سینٹرل وسٹا پروجیکٹ میں آنے والی عبادتگاہوں پر عدالت نے مرکز ی حکومت سے مانگا جواب دہلی وقف بورڈ کی پٹیشن پر عدالت نے مرکز سے کہا:ان قدیم عبادتگاہوں کے تعلق سے حکومت کو کچھ سوچنا چاہئے،انشاء اللہ عبادتگاہوں پر آنچ نہیں آئے گی:امانت اللہ خان

0

نئی دہلی،21ستمبر: سینتڑل وسٹا پروجیکٹ پر دہلی وقف بورڈ کی جانب سے داخل کی گئی عرضی پر آج دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی جسمیں مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل مسٹر تشار مہتا پیش ہوئے جبکہ دہلی وقف بورڈ کی جانب سے ایڈوکیٹ مسٹر سنجے گھوس اور وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل ایڈوکیٹ وجیہ شفیق پیش ہوئے۔آج اس اہم معاملہ کی سماعت جسٹس سنجیو سچدیوا کی عدالت میں ہوئی۔اس دوران عدالت نے اپنے مشاہدہ میں پایا کہ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ میں آنے والی تمام عبادتگاہیں بہت قدیم ہیں اور حکومت کو ان عبادتگاہوں کے بارے میں کچھ سوچنا چاہیئے۔اس تعلق سے مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل مسٹر تشار مہتا نے عدالت سے ایک ہفتہ کا وقت مانگا۔جس کے لیئے اگلی تاریخ 29ستمبر مقرر کردی گئی ہے۔غور طلب ہیکہ مرکزی حکومت کے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت 6اہم اور قدیم مساجداور مذہبی مقامات آرہے ہیں جن کے تعلق عوام میں خاص کر مسلمانوں میں تشویش پائی جارہی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے ابھی اس تعلق سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے اس تعلق سے پہل کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی توجہ اس جانب دلانے کے لیئے ایک لیٹر وزیر اعظم حکومت ہند اور ایک لیٹر وزیر شہری ترقیات جناب ہردیپ سنگھ پوری کو ارسال کیا تھامگر جب ان مذہبی مقامات کے تعلق سے حکومت کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی تو امانت اللہ خان نے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ میں آنے والے 6مذہبی مقامات اور مساجد کی حفاظت کے تعلق دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا۔یہ مذہبی مقامات جنمیں مسجد ضابطہ گنج،مسجد کرشی بھون،مسجد سنہری باغ روڈ،جامع مسجد ریڈ کراس روڈ،مزار سنہری باغ روڈ اور نائب صدر جمہوریہ کی رہائش گاہ کی مسجد شامل ہیں۔دہلی وقف بورڈ نے اپنی عرضی میں عدالت عالیہ سے ان مسجد کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔آج جب اس تعلق سے اس اہم معاملہ پر عدالت میں سماعت ہوئی تو وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان مسلسل وقف بورڈ کے وکیلوں کے رابطہ میں تھے اور بذات خود اس معاملہ پر نگاہ رکھ رہے تھے۔سماعت کے لیئے اگلی تاریخ مقرر ہونے کے بعد امانت اللہ خان نے کہاکہ انشاء اللہ ان مساجد اور مذہبی مقامات پرآنچ نہیں آئے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.