غزل 

0
عبّاس دھالیوال
کب کس نے یہ سوچا ہوگا
جیون مرنے جیسا ہوگا
جھوٹ کے کالے جنگل میں
سچ کا پودا سُوکھا ہوگا
کل تک مجھ کو عِلم نہیں تھا
یار بھی دشمن جیسا ہوگا
بھائی کو جس نے مروایا ہے
وہ کوئی بھیدی گھر کا ہوگا
رشتوں کی اس بے قدری میں
سب کچھ ہی بس پیسا ہوگا
اس کے بارے میں سوچوں مَیں
ایسا ہوگا ویسا ہوگا
پت جھڑ کی آہٹ کو سن کر
پھولوں کا رنگ اُترا ہوگا
کس نے سوچا ہوگا عباس
ستیُگ کلیُگ جیسا ہوگا
مالیر کوٹلہ ،پنجاب
رابطہ 9855259650

Leave A Reply

Your email address will not be published.