ذات پر مبنی مردم شماری ضرورت اور دشواری 

0
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ایک بار پھر ذات کی مردم شماری کا سوال سیاسی گلیاروں میں گھوم رہا ہے ۔ مردم شماری کے حامی پسماندہ طبقات کو حکومت کی اسکیموں سے جوڑنے کے لئے اسے ضروری بتا رہے ہیں ۔ تو مخالف اس سے سماجی تانا بانا بگڑنے اور ریزرویشن کی مانگ کے زور پکڑنے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں ۔ مگر ذاتوں کو شمار کئے جانے کی آواز اب اپوزیشن کے ساتھ این ڈی اے کے خیمے سے بھی آ رہی ہے ۔ اس ضمن میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار حزب اختلاف رہنماؤں کے ساتھ وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے مل چکے ہیں ۔ دو مرتبہ بہار اسمبلی پسماندہ ذاتوں کو گننے کی تجویز اتفاق رائے سے پاس کرکے مرکزی حکومت کو بھیج چکی ہے ۔ کئی اور صوبائی حکومتیں بھی اس کے حق میں ہیں ۔ ان کی دلیل ہے کہ ملک میں پیڑ پودوں، جانوروں، مذہبی طبقوں اور زبانوں کی گنتی ہو سکتی ہے ۔ تو ذاتوں کی مردم شماری کرانے میں حکومت کیوں ہچکچا رہی ہے ۔ حالانکہ سیاسی جماعتیں گزشتہ کئی دہائیوں سے ذاتوں کو دھیان میں رکھ کر انتخابی مدعوں اور امید واروں کا انتخاب کرتی رہی ہیں ۔ جس کی وجہ سے سیاست میں او بی سی کا دب دبا بڑھا ہے ۔ مگر اب بھی یہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ ملک میں کتنی ذاتیں ہیں ۔ ان کی سماجی، معاشی، اقتصادی اور تعلیمی حالت کیا ہے ۔ سماج کی بناوٹ میں ان کی اہمیت کیا ہے؟
مردم شماری میں محض آبادی کی گنتی نہیں ہوتی بلکہ اس میں دیکھا جاتا ہے کہ مرد عورت کتنے ہیں ۔ ان کا تعلیمی معیار کیا ہے ۔ عورتوں کی صورتحال کیا ہے ۔ کتنی خواتین میٹرک اور کتنی گریجویٹ ہیں ۔ ان کی زندگی، صحت کیسی ہے ۔ خاندان میں کتنی جائیداد ہے ۔ مادری زبان کیا ہے، مذہب کیا ہے ۔ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی یا اعلیٰ طبقہ سے ہیں تو کس ذات سے تعلق ہے ۔ مثلاً ایس سی، ایس ٹی ہیں تو اس میں بالمیکی، جاٹوو، مہار، مشودر وغیره کیا ہیں ۔ یہ سب 1951 سے ہر Census میں ریکارڈ کیا جاتا ہے ۔ یہ کہنا کہ 1931 کے بعد ذاتوں کو شمار نہیں کیا گیا غلط مفروضہ ہے ۔ دراصل معلومات تو ہر شخص سے لی جاتی ہے لیکن اعداد وشمار صرف ایس سی، ایس ٹی کے شائع کئے جاتے ہیں ۔ ذاتوں کے اعداد وشمار کو شائع کرنے کی تجویز کو 1951 میں اس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے یہ کہہ کر خارج کر دیا تھا کہ اس سے سماجی تانا بانا بگڑ سکتا ہے ۔
ذات کی مردم شماری کے مخالف آج بھی یہی دلیلیں دے رہے ہیں ۔ مثلاً ذاتوں کو گننے سے ملک میں کاسٹ ازم (برادری واد) بڑھے گا ۔ سماج بٹ جائے گا، ریزرویشن کا سوال کھڑا ہوگا ۔ ایک بار پھر منڈل ۔ 2 کا طوفان برپا ہو سکتا ہے وغیرہ ۔ ممکن ہے دہلی، ممبئی جیسے بڑے شہروں میں ذات کی مردم شماری کو لے کر کچھ ہل چل ہو ۔ ورنہ ملک کا کون سا خطّہ یا گاؤں ایسا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کی ذات سے واقف نہیں ہیں ۔ مردم شماری میں گھر کے باہر کوئی اسٹیکر نہیں لگے گا کہ کون کس ذات سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس لئے ذاتوں کی گنتی سے سماج میں کوئی بدلاؤ نہیں آنے والا ۔ دراصل پریشان اعلیٰ ذات کا وہ طبقہ ہے جس کی سماج اور سرکار پر بالادستی ہے ۔ حالانکہ تعداد کے لحاظ سے یہ 19 – 20 فیصد ہے لیکن اس کا 80 فیصد حصہ پر قبضہ ہے ۔ کئی شعبوں میں تو وہ 90 فیصد جگہوں پر قابض ہے ۔ اسے اس بات کا ڈر ہے کہ اگر یہ اعداد سامنے آ گئے تو اسے پریشانی ہوگی ۔ ریزرویشن کی مانگ بڑھ جائے گی ۔ کیوں کہ مردم شماری سے صرف او بی سی ذاتوں کی تعداد سامنے نہیں آئے گی ۔ وہ تو پہلے سے ہی ( 45 -46 فیصد) معلوم ہے ۔ بلکہ جو سامنے آئے گا وہ یہ کہ کس ذات کی تعلیمی سطح کیا؟ اس کی معاشی حالت کیسی ہے؟ ہندو، مسلمانوں کے درمیان ایک جیسا پیشہ کرنے والی ذاتیں کونسی ہیں؟ اور کیا انہیں مذہب کی تفریق کے بغیر یکساں مراعات حاصل ہیں؟ ذاتوں کی گنتی اس راز سے پردہ اٹھا سکتی ہے ۔
یہی ڈر ذات کی مردم شماری کی راہ کا روڑا ہے ۔ اعلیٰ طبقہ اپنی بالادستی (Supremacy) قائم رکھنے کے لئے ذاتوں کی گنتی کے خلاف نئے نئے مفروضے گڑھتا رہا ہے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ اسے جو مراعات حاصل ہیں اس پر کوئی بات ہو ۔ امریکہ جہاں گورے 80 فیصد ہیں وہاں میڈیا، صنعت و حرفت، انڈسٹری میں ان کی بالادستی اور سو فیصد جگہوں پر قبضہ کے خلاف بات ہو رہی ہے ۔ جبکہ وہاں ہر انٹرپرائز، دوکان چلانے والے کو جس پر دس لوگ کام کرتے ہیں ۔ ہر سال فارم پر لکھ کر حکومت کو دینا ہوتا ہے کہ دس لوگوں کے اسٹاف میں کتنے گورے، کتنے ہسپینک اور کتنے بلیک ہیں ۔ بھارت میں 20 فیصد 80 فیصد جگہوں پر قبضہ کرکے بیٹھے ہیں ۔ مگر اس پر بحث کرنے سے بچتے ہیں ۔ سماج میں یہ غلط فہمی بھی پیدا کی گئی ہے کہ ریزرویشن صرف دس سال کے لئے تھا لیکن یہ ابھی تک جاری ہے ۔ ریزرویشن کی وجہ سے کم صلاحیت کے باوجود ایس سی، ایس ٹی، او بی سی کو فوقیت ملتی ہے ۔ سرکاری ملازمتوں پر ان کا قبضہ ہو جاتا ہے عام لوگوں کے لئے جگہ ہی نہیں بچتی ۔ سچائی یہ ہے کہ صرف سیاسی ریزرویشن (ایم پی، ایم ایل اے) کا ہر دس سال میں جائزہ لیا جانا تھا ۔ لیکن کسی بھی سیاسی جماعت نے گزشتہ پچھتر سال میں اس کی ہمت نہیں کی ۔ رہا سوال کم صلاحیت والوں کے تقرر کا تو اسی فیصد کمزور طبقات پچاس فیصد جگہوں پر قسمت آزماتے ہیں اور بیس فیصد پچاس فیصد پر ۔ ایسی صورت میں کم صلاحیت والوں کو موقع ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کا فائدہ بھی انہیں بیس فیصد کو ملتا ہے ۔
بھارت دنیا کا اکلوتا ملک ہے جہاں کسی طبقہ کے لئے ریزرویشن کا انتظام کیا گیا ہے ۔ لیکن بحث اس پر ہو رہی ہے کہ اس کی گنتی کرنی چاہئے یا نہیں ۔ جو ملک کسی طبقہ کے لئے اگر کوئی قانونی انتظام کرتا ہے تو وہ اس کی گنتی کرتا ہے ۔ جیسے ملیشیاء میں چینی نژاد اور امریکہ میں بلیک ہیں ۔ بھارت میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے لئے قانون میں انتظام کیا گیا ہے ۔ اس کے لئے  ایس سی، ایس ٹی کمیشن، بیک ڈور کمیشن بنا کر نوکری اور تعلیم میں ریزرویشن دیا گیا ہے ۔ مگر گنتی نہیں کریں گے کتنا مضحکہ خیز ہے ۔ اندرا ساہنی معاملہ میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ہر دس سال میں ریزرویشن کا جائزہ لیا جائے کہ کون سی ذاتیں ریزرویشن کا فائدہ لے کر آگے بڑھ گئیں ۔ اس لحاظ سے بھی ذات کی مردم شماری ضروری ہے ۔ اس سے کریمی لیئر اور فائدہ اٹھانے والے خاندانوں کا بھی پتہ چل جائے گا ۔ ریزرویشن کسی طبقہ کو حکومت کا تحفہ نہیں ہے ۔ بلکہ یہ سماجی انصاف کی مانگ ہے ۔ مخالفین کو بھی اس کا استقبال کرنا چاہئے کیونکہ اس سے معلوم ہوگا کہ کسے کتنا فائدہ ملا، کون کتنا آگے بڑھا اور کسے اب ریزرویشن کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس مردم شماری میں اگر کوئی ذات ایسی نکلتی ہے جو جنرل کیٹیگری کے برابر یا اس سے اوپر ہے تو اسے ریزرویشن نہیں ملنا چاہئے ۔ ویسے ستر سال میں کوئی ایک ذات بھی ایسی نہیں ہے جو عام کیٹیگری کے قریب پہنچی ہو ۔ البتہ کچھ خاندانوں نے یقیناً ترقی کی ہے ۔ ایک خاندان کو ایک بار ریزرویشن کا فائدہ ملے اس کے لئے معقول پالیسی بننی چاہئے ۔ سماجی برابری کے لئے ریزرویشن ضروری ہے کافی نہیں ۔ اگر یہ انتظام نہ ہوتا تو ذاتیں اور بری حالت میں ہوتیں ۔ اس بیماری کو دور کرنے کے لئے کچھ اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
ذات وار مردم شماری کی مانگ بہت پرانی ہے ۔ 2001 میں واجپئی حکومت نے ذات کی مردم شماری کو منع کر دیا تھا ۔ 2010 میں پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے اس کی منظوری دی تھی ۔ بی جے پی نے بھی اس میں ووٹ کیا تھا ۔ 2011 کی مردم شماری میں ذاتوں کے اعداد جمع کئے گئے لیکن انہیں منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔ وزارت داخلہ میں موجود اعلیٰ ذاتوں کی لابی نے یہ کہہ کر پارلیمنٹ میں نہیں رکھا کہ اس ڈاٹا میں کمی ہے ۔ 2018 میں اس وقت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں بیان دیا تھا کہ ان کی حکومت اگلی مردم شماری میں ذاتوں کی گنتی کرائے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں موجودہ وزارت داخلہ میں وزیر مملکت نتیا نند رائے نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ملک میں ذات وار مردم شماری کی روایت نہیں ہے ۔ 2021 کی مردم شماری میں ایس سی، ایس ٹی کی ہی مردم شماری کرائی جائے گی ۔ بہار کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر اجیت شرما ذات کی مردم شماری کو اہم مانتے ہیں ۔ ان کے مطابق اس سے ریزرویشن پالیسی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور سماجی نفرت دور ہوگی ۔ سی پی آئی ایم کے اجے کمار کا کہنا ہے کہ اس سے پسماندہ ذاتوں کا استحصال روکے گا ۔ اس لحاظ سے ذات کی مردم شماری ملک کے حق میں ہے ۔ تیجسوی یادو نے اس مسئلہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرکزی حکومت ذاتوں کی گنتی نہیں کراتی ہے تو بہار حکومت کرناٹک کی طرز پر اپنے خرچ سے مردم شماری کر وا سکتی ہے ۔
برسراقتدار جماعت بی جے پی میں بھلے ہی او بی سی نظر آنے لگے ہیں لیکن غلبہ اعلیٰ ذاتوں کا ہے ۔ یہی مٹھی لوگ دہائیوں سے اقتدار، سیاست، عدلیہ، انتظامیہ، میڈیا، انڈسٹری اور وسائل پر قابض ہیں ۔ دوسری طرف بی جے پی کی سیاست مذہب اور ہندوتوا کے ایجنڈے پر ٹکی ہے ۔  ہندوتوا کا مطلب پورا ہندو سماج، جس کی حمایت حاصل کرنے کے لئے منڈل کے مقابلے اس نے کمنڈل شروع کیا تھا ۔ کمنڈل کی وجہ سے ہی اسے آج یہ مقام حاصل ہوا ہے ۔ ذاتوں کی مضبوطی سے مذہب کی سیاست کمزور ہوگی ۔ اس لئے بی جے پی ہر گز نہیں چاہے گی کہ سماج ذات کے نام پر نہ بٹے ۔ کیوں کہ اس کا فائدہ کاسٹ پالیٹکس کرنے والی جماعتوں کو ہوگا ۔ نتیجہ کے طور پر بی جے پی کی مذہب کی سیاست پھیکی پڑ جائے گی ۔ یہ اب ملک کے عوام کو سوچنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے ذاتوں کو گنے جانے کی مانگ کا ساتھ دیں یا پھر ایک جماعت کی سیاست کو بچائیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.