من گھڑت رسم ورواج اور ان کی خرابی

0

مولانا ندیم احمد انصاری
تاریخ کا کوئی زمانہ رسوم ورواج کے اثرات سے خالی نہیں رہا، بلکہ ہر قبیلے ہرقوم اور ہر تہذیب میں اسے عمومی دستور العمل کی حیثیت حاصل رہی ہے، انبیاے کرام ؑنے جن شریعتوں کو متعارف کرایا، ان کا بنیادی مقصد انسانی معاشرے کی تہذیب تھا، ان شریعتوں میں بھی مروجہ رسومات کی قبولیت واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ یہاں تک کہ آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے جو آخری شریعت متعارف کرائی؛ ان میں بھی عرب کی متعدد پاکیزہ روایات کو شریعتِ اسلامی کا حصہ بنایا گیا ہےاور ان کی پاس داری کو موجبِ اجر وثواب بتایا گیا ہے۔[سیرۃ النبی]
اس کی بہترین مثالیں رسول اللہ ﷺ کے خطبۂ حجۃ الوداع میں ملتی ہیں، جس میں آپﷺ نے ایک طرف متعدد جاہلی رسموں کی بیخ کنی کی اورکئی نئی رسموں کی بنیاد ڈالی۔ آپ ﷺ نے عرصۂ دراز سے چلی آرہی سماجی تفریق، انتقامی کارروائی اورسودی لین دین کا خاتمہ کیا، جاہلی نظام میں غلام، یتامیٰ اور خواتین جیسے کمزور طبقوں کے حقوق متعین کیے اور تمسک بالکتاب والسنۃ کی تلقین کے ساتھ واضح کردیا کہ جو کام یا رسوم ورواج قرآن وسنت کے مطابق ہوں، انھیں اختیار کیا جائے گا اور ما بقی کو بالائے طاق رکھ دیا جائے گا۔
قاعدۂ کلیہ
مختصر یہ کہ جو رسمیں انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی کے لیے موزوں ومفید ہیں، اسلام نے انھیں اختیار کیا اور ان پر عمل آوری کی ترغیب دی، ورنہ ان کو ختم کر دیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒنے مکارمِ اخلاق کی تکمیل اور مزامیر کی تکسیر والی احادیث کے حوالے سے تہذیبِ اسلامی کی تشکیل کے اس بنیادی اصول کو واضح کیا ہے۔ [حجۃ اللہ البالغہ]اس سلسلے میں قاعدہ کلیہّ یہ ہے کہ جو امر شرعاً مطلوب و مقصود ہو اور اس میں مفاسد منضم ہو جاویں، تو اس امر کو ترک نہ کریں گے، خود ان مفاسد کا انسداد کریں گے، اور جو امر مقصود نہ ہو اس میں غلبۂ مفاسد سے خود اس امر کو ترک کر دیں گے۔[امداد الفتاوی جدید:3229]
رسموں کی خرابی
’رسم‘ کے معنی ’دستور و قاعدے‘ کے آتے ہیں، اس اعتبار سے فی نفسہٖ اس میں کوئی خرابی نہیں۔ خرابی اور برائی اُن رسوم و رواج میں ہے جو دین کے نام پر لوگوں نے خود گھڑ لی ہیں اور جس طرح جتنے منھ اتنی باتیں ہوتی ہیں، اسی طرح ہمارے معاشرے میں بھانت بھانت کی رسمیں پائی جانے لگی ہیں۔ غضب تو یہ ہے کہ عوام ان کا اہتمام فرض و واجب بلکہ اس سے بڑھ کر کرنے لگے ہیں۔ دینی فرائض چھوٹے تو چھوٹے، لیکن کوئی چھوٹی سے چھوٹی رسم رہ نہ جائے۔ رسموں کا تعلق صرف خوشی سے نہیں، غمی کے موقعوں پر بھی ایسی ایسی رسمیں گھڑلی گئی ہیں کہ جنھیں دیکھ کر شرمائے یہود!علماے ربانیین نے اپنے اپنے زمانے میں اس جانب توجہ مرکوز رکھی اور حتی المقدور عوام کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے۔ یہ سلسلہ برابر چلا آرہا ہے اور آج بھی اہلِ دل علما اپنی اس ذمّے داری کو تن دہی سے نبھا رہے ہیں، لیکن یا تو عوام میں خود ساختہ رسوم اپنانے کا خمار زیادہ ہے، یا اصلاح کرنے والوں کی رفتار سُست، یا طریقِ کار نا درست، کہ ہر جگہ رسوم و رواج گھر کیے جا رہی ہیں۔
علما کا ایک خاص فریضہ
جماعتِ تبلیغ کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒفرماتے ہیں کہ انبیا علیہم السلام کی امتوں کی عام حالت یہ رہی ہے کہ جوں جوں زمانۂ نبوت سے اُن کو بُعد ہوتا تھا، دینی امور (عبادات وغیرہ) اپنی روح اور حقیقت سے خالی ہو کر ان کے ہاں محض ’رسوم‘ کی حیثیت اختیار کر لیتے تھے اور ان کی ادایگی بس ایک پڑی ہوئی رسم کے طور پر ہوتی تھی۔ اِس گم راہی اور بے راہ رَوی کی اصلاح کے لیے پھر دوسرے پیغمبر مبعوث ہوتے تھے، جو اس رسمی حیثیت کو مٹا کر امتوں کو ’امورِ دین‘ کی اصل حقیقتوں اور حقیقی روحِ شریعت سے آشنا کرتے تھے۔ سب سے آخر میں جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو اس وقت کی جن قوموں کا تعلق کسی سماوی دین سے تھا، اُن کی حالت بھی یہی تھی کہ ان کے پیغمبروں کی لائی ہوئی شریعت کا جو حصہ ان کے پاس باقی بھی تھا، تو اس کی حیثیت بھی بس چند بے روح رسول کے مجموعے کی تھی۔ اِنھیں رسوم کو وہ اصل دین و شریعت سمجھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اِنھیں ’رسوم‘ کو مٹایا اور اصل دینی حقائق اور احکام کی تعلیم دی۔امتِ محمدیہ بھی اب اس بیماری میں مبتلا ہو چکی ہے، اس کی عبادات تک میں رسمیت آچکی ہے، حتی کہ دین کی تعلیم بھی‘ جو اس قسم کی ساری خرابیوں کی اصلاح کا ذریعہ ہونی چاہیے تھی، وہ بھی بہت سی جگہ ’رسم‘ سی ہی بن گئی ہے، لیکن چوں کہ سلسلۂ نبوت اب ختم کیا جا چکا ہے اور اس قسم کے کاموں کی ذمّے داری امت کے علما پر رکھ دی گئی ہے، جو نائبینِ نبی ہیں، اُن ہی کا یہ فرض ہے کہ وہ ضلال اور فسادِ خیال کی اصلاح کی طرف خاص طور سے متوجہ ہوں اور اس کا ذریعہ ہے ’تصحیحِ نیت‘۔ کیوں کہ اعمال میں رسمیت جب ہی آتی ہے جب کہ ان میں للہیت اور شانِ عبدیت نہیں رہتی، اور نیت کی تصحیح سے اعمال کا رُخ صحیح ہو کر اللہ ہی کی طرف پھر جاتا ہے اور رسمیت کے بہ جائے اُن میں حقیقت پیدا ہو جاتی ہے اور ہر کام عبدیت اور خدا ترسی کے جذبے سے ہوتا ہے۔ الغرض! لوگوں کو تصحیحِ نیت کی طرف متوجہ کر کے ان کے اعمال میں للہیت اور حقیقت پیدا کرنے کی کوشش کرنا علماے امت اور حاملانِ دین کا اس وقت ایک خاص فریضہ ہے۔ [ملفوظات حضرت مولانا الیاسؒ]
رسموں کے خاتمے کے لیے
بُری رسوم ورواج کے خاتمے کے لیے صحیح علمِ دین کا ہونا شرط ہے۔ جس معاشرے میں جہالت اور لا شعوری کا جتنا زیادہ غلبہ ہوگا، اس میں من گھڑت رسموں کے اثرات اتنے زیادہ ہوں گے۔ جس معاشرے میں صحیح علمِ دین ہوگا، اس میں رسمیں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔ بے جا رسوم و رواج کا دنیوی نقصان یہ ہوتا ہے آدمی کی زندگی تنگ ہو کر رہ جاتی ہے۔ جس طرح حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنے زمانے کی رسموں کو اپنی کتاب میں بیان کیا ہے،اسی طرح آج ہر عالمِ دین کی ذمّے داری ہے کہ اپنے اپنے حلقے میں بے جا رسم و رواج کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔حضرت تھانویؒ ’اصلاح الرسوم‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ’اس زمانے میں اکثر مسلمانوں کو دیکھا جاتا ہے کہ اپنی رسومِ اختراعیہ کے اس قدر پابند ہیں کہ فرض و واجب کے قضا ہو جانے کا غم نہ ہو، مگر ان رسوم میں رائی برابر بھی کمی نہ ہو، اور ان کی بہ دولت طرح طرح کی پریشانی اور تنگ دستی اور مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور دین و دنیا دونوں کھوتے ہیں، اور چوں کہ ان کا رواج عام ہے، اس لیے ان کی برائی بھی دل میں بس برائے نام ہے، بلکہ بعض امر تو بعض کے نزدیک اچھا، بلکہ ثواب کا کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناصحین سے الجھتے ہیں اور لغو شبہات و تاویلیں کر کے اپنے عمل کو حق سمجھتے ہیں۔ پھر بعض رسوم کو اعتقاداً معصیت بھی جانتے ہیں، گو عملاً اس کو ہلکا اور اپنے کو اس کے کرنے میں معذور جانتے ہیں، لیکن بعض کو بالکل مباح و حلال ٹھہرایا ہے، اور اس سے بڑھ کر یہ غضب ہے کہ بعض کو اطاعت و عبادت بنایا ہے۔ چوں کہ اس زمانے میں اکثر مسلمان شادی اور غمی وغیرہ کی سنی سنائی اور من گھڑت رسوم کے اس درجے پابند ہو گئے ہیں کہ ان کی ادایگی میں اگر فرض اور واجبات ترک ہو جائیں تو بلا سے ہو جائیں، مگر یہ رسوم اپنے معینہ و مقررہ اوقات ہی پر ادا ہوں، اور چوں کہ اس میں دنیا کا نقصان اور عاقبت کا خسران تھا، اس لیے مسلمانوں کو اس پر مطلع کرنا مقتضائے خیر خواہیِ اہلِ ایمان تھا‘۔
[مضمون نگار الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا کے ڈیرکٹر ہیں]

Leave A Reply

Your email address will not be published.