بے جا گرفتاریوں پر حکومت سے دو ٹوک گفتگو ہونی چاہیے۔

0
بے جا گرفتاریوں پر حکومت سے دو ٹوک گفتگو ہونی چاہیے۔
بےگناہ مسلمانوں کو جھوٹے الزامات میں پھسانے والے افسران کو کڑی سزا ہونی چاہیے
از۔ ذوالقرنین احمد
یو پی پولیس کا دہشت گرد مخالف دستہ ( اےٹی ایس)  نے حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب کو گزشتہ رات گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔  یہ بات ملت کیلئے باعث تشویش ہے کہ ایک ملی رہنما داعی اسلام انسانیت کے خیر خواہ اور ملت کا عظیم سرمایہ حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب کو غیر قانونی تبدیلی مذہب قانون کے تحت گرفتار کرلیا گیا ہے انکے ساتھ دیگر 4 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جس طرح گزشتہ مہینے جون میں عمر گوتم کو غیر قانونی طور پر تبدیلی مذہب کا جھوٹا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا تھا اور غیر ملکی اداروں سے فنڈنگ جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں اسی طرح کے جھوٹے الزامات کے تحت مولانا کلیم صدیقی صاحب کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملی قائدین اور مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ کھل کر مولانا کا دفاع کریں یہ کوئی اتفاق نہیں ہے بلکہ تبلیغ اسلام پر پابندی لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اور مشہور اسلامی مبلغین کو پابند سلاسل کرنے کی پلاننگ ہوچکی ہے۔ آر ایس ایس کے رہنما موہن بھاگوت ایک طرف سافٹ ہندوتوا کا مظاہرہ کر رہے ہیں مسلم رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں اور دوسری طرف فرقہ پرست بی جے پی اور آر ایس ایس مسلم مخالف ایجنڈے پر کام کرنے میں مصروف ہے۔ آج مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کے خلاف سخت احتجاج کریں ملی رہنماؤں کو چاہیے کہ عوام کے ساتھ زمین پر اتر کر فوری طور پر پولس اسٹیشن کا گھیراؤ کریں، اور حکومت سے دو ٹوک گفتگو کی جائے۔ اتنا ہی نہیں بی جے پی اور آر ایس ایس سے انکا موقف عوام میں ظاہر کرنے کیلئے آمنے سامنے پریس کانفرنس کے ذریعے پیش کرنے کیلئے آمادہ کیا جائے۔
کیونکہ ایک طرف سافٹ ہندوتوا کا کھیل کھیلا جاتا ہے دوسری طرف مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، پونے کے محسن شیخ سے لے کر آج تک ماب لنچنگ کا سلسلہ جاری ہے ، مسلم طلباء کے ساتھ اسکول ، کالجز، یونیورسٹی میں غیر منصفانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ فرقہ پرستوں کے حوصلہ اس قدر بلند ہوچکے ہیں کہ داڑھی ٹوپی والے مزدوری، سبزی پھیل فروشوں کو دیکھ کر انہیں اپنے علاقوں میں تجارت سے روکا جاتا ہے۔ ایک طرف ادبی مشاعروں،  کوی سمیلنوں، قومی یک جہتی کے پروگراموں میں ہندو مسلم بھائی چارے کے نعرے لگائے جاتے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر گھولا جاتا ہے۔ یہ دور رخی پالیسی نے مسلمانوں کو ہندوستان میں بےحد نقصان پہچایا ہے اور آج تک مسلم رہنماؤں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ ظلم و ناانصافی، تعصب، نفرت، فرقہ وارانہ فسادات سے قوم کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ یا کوئی ایسی مضبوط پالیسی تیار کی جائے جس سے مسلمان اپنے آپ کو ملک محفوظ محسوس کریں۔
بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس طرح سے قانون میں تبدیلی کی گئی ہے جس سے صرف اور صرف اقلیتوں اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جائے اور ملک میں مسلمانوں کا دائرہ کار کو محدود کیا جائے۔ دہشت گرد مخالف قانون میں تبدیلی بھی اسی لیے کی گئی ہے، اور یو پی میں غیر قانونی تبدیلی مذہب قانون کو بھی اسی لیے لایا گیا ہے۔ چاہے آپ قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنے مذہب کی تبلیغ کریں ، یا کسی غیر مسلم لڑکی کے مسلمان ہونے پر اس سے شادی کریں اس میں ٹارگیٹ پر مسلمان ہی ہوگے۔ اسی طرح اگر آپ مذہبی لٹریچر پڑھتے ہیں یا کسی بڑے داعی اسلام کی کتابیں آپ کے پاس ملتی ہے تو آپ کو دہشت گرد مخالف قانون کے تحت یو اے پی اے ،قومی تحفظ ایکٹ کے جھوٹی الزامات میں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ آپ کو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث بتاکر جیلوں میں بند کیا جاسکتا ہے۔ چاہے پولیس کے پاس پختہ ثبوت ہو یا نا ہو، جس میں 6 سے 12 سال تک کے ضمانت تک منظور نہیں کی جاتی ہے۔ پھر مقدمہ کورٹ میں پیش ہوتا ہے اور ایک طویل عرصے کے بعد آپ کو عدالت باعزت بری کرتی ہے۔ لیکن یہ بات سسٹم میں موجود اعلی افسران کے سمجھ میں نہیں آتی ہے یا عدالت اس پر نوٹس نہیں لیتی ہے کہ جن پولس افسران نے ایک عام انسان کو جھوٹے الزامات میں گرفتار کرکے ظالمانہ طور پر برسوں تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا تھا وہ کون ہے اور اس طرح سے غیر قانونی طور پر ظلم کیوں کیا گیا ہے۔
اگر عدالت اور ملک کا سسٹم اس بات پر غور نہیں کرتا ہے تو یہ شک کے دائرے میں آتے ہیں۔ کہ کہے نا کہی سسٹم کے لوگ اس میں ملوث ہے کہ مسلمانوں کو بے جا جھوٹے الزامات میں گرفتار کیا جائے اور پھر انکی جوانی اور قابلیت کو زنگ آلود کرکے باعزت بری کردیا جائے یہ کیسا انصاف ہے۔ جس سے ملک میں مسلمان کبھی بھی مضبوط اور مستحکم نا ہوسکے۔ جس جگہ مسلمان معاشی اعتبار سے مضبوط اور  مستحکم دیکھائی دے ایسے علاقوں میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرکے ہندو مسلم فسادات کروا کر، انکی تجارتوں کو نقصان پہنچایا جاتا ،ہے۔ مسلمانوں کی دوکانوں کو جلایا جاتا ہے۔  یہ سب کچھ اخبارات کی زینت بنتا ہے مسلمان افسوس کا اظہار کرتے ہیں ملی تنظیمیں تعمیری سرگرمیوں کو انجام دیتی ہے۔ جیلوں میں قید بے گناہوں کی رہائی کیلئے مقدمات لڑتی ہے۔ اور پھر انہیں بری کرواتی ہے۔ یہ سب  گزشتہ ستر سالوں سے جاری ہے۔ اور اب اس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ مسلم لڑکیوں کو پیار محبت کے چال میں پھسا کر مہنگے گفٹ دے کر، بہلا پھسلا کر مذہب تبدیل کروایا جارہا ہے کچھ دن ان کے ساتھ  گزار کر فرار ہوجاتے ہیں ۔ اور اگر کوئی مسلمان غیر مسلم لڑکی سے شادی کرتا ہے تو اس پر غیر قانونی مذہب تبدیلی قانون کے خلاف ورزی کا الزام عائد کرکے گرفتار کرلیا جاتا ہے۔
ملی رہنماؤں، قائدین کو یہ بات حکومت  سسٹم کے افراد، عدالت کے سامنے رکھنی چاہیے کہ آخر مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کا کھیل کب تک جاری رہے گا۔ اور آخر کیوں مسلمانوں کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا جاتا ہے۔ ملک ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ صرف مسلم نوجوانوں کو جب باعزت بری کرتی ہے تو پھر ان پولیس افسران اور سیکڑوں صفحات پر مشتمل جھوٹی چارج شیٹ تیار کرنے والے اہلکاروں پر کوئی کاروائی کیوں نہیں کی جاتی ہے۔ فیک انکاؤنٹر میں مارے جانے والے مسلم نوجوانوں کے مجرموں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی ہے‌۔ عدالت اس بات کا نوٹس کیوں نہیں لیتی ہے۔جبکہ ایسے سینکڑوں ہزاروں مقدمات ملک کی عدالتوں کے دفاتر میں موجود ہوگے جو گزشتہ ستر سالوں میں غیر منصفانہ طور پر بے گناہ مظلوم مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں گزارنی پڑی ہے۔ اور جنکی زندگیاں تباہ ہوچکی ہے۔ حکومت کا مؤقف جاننا ضروری ہے۔ اور عدالتوں کے ذریعے اس بات کا خلاصہ ہونا چاہیے کہ جن افراد کا ہاتھ اس طرح کے جرائم میں ہے جو بے قصور افراد کو پابند سلاسل کرتے ہیں ان پر کس طرح کی کاروائی کی جائے گی۔ کس طرح کا ایکشن لیا جائے گا۔ یہ بات سچ ہے کہ ہر جگہ کرپشن چلتا ہے اور نوکری بچانے کیلئے مختلف جگہوں پر ایسے مجرموں کی پشت پناہی کی جاتی ہے اور بڑی رقم آپس میں مل بانٹ کر لی جاتی ہے۔ تاکہ مقدمہ ختم کردیا جائے۔ لیکن اس کی جڑ تک نہیں پہنچا جاتا ہے۔ ملی تنظیموں جماعتوں کو چاہے کہ پریس کانفرنس کے ذریعے اس مدعے کو منظر عام پر لایا جائے۔ اور دو ٹوک گفتگو کی جائے۔ جب ان مجرموں کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے گا تب اس اسطرح کے جھوٹے الزامات میں گرفتاریوں پر قدغن لگائیں جاسکتی ہے۔ اس بات پر بھی زور دیا جانا چاہیے کہ ایسے مقدمات کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلایا جائے تاکہ ملزم اور مظلوم کی پہچان فوری ہوسکے۔ تاکہ پھر کسی بے گناہ مظلوم کی زندگی برباد نہ ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.