ستمبر بلڈکینسر کے خلاف بیداری کا مہینہ

0

 

ڈاکٹر ضمیر اعظمی
کیا آپ کو کینسر ہے ؟ اگر کوئی یہ سوال پوچھے تو آپ کا جواب یقیناً یہی ہوگاکہ ہم کوئی ڈاکٹر تھوڑی ہیں، جو یہ بتاسکیں کہ ہمارے جسم کے اندر کینسر کے موذی مرض نے اپنا گھر بنا لیا ہے۔مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ 70 سے 80 فیصد افراد کینسر کا خطرہ ظاہر کرنے والی اہم علامات کو نظرانداز کردیتے ہیں؟
ہم آگے تفصیل کے ساتھ آپ کو اس کی کچھ اہم علامات بتائیں گے ، لیکن اس سے پہلے یہ بات ذہن و دل سے نکال دیجئے کہ کینسر اب کوئی لا علاج بیماری ہے۔مطلب یہ کہ کینسر اب لاعلاج مرض نہیں رہا، مگر اس کا علاج انتہائی تکلیف دہ ضرور ہے، جبکہ ایک مخصوص اسٹیج پر پہنچنے کے بعد اس مرض کے خلاف کوئی دوا کارآمد ثابت نہیں ہوتی۔
ہاں ! یہ بات یا رکھئے کہ تمام بیماریوں کے مختلف مراحل ہوتے ہیں ،جن میں سے بیشتر بیماریوں کا پہلے یا دوسرے مرحلے میں ہی پتہ چل جاتا ہے ۔ مگر عموماً کینسر جیسے جان لیوا مرض کا علم زیادہ تر کیسوں میں با لکل آخری اسٹیج پرپہنچنے کے بعد ہی ہوپاتا ہے، جب تک یہ بیماری ہمارے جسم کے اندر پائی جانے والی قوت مدافعت (immunity system) پر حاوی ہوچکی ہوتی ہے۔ لہذا کوئی بھی علاج کار گر ثابت نہیں ہوتا اور ’’ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی ‘‘ کی مصداق ہم ہر لمحہ موت کے قریب بڑھتے رہتے ہیں۔
لیکن ہمارے اندر کینسر کی متعدد علامات اس مرض کے مختلف مراحل میں سامنے آتی رہتی ہیں۔ جسے عام طور نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ابتدائی مرحلے میں اگر کینسر کی علامات کو سنجیدگی سے لیاجائے اور کسی تجربہ کار اورماہر امراض کینسر(Oncologist
) سے رجوع کرلیا جائے تو اس مرض سے مکمل طور پر نجات مل سکتی ہے اور موت کے خطرے سے باہر نکلا جاسکتا ہے۔درحقیقت 2019 میں انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2018میں دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ 81لاکھ کینسر کے نئے کیسز سامنے آئے ،جبکہ اسی رپورٹ میں 96لاکھ مریضوں کی موت کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اموات کی شرح میں اضافے کی وجہ آبادی کا بڑھنا اور بوڑھا ہونا، ترقی پذیر ممالک میں قوموں کا صحت مند نہ ہونا اور بڑی معیشتوں کے ساتھ منسلک افراد کا خطرناک روایتی رہن سہن ہونا ہے۔ تاہم اگر اس مرض کی تشخیص ابتدائی مرحلے پر ہوجائے تو علاج آسان اور اس سے مکمل چھٹکارا پاناکافی حد تک ممکن ہوتا ہے۔خیال رہے کہ ہر سال بلڈکینسر کاعالمی یوم 28مئی کو،جب کہ ستمبر کا پورا مہینہ’’بلڈ کینسراوئیرنیس‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چونکہ رواں مہینہ ستمبر کا ہے اور بلڈ کینسر کی دو تنظیموں ’’دی لیوکیمیا فاؤنڈیشن‘‘(The Leukaemia Foundation)اور’’نیشنل فاؤنڈیشن فار کینسر ریسرچ‘‘(The National Foundation for Cancer Research (NFCR)) اشتراک سےہر سال دُنیا بَھر میں ستمبر کا پورا مہینہ ’’بلڈ کینسر اویئرنیس‘‘ خون کے سرطان کے تئیں بیداری کے طور پر منایا جاتا ہے،تاکہ ہر سطح تک اس مرض سے متعلق چیدہ چیدہ معلومات عام کی جاسکیں۔ لیوکیمیا ریسرچ فاؤنڈیشن کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دُنیا بَھر میں ہر تین منٹ بعد ایک فرد میں بلڈ کینسر تشخیص ہوتا ہے۔واضح رہے کہخون کا سرطان یا بلڈ کینسر آج کے دور میں ایک عام اصطلاح بن چکی ہے۔ یہ ایک بیماری ہے جو براہ راست خون کی روانی کے نظام پر اثر انداز ہوتی ہے ۔یہاں ہم بلڈکینسر کی وہ ابتدائی علامات بتارہے ہیں ،جو اس موذی مرض کی اہم قسم میں عام طور پر ابتدا میں ہی سامنے آتی ہیں۔اگر آپ صحت مند ہیں، مگر پھر بھی اکثر بخار رہتا ہے تو یہ خون کے کینسر کی ابتدائی علامت ہوسکتا ہے، اس کینسر کی ابتداءمیں جسم میں خون کے سفید خلیات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم کی انفیکشن کے خلاف لڑنے کی صلاحیت (immunity Power)متاثر ہوتی ہے۔اگر آپ کے جسم میں ہر وقت خارش کے نتیجے میں دانے ابھرتے رہتے ہیں، خاص طور پر ان جگہوں پر جہاں عام طور پر نہیں ہوتے، جیسے ہاتھ یا انگلیاں وغیرہ تو ڈاکٹر سے رجوع کریں، عام طور پر یہ علامت بھی خون کے کینسر کا خطرہ ظاہر کرتی ہے۔اسی طرح جسمانی توانائی میں کمی کا کبھی نہ کبھی ہر کسی کو سامنا ہوتا ہے، تاہم اگر ایسا ایک ماہ تک روزانہ ہو، سانس گھٹنے لگے جو پہلے کبھی نہ ہو تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتا ہے، خون کا کینسر ہر وقت تھکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے، اکثر کینسر نہیں بھی ہوتا۔ مگر ڈاکٹر سے معاینہ کروا لینا چاہئے کیونکہ یہ کسی اور مرض کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ کسی ماہر معالج (Oncologist) سے معاینہ کرالینے کے یہ اطمینا ن حاصل ہوسکتا ہے کہ آپ کے جسم میں خون کے سر طان (Blood Cancer)کی جو علامات پائی جارہی ہیں ، اس کی وجہ کوئی بیماری ہے اور کینسر کے موذی مرض سے پوری طرح محفو ظ ہیں۔
بلڈ کینسر کی تین اقسام ہیں
*لیوکیمیا
*لمفوما
*مائیلوما
لیوکیمیاایک ایسی بیماری ہے جس میں ہڈیوں کا گودا (بون میرو) مضر صحت یا ایب نارمل سفید خلیے بنانا شروع کر دیتاہے۔اس کینسر سے صاف خون کے خلیے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔اس مرض کے جراثیم خون بنانے والے ریشوں میں پنپتے ہیں جس کا ایک خاص دورانیہ ہوتا ہے ، انہیں ہم کینسر کے اسٹیجز کہتے ہیں ۔لِمفوما میں جسم کے مختلف حصّوں میں پائے جانے والے غدود یا لمف نوڈز (Lymph Nodes) متاثر ہوجاتے ہیں۔ لِمفوما کے زیادہ تر کیسز میںگردن کے غدود متاثر ہوتے ہیں۔ اس سرطان کا علاج کیمو تھراپی ہے۔ لیو کیمیا سفید خلیات کا سرطان کہلاتا ہے، اس کے علاج میں کامیابی کا تناسب لمفوما سرطان سےکم ہے۔پھر مریض مختلف پیچیدگیوں کا بھی شکار ہوسکتے ہیں۔ لیو کیمیا کی عام علامات میں ہڈیوں ، جوڑوں کا درد، کم زوری، پیلاہٹ، وزن میں کمی، غدود، تلّی اور جگر بڑھ جانا اور پیٹ پھول جانا شامل ہیں، تو لِمفوما میں غدودوں کی سوزش عام علامت ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ خون کےسرطان کی تقریباًآٹھ اقسام ہیں،جن میں سےبچّوں میں لیوکیمیا (Leukemia) عام ہے، جب کہ لِمفوما (Lymphoma) مائیلوما (Myeloma) مائیلائڈ ،خیال رہے کہ لیوکیمیا(Myeloid leukemia)بچّوں ، بڑوں دونوں میںپائے جاتے ہیں۔البتہ کرونک لمفو سائٹک (Chronic lymphocytic) سے 60سال سے زائد عُمر کے افراد متاثر ہوتے ہیں۔ ان اقسام کا موروثیت سے تعلق جانچنے کے لیے جین کا ایک مخصوص ٹیسٹ کیا جاتا ہے،جوکافی مہنگا ہے،حالاں کہ کینسر کے لئے مخصوص سرکاری اسپتالوں میں اس ٹیسٹ کی سہولیات موجود ہیں ۔ مگرآپ کا تعلق اگرغریب خاندان یا متوط سط طبقہ سے ہے توسرکاری اسپتالوں میں لیٹ لطیفی اور عملہ کی لاپروائی کی وجہ سے یہ مخصوص ٹیسٹ انتہائی آخری مرحلے میں کرایا جاتا ہے، جب تک مرض آخری اسٹیج تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے ازدحام اور ڈاکٹروں کی حد سے زیا دہ کمی بھی اس کا اہم اور افسوسناک سبب ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ لِمفوما اور لیو کیمیا میں کیا فرق ہے اوران کی علامات کیاہیں؟
لِمفوما میں جسم کے مختلف حصّوں میں پائے جانے والے غدود یا لمف نوڈز (Lymph Nodes) متاثر ہوجاتے ہیں۔ لِمفوما کے زیادہ تر کیسز میںگردن کے غدود متاثر ہوتے ہیں۔ اس سرطان کا علاج کیمو تھراپی ہے۔ لیو کیمیا سفید خلیات کا سرطان کہلاتا ہے، اس کے علاج میں کام یابی کا تناسب لمفوما سرطان سےکم ہے۔مگر ایک اس بیماری کا شکار ہوجانے کے بعد مریض مختلف پیچیدگیوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ لیو کیمیا کی عام علامات میں ہڈیوں ، جوڑوں کا درد، کم زوری، پیلاہٹ، وزن میں کمی، غدود، تلّی اور جگر بڑھ جانا اور پیٹ پھول جانا شامل ہیں، تو لِمفوما میں غدودوں کی سوزش عام علامت ہے۔لہذا اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ اگر مذکورہ علامات میں سے کچھ بھی آپ کے اندر پائی جاتی ہیں تو آپ کو فوراً کسی کینسر کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
(مضمون نگار اعظمی میڈیکل سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں)
برائے اشاعت

Leave A Reply

Your email address will not be published.