حکم اُنہیں بھی تھا

0
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ایک طرف برقعہ،حجاب اور پردے کو لیکر دنیا پھر میں مسلمان ،مسلم تنظیمیں ،خواتین یہاں تک کہ کئی غیر مسلم حقوق انسانی کی تنظیمیں آواز بلند کررہی ہیں اور اس بات کو منوانے کی کوشش کررہے ہیں کہ حجاب ہمارا بنیاد ی حق ہے یا پھر پردہ کرنے سے ہمیں کوئی نہیںروک سکتا۔اس بات کو لیکر دنیا بھرمیں ہمیشہ تنازعہ ہوتے رہے ہیں کہ شرپسند اور غیر قوم کے لوگ مسلمانوں کو برقعہ یا پردہ کرنے سے روکتے رہے ہیں۔اسی بات کو لیکر کئی خواتین جیل کو تک گئیں اور کئی خواتین نے اپنا سرکٹوانا مناسب سمجھا ،لیکن پردہ نہ چھوڑنا کبھی گوارا نہیں کیا۔پردےکو لیکر مختلف طرح کی طنزیہ باتیں بھی ہوتی ہیں،اگر آنکھ یا دل کاپردہ رہے تو کافی ہے،لباس کاپردہ رہنا ضروری نہیں ،بعض خواتین کی سوچ ہے کہ سرکو لپیٹ کو کر بیٹھنے سے پردے کی پابندی ہوجاتی ہے،اگر یہی کچھ مناسب ہوتاتو اللہ اور اللہ رسولﷺنے مسلم خواتین کوپردے کاطریقہ قرآن وحدیث میں نہ بتاتے،لیکن آئے دن یہ دیکھاجارہاہے کہ بعض خواتین جو چار حروف پڑھ لیتی ہیں یا پھر معمولی نوکری پر فائزہوجاتی ہیں وہ برقعے کو ترقی کی راہ میںروکاٹ سمجھ کر ہٹا دیتی ہیں اور ان کاکہنا ہوتاہے کہ ہمارا اُٹھنا بیٹھنا تو غیروں کے درمیان ہوتاہے تو ایسے میں غیر ہم پر متعصبانہ نگاہیں ڈالتے ہیں۔لیکن جہاں تک بھارت جیسے ملک کی بات ہے یہاں پر اب بھی حالات اس قدر بدتر نہیں ہوئے کہ مسلم خواتین کو پردے سے روکاجارہاہے۔اب بھی کئی محکموں کے سربراہان،اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین یہاں تک کہ پولیس میں بھی کئی خواتین حجاب یا پردے کی پابندی کرتےہوئے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن بعض خواتین پردے کو روکاٹ قرار دیتی ہیں۔دراصل یہی ایک طرح کے چورہیں جو اپنی چوری کو چھپانے کیلئے غیروں کانام ڈالتےہیں۔ جس قدر قرآن میں نماز اوردیگر عبادتوں کاحکم دیاہے اسی طرح سے قرآن میں پردے کیلئے بھی مسلم عورتوں کو ہدایت یا حکم دیاگیاہے۔سورہ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے کہ”اے نبیﷺ اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دوکہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں،اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہوجایا کریگی،پھر نہ ستائی جائینگی،اور اللہ بڑا مغفرت کرنے والاومہربان ہے”۔اس آیت کریمہ میں کس طرح سے اللہ نے مسلمانوں کو واضح طو رپر حکم دیاہے،یہاں پرظلم سے بچنے کیلئے بھی پردے کا استعمال کرنے اور اپنے آپ کو مسلمان کے طو رپر شناخت کرنے کیلئے بھی پردے کا استعمال کرنے کا حکم دیاگیاہے۔اس کے علاوہ اللہ نے مسلم عورتوں کو مغفرت کا وعدہ بھی کیاہے اور مہربان ہونےکا یقین بھی دلایاہے۔جب اس طرح سے اللہ کی طر ف سے پردے کاحکم دیاہے تو وہ کونسا ایمانی جذبہ ہے جو مسلم عورتوں کو اس بات کے خدشے میں مبتلا کررہاہے کہ برقعہ پہننے سے انہیں نقصان پہنچےگا۔دنیاکے مختلف مقامات سے اکثرہم یہ خبریں پڑھتے رہے ہیں اور یہ باتیں سن رہے ہیں کہ باحجاب یا باپردہ خاتون یا لڑکی نے فلاں کھیل میں انعام لیا،فلاں امتحان میں کامیابی حاصل کی،فلاں محکمے میں نوکری حاصل کی،فلاں عدالت میں جج یا وکیل بن گئی،فلاں اسپتال میں باحجاب خاتون ڈاکٹر بن گئی یا نرس بن گئی۔ایسے واقعات ہر دن ہم پڑھ رہے ہیں سُن رہے ہیں،لیکن افسوس صد افسوس کہ جن عورتوں کیلئے پردہ فرض قرار دیاگیاہے وہ عورتیں پردے کودرد سمجھنے لگی ہیں۔دنیامیں کثیر تعدادمیں کتابیں ہیں،مگر غلاف صرف قرآن کو چڑھایاجاتاہے،دنیا میں بہت سی عمارتیں ہیں لیکن غلاف صرف خانہ کعبہ کو چڑھایاجاتاہے۔دنیا میں الگ الگ قوموں کی خواتین ہیں لیکن برقعہ پہننے یا پردہ کرنے والی خواتین صرف مسلمانوں میں سے ہیں۔ایسے موقع پر جب مسلم عورتوں کیلئے پردے کوفرض قراردیاگیاہے تو کیامسلم عورتیں اس سمت میں توجہ نہیں کرسکتی اور قابلِ افسوس وہ مردبھی ہیں جو اپنی بیویوں،بیٹیوں وبہنوں کو بے پردہ رکھنا اسٹیٹس سمجھتے ہیں اور ان خواتین کو پردے میں رکھنا پرانی بات سمجھتے ہیں۔لیکن نہ شیطان پرانا ہوانہ دین پراناہوا،نہ اللہ کاحکم پرانا ہوااور نہ ہی پرانا ہوگا۔جب قرآن میں پردے کیلئے اس قدرسختی سے تاکید کی گئی ہے تو مرد کون ہوتے ہیں جو اپنی بیویوں،بیٹیوں اور بہنوں کو بے پردہ کرتے جارہے ہیں۔بعض خواتین یہ کہتی ہیں کہ برقعہ پہننا ہی دین نہیں ہے بلکہ آنکھ ودل کا پردہ کرنا کافی ہے،اگر یہی بات ہوتی ہے تو اللہ کے رسولﷺنے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نابینہ سے پردے کرنے کاحکم نہ دیتے ،نہ ہی اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیت میں نبیﷺ کی بیویوں اور بیٹیوں سے مخاطب نہ ہوتا کے تم پردہ کرو۔کیونکہ نبی ﷺ کی بیویاں اور صاحبزادیاں دنیاکے تمام خواتین میں سب سے افضل ہیں۔اگر افضل خواتین کوہی یہ حکم دیاگیاہوتو عام خواتین کے تعلق سے کیا بات ہوگی۔مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پردے کا اہتمام کریں،حالانکہ وقتاًفوقتاً علمائے کرام اس سلسلے میں خطاب بھی کرتے ہیں لیکن اس خطاب کے باوجود مسلم خواتین میں عمل کی کمی ہے اور یہی کمی مسلمانوں کو تباہی کی جانب لے جارہی ہے۔جو عورتیں ولڑکیاں پردہ نہیں کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہمارا ذہن صاف ہے،تو اُن کیلئے بس اتنا ہی پیغام ہے کہ تمہاراذہن کتنا بھی صاف ہو،حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت حضرت محمد ﷺ سے زیادہ صاف نہیں ہوسکتاکیونکہ پردہ کرنے کا حکم اُنہیں بھی تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.