۓ ہیں کچھ مؤرخوں کا کہنا ہے کہ گجروں کا یہ قبیلہ دراصل ہندوستان کے قدیم ترین باسیوں میں سے ہے، جو بعد میں آنے والی نسلوں کے ساتھ گُھل مل گیا ہو گا۔ جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ عرب ایران یا ترکی سے آۓ ہیں۔ زیادہ تر مؤرخوں کے مطابق یہ لوگ جارجیا یعنی گرجستان سے بھارت میں  آۓ ہیں اور پورے شمالی ہند پر قبضہ جما لیا ہے۔ گجروں کی تاریخ کو سمجھنے کے لئے ہمیں ان کے ماضی کو چھاننے کی ضرورت ہے اس لئے ہمیں گجروں کی تاریخ پر لکھی ہوئی کتابوں سے معاونت لینے کی ضرورت ہے۔ گجر محقق اور تاریخ دان ڈاکٹر جاوید راہی کے مطابق  گجر وسطی ایشیا کے قدیم ترین قبیلوں میں سے ایک اہم قبیلہ ہے جس کی تاریخ گزشتہ پانچ ہزار سالوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق گجروں نے کئی صدیوں تک اپنی پہچان کی جنگ لڑتے لڑتے بہت کچھ گنوایا ہے اور بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے۔ گجروں کے کئی اور نام بھی ہیں جیسے کہ گُجر، گُرجر، گُرزر، گاوزر اور شاخ جیسے کہ آجڑ، بکروال، دودھی، بنیہارا وغیرہ لیکن ہر ایک ذیلی شاخ کی اپنی سماجی اور ثقافتی پہچان ہے اور وہ اپنے اصل کے ساتھ  مضبوطی سے جڑے ہوۓ ہیں۔ ممبئی گیزٹر کے نئے حصے میں جناب کیمپ ویل کے حوالے سے یہ درج ہے کہ گجر وسط ایشیا کا ایک قبیلہ ہے جس کا پہلا نام عربی میں خزر تھا جو بعد میں خزر سے کھوزور اور آخر میں گوجر ہو گیا، اس طرح گجروں کو عربی قبیلوں میں گنا گیا ہے۔ اور مفتی عبدالغنی الازہری الشاشی کی تاریخ ضیاءالبیان میں بھی یہ ہی ذکر آتا ہے۔ جو ہزاروں سال پہلے عرب سے نقل مکانی کر کے برصغیر کے آسمان پر چمکے اور بعد میں بھارت میں دور دور تک پھیل گئے۔ مشہور مؤرخ کنیڈی اپنی تحقیق میں ثابت کرتے ہیں کہ گجر شروع میں سورج کی پرستش کرتے تھے، لہذا ان کا تعلق ایران کے ساتھ رہا ہو گا۔ ٹرائیبل ریسرچ اینڈ کلچرل فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق گوجر ترکی زبان کا لفظ ہے جس کو ترکی میں گرزر کہا جاتا ہے اور وہاں آج بھی خانہ بدوش قبیلوں کے لئے اس لفظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ گوجری اور ترکی کے کئی الفاظ ملتےجلتے ہیں۔

جناب ایم ٹی جیکسن کا کہنا ہے کہ گوجروں کا تعلق گوڈوں یعنی گوڈ برہمنوں کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں، اور انھوں نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ گوڈ دراصل ہندو گجروں کے پروہت تھے۔ جناب پی سی بانچی نے لکھا ہے کہ لفظ گوجر دراصل گوسر سے نکلا ہے جو کہ ووسن قبیلہ جو ہنوں کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہوا تھا اس کی ایک شاخ ہے۔ روسی مؤرخین گوجروں کو اکوغا ربز مانتا ہے۔ سور اس طرح ان کے ملک کو گورجستان یعنی جارجیا کے بسنے والے کہتے ہیں۔ مفتی عبدالغنی الازہری الشاشی اپنے ایک مقالہ” مشرقی وسطی کی تاریخ پر گوجر عہد کے اثرات” میں اس طرح رقم طراز ہیں کہ”  گوجر خانہ بدوش قبیلوں اور عرب کے بدوی قبیلوں کی طرز معاش، تہذیب، رہن سہن شکل کے طریقے آج بھی آپس میں بہت ملتے جلتے ہیں۔

اس لئے یہ مانا جا سکتا ہے کہ سامی قبیلوں کے بچے ہوۓ خاندان اپنا ریوڑ، اونٹ اور پالتو جانور لے کر کوہ قاف کی طرف نکلے ہوں گے، اور وہ ہی گرجی اور بعد میں گوجر کہلواۓ ہوں گے”۔ "سفر نامۂ خسرو” صفحہ 83 پر لکھا ہوا ہے کہ مصری خانہ بدوش قبیلوں میں آج بھی کافی تعداد میں گوجر قبیلے کے لوگ ملتے ہیں، اس لئے یہ لوگ  قدیم مصر سے ہی نقل مکانی کر کے آۓ ہوں گے۔ گوجروں کو اصلی ہندوستانی ماننے والوں میں "تاریخ راجپوتانہ” کے مؤلف جناب جی ایچ اہوجھا، The glory that  was Gujjar”  desh کے مؤلف کے۔ ایم۔منشی "گوجر پرتہاروں کی تاریخ” کے مؤلف جناب بیج ناتھ پوری ہیں۔ گوجری صحافت کی سنگِ بنیاد رکھنے والے معروف صحافی، دانشور اور مؤرخ جناب سروری کسانہ مرحوم نے اپنے رسالہ  گوجر دیش میں لکھا ہے کہ "بدھ مت کا زوال اور ہندو مت کی نشاۃ ثانیہ کی ابتداء کی تاریخ کوہ آبو کے اگنی کنڈھ سے نکالی جا سکتی ہے، جہاں گوجر سرداروں نے ہندومت کے اثرات ختم کرنے کے لئے برہمنوں کا دست بازو بننے کا کردار ادا کیا، کوہ آبو پر ہونے والے ہنوں میں شامل گوجر چار نئے ذیلی ناموں سے بلاۓ گئے۔ مثلا چوہان، چلوک، پرمار اور پرتہار ۔ان چاروں نے اپنے زیر اقتدار علاقوں کو گوجر ملک کا نام دیا۔ گوجر قبیلے کا تذکرہ ہمیں جناب بان بھٹ کی کتاب ہرش چرتر میں بھی ملتاہے۔ جو ساتویں صدی عیسوی میں لکھی گئی، اور ایک اہم تاریخی دستاویز ہے۔

جناب ڈی آر بھنڈارکر کے مطابق گوجروں نے شمالی ہند میں سن 550 عیسوی کے نزدیک ہنوں کے ساتھ یا ان کے بعد پاؤں رکھے۔ اور ان (گوجروں) کا ذکر سب سے پہلے پانا کی کتاب "ہرش چرت” میں آیاہے جہاں ان کو ہنوں کی طرح ہی ہرش کے باپ کا دشمن کہا گیا ہے۔

مولانا محمد عبدالمالک نے اپنی تصنیف  "شاہان گوجر” میں  لکھا ہے کہ دوسرے ملکوں میں اس قوم کو خزر، جزر، جندر اور گنور بھی کہا گیا ہے۔ برصغیر میں یہ پہلے گرجر کی صورت اور بعد میں گوجر ہو گیا۔ عبدالمالک کے مطابق یہ لوگ گرجستان سے آۓ تھے اور بحیرہ خزر کے نام پر ان کا نام بھی خزر پڑ گیا، کیونکہ بحیرہ خزر کے آس پاس خزر یعنی گوجر آباد تھے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گوجر ترک النسل ہیں۔ کیوں کہ خزر ترکی قوم تھی۔

"شاہان گوجر ” میں اگنی کل کی چاروں قوموں چوہان، چالوکیہ، پریہار  اور پنوار کا ذکر گوجروں کے تعلق سے کیا ہے۔ جناب رانا علی حسن چوہان نے اپنی تصنیف تاریخ گوجر میں لکھا ہے کہ رامائن میں گوجر کے معنی غازی کے آۓ ہیں۔ اور یہ کھشتری ہیں جو بعد میں گوجر کہلانے لگے۔ اس میں سورج بنسی، چندر بنسی، چوہان، چالوکیہ، پریہار اور راٹھوروں کو بھی گوجر کہا گیا ہے۔ مگر ان قوموں نے کبھی بھی گوجر ہونے کا دعوی نہیں کیا اور نہ ہی گوجروں نے کبھی ان قوموں کے ساتھ اپنا نسلی تعلق ہونے کا دعوی کیاہے۔ کچھ مؤرخوں اور محققوں کی تحقیق کے مطابق گجر حضرت نوح علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت یافث بن نوح کی الاد ہیں اور ان کا بڑا ملک جزیرہ قادسیہ سے لے کر بلاد تُرک، روس، بلغاریہ اور دربند دیوارِ ذوالقرنین تک پھیلا ہوا تھا اور ان کی اپنی زبان تھی۔ برِصغیر میں اس قوم کو گُجّر، گُرجر گوجر کے نام سے بلایا جاتا ہے، اور روم میں جوزاز، بحیرۂ اوصاف میں گُزر، برطانیہ میں گرجرا اور آرمینیا و عرب میں خُزر یا جُزر کہا جاتا ہے۔ خُزر خُزیرہ یا حریرہ کے مادہ سے ہے جس کے معنی ہیں کھانے کی وہ قسم جس میں روٹی اور شوربا ملایا جاۓ یا آٹا ملایا جائے۔ گجر ہمیشہ ایک اقتدار والی طاقت تصور کی جاتی رہی ہے۔ اسلام کے مکی دور میں جب فارس اور قیصر کا مقابلہ ہوا تو فارس والے قیصر سے جیت گئے جس پر مکہ کے مشرکین نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ (ہرقل اہل کتاب تھے اور فارس والے بت پرست تھے جو کہ جیت گئے ہیں) اس کا جواب اللہ پاک نے سورۃ الروم کی شروع کی آیتوں میں دیا کہ ”

کچھ سالوں میں ہی قیصر (روم) پھر سے فارس پر غلبہ کر لے گا (سورۃ الروم)۔ کچھ ہی عرصہ بعد ہرقل نے فارس کا مقابلہ کرنے کے لئے گجر بادشاہ اور ہند کے بادشاہ سے مدد مانگی، فارس اور ہرقل دونوں میں دوبارہ جنگ ہوئی اور اللہ پاک کی مدد سے مشرکوں کے مقابلے اہلِ کتاب کو گجروں کے ساتھ دینے کی وجہ سے کسریٰ کو فتح ملی۔ چینی مؤرخ ہیون سانگ کے مطابق ہندوستان میں گوجر سلطنت مشرق سے مغرب میں 733 میل تک پھیلی ہوئی تھی جس کا دارالخلافہ بھینمال تھا، گوجر عہد میں ہندوستان الگ الگ علاقوں اور چھوٹے چھوٹے راجواڑوں میں بٹا ہوا تھا، ہر علاقے میں کوئی نہ کوئی قوم یا قبیلہ راج کررہا تھا، اس طرح گوجروں کے پہلے بڑے نشان جو گوجری ورثہ کی صورت میں آج بھی موجود ہیں ان کو کھوج کے نکالنا جوۓ شیر لانے کے برابر ہے۔ گوجروں کا ہندوستان میں آنا اور اس کے بعد ان کے عروج کا عہد پانچویں صدی عیسوی سے شروع ہو کے بارہویں صدی عیسوی تک جا پہنچتا ہے پھر بھی قدیم وراثتوں کی چھان بین سے گوجر ورثہ کے نشان مل جاتے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید راہی کی تحقیق کے مطابق گوجر لوگ جہاں جہاں آباد ہوۓ انھوں نے ان علاقوں کا نام اپنے قبیلوں، ذاتوں یا گوتوں کے نام پر رکھے ہیں، ان میں گورجستان (جارجیا) روس، گجرات جس کو پہلے گرجر راٹھ یا ضلع گجرات کہا جاتا تھا، گجرانوالا، گوجر خان، ہزار گوجراں، گوجر گڑھ، سہارنپور گوجراں، گوجر کھیڑا، گوجر پورہ وغیرہ ہیں۔

مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں کشمیر  میں بھی کئی جگہیں گوجروں کے نام پر ہیں جن میں گوجر نگر، پروڑی گوجراں، چٹھا گوجراں، گوجرن گاندربل۔ فقیر گجری سرینگر، گجر ناڑ، گجر پتی بارہمولہ گوجرہ مظفرآباد وغیرہ شامل ہیں۔ کل ملا کے یہ بات کہ گجروں کا تاریخی سفر بہت طویل ہے اور گجروں کا دورِ اقتدار 1200 سال کے آس پاس ہے، جس کی گواہی تاریخ دیتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جو قوم اپنی تاریخ اپنی پہچان سے درکنار ہو جائیں اور جو قوم اپنی مادری زبان سے دور ہو جاۓ وہ قوم دنیا کے نقشے سے مِٹ جاتی ہیں۔ آؤ آج 22 مارچ عالمی یومِ گجر کے موقع پر ہم عہد کریں کہ اپنی قومی پہچان کو بحال کرنے کے لئے جس سے جو ہو سکے کچھ نہ کچھ کرنے کا جتن کریں اور اپنی ماں کے دودھ کا قرض چکاتے ہوۓ ماں بولی گوجری کی ترقی اور ترویج کے لئے ایک جُٹ ہو کے کام کریں۔ (ختم شُد)۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.