خواجہ یونس قتل معاملہ سرکاری وکیل کی تقرری میں ہونے والی تاخیر پر عدالت سخت برہم عدالت کے تبصرے سے سی آئی ڈی کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، گلزار اعظمی

0

ممبئی 22ستمبر
خواجہ یونس قتل معاملے میں وکیل استغاثہ کی تقرری میں ہونے والی تاخیر کا ممبئی سیشن عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 12سالوں سے ٹرائل سست روی کا شکار ہے اور اس میں مظلوم کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ یہ پولس کی ناکامی ہے۔
سیشن جج ڈاکٹر یو جے مورے نے کہا کہ لگاتار یاد دہانی اورنوٹس جاری کرنے کے باوجود سی آئی ڈی نے ابھی تک ٹرائل کے جلد از جلد مکمل کرنے کے لیئے کوئی اقدامات نہیں کیئے ہیں، سی آئی ڈی نے اس مقدمہ کو لیکر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ گذشتہ سال سی آئی ڈی نے وکیل استغاثہ کو فارغ کردیا تھا جس کے بعد انہیں فوراً کسی دوسرے سرکاری وکیل کی تقرری کرنا تھی لیکن ایک طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود ابھی تک سرکاری وکیل کی تقرری نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے مقدمہ التواء کا شکار ہے۔
اس ضمن میں خواجہ یونس کی والدہ آسیہ بیگم کی جانب سے سچن وازے اور دیگر تین پولس والوں کی ملازمت پر بحالی کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں دو پٹیشن داخل کرنے والی جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ خواجہ یونس کے قاتلوں کو سزا دلانے کے لیئے حکومت مہاراشٹر کتنی سنجیدہ ہے اس کا اندازہ سیشن جج کے تبصرے سے لگایا جاسکتا ہے۔یہ پہلی بارنہیں ہوا ہے کہ سیشن جج نے ایسا تبصرہ کیاہے اس کے باوجود سی بی آئی عدالت کے تبصروں کو نظر انداز کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق اسسٹنٹ پولس انسپکٹر سچن وازے، پولس کانسٹبل راجندر تیوار، سنیل دیسائی کی ملازمت پر بحالی کو ممبئی ہائی کورٹ میں سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی کے توسط سے چیلنج کیا گیا ہے، مقدمہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے  نیز مقدمہ پر جلد سماعت کے لیئے ہائی کورٹ کے رجسٹرار سے رجوع کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ23 دسمبر 2002  کو خواجہ یونس کو 2، دسمبر 2002 کو گھاٹکوپر میں ہونے والے بم دھماکہ کے الزام میں گرفتارکیا تھا جس کے بعد سچن وازے نے دعوی کیا تھا کہ خواجہ یونس پولس تحویل سے اس وقت فرار ہوگیا  جب اسے تفتیش کے لیئے اورنگ آبا دلے جایا جارہا تھا حالانکہ سی آئی ڈٖی نے سچن وازے کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے معاملے کی تفتیش کے بعد سچن وازے سمیت دیگر تین پولس والوں کے خلاف خواجہ یونس کو قتل کرنے کا مقدمہ قائم کیا تھا جو فاسٹ ٹریک عدالت میں زیر سماعت ہے۔
جمعیۃعلماء مہاراشٹر

Leave A Reply

Your email address will not be published.