مغسلہ اموات

0
  نقاش نائطی
+966562677707
آجکل کے شہری گنجان آبادیوں میں یا کثیرالمنزلہ رہائشی عمارتوں میں، یا غرباء کی جھوپڑ پٹیوں میں،اور ایک روم، دو روم والے فلیٹو زندگی بسر کرنے والوں کے لئے،بعد اموات ان کے اعزہ و اقارب کی تغسیل و تکفین ایک مستقل مسئلہ اختیار کرچکی ہے۔ ایسے میں یہاں سعودی عربیہ کے ملکوں میں شہر کے مختلف حصوں کی چنندہ مساجد میں، بعد اموات مرد و زن میتوں کے لئے جدا جدا غسل و تکفین کا مناسب انتظام کیا جاتا ہے جہاں پر جدت پسند طریقے سے میت کو گرم و سرد پانی سے غسل دینے کا انتظام و غسل دینے والے ماہر عالم دین کی سرپرستی میں  مرد و زن غسالوں کی ٹیم و غسل میں استعمال ہونے والے  سنت رسول صلی اللہ وعلیہ وسلم کے مطابق بیری کے پتے اور کافور پسے ہوئے پوڈر کی شکل میں،  عطر و لوازمات کفن کپڑوں کے ساتھ مہیا کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ بعد موت میت کو، براہ راست ہاسپٹل سے یا ان کے گھر سے آخری سفر پر روانگی سے قبل، ان مساجد والے  غسل خانوں میں لایا جاتا ہے اور علماء کرام کی نگرانی میں ماہر ذکر و نساء غسالوں کے ہاتھوں، تغسیل ، تجہیز و تکفین بعد ، مسجد میں نماز جنازہ پڑھتے ہوئے سیدھے قبرستان تدفین کے لئے لے جایا جاتا ہے
ابھی کچھ سال پہلے ہمارے ایک نائطی دوست کی زوجہ کا  یہی کوئی سات ماہ سے کم کا حمل الجبیل ہاسپٹل میں، قبل از وقت نقاہت سے ضائع ہوا۔ ہم نے جب متوفی کم سن اولاد کی تدفین کے لئے ہاسپٹل والوں سے تقاضا کیا تو انہوں نے کہا کاغذی کاروائی کے بعد دوسرے یا تیسرے دن تغسیل اموات والی مسجد میں آخری رسومات کے لئے لے جایا جائیگا۔ اطلاع دئیے جانے پر وہاں پہنچ کر آخری رسومات میں شامل ہوجائیں۔
وقت مقررہ جب ہم اس تغسیل اموات والی جگہ پہنچے تو باقاعدہ ایمبولینس میں ایک تختہ پر سفید کپڑے میں متوفی معصوم کو لایا گیا۔ چونکہ ہم غسل دینے والے کمرے میں موجود تھے کچھ انچ لمبائی والی وہ جسامت اپنے پورے اعضاء بدنی کے ساتھ تختے پر موجود تھی۔ بنگالی عالم دین نے ہمارے سامنے باقاعدہ  جس طرح سے بالغ اموات کو غسل دیا جاتا ہے بالکل اسی طرح پورے سنن و آداب  کے ساتھ گرم و سرد پانی کے علاوہ بیری کے پتوں کے سفوف سے نہ صرف اسے مکمل غسل دیا، بلکہ معصوم متوفی  جان کے، ننھے ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال تک کرتے ہوئے اسے غسل دیا گیا، اور متوفی کے والد سے کہتے ہوئے، اس معصوم کا نام بھی رکھا گیا اور پورے آداب کے ساتھ  تہ در تہ تکفین کرتے ہوئےعام قبرستان کی قبر تدفین عمل میں لائی گئی
اس ننھی  جان کی یوں شریعت مطابق تغسیل تکفین و تدفین دئیے جانے کو دیکھنے کے بعد، ہمارے ذہن کے دریچوں میں وقت کی گرداب کے بھلا دیئے گئے،پچاس سال پرانے اس  واقعہ کو ہمارے  ذہن کے پردہ ثمین پر گردش کرنے شروع کیا۔نصف صد قبل کا واقعہ  ہمارے گھر کسی نساء کا چار سے سات ماہ کے دوران والا حمل ضائع ہوا، تولید قبل از وقت ہوئی تھی۔معصوم متوفی جان کو، ایک نام دے، اسےایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر ہمارے حوالے کیا گیا کہ ہم قبرستان کے کسی کونے میں چھوٹا سا گھڑا کھود، اسے دفن کردیں۔اور علم دین کی ماورائیت ہی کے سبب، اس ننھی جان کو، جو کچھ ہفتوں ہی صحیح ماں کے پیٹ کی زندگی جی چکا تھا، آداب اسلامی سے پرے، تغسیل تکفین کئے بنا ہی مسلم قبرستان کی مٹی کے حوالے کیا گیا تھا۔ بھارت کے غیر تعلیم یافتہ مسلمانوں کی اکثریت علوم دینیہ سے کس قدر بہر ور ہے یہ تو ہر ذی فہم اس کا بخوبی ادراک رکھتا ہے اس لئے اوقاف ادارے یا مقامی جماعت المسلمین ادارے کی طرف سے قبرستان کے متصل والی کسی مسجد میں رفاع  عام "تغسیل تکفین غسل خانہ” کا اہتمام کیا جائے تو  اس گنجان آبادی والے  موجودہ دور میں قوم و ملت کاایک بہت بڑا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ لاوارث مسلم آموات، بعد موت،انکی آخری رسومات شریعت مطابق ادا کی جا سکتی ہے
آج سائبر میڈیا پر شہر حیدر آباد کے صفا بیت المال رفاعی ادارے کی طرف سے تغسیل و تکفین اموات متحرک یا موبائل بس کا انتظام کئے جانے کی خبر نے کافی وقت پرانے ان دو واقعات کو قارئین کے سامنے رکھتے ہوئے، بھارت کے مختلف   شہروں گاؤں میں، شرعی اعتبار سے مسلم متوفیان کی سعودی عرب طرز تغسیل و تکفین انتظام کئے جانے کی ضرورت کو اجاگر کرنے کا موقع دیا ہے ۔ امید ہے بھارت کے مختلف گاؤں شہر میں، اس طرز جدت پسند پابند شریعت غسل اموات گھر تعمیر کئے جائیں گے
شہر یا گاؤں کے قبرستانوں کے متصل یا قرب قبرستان والی مسجدوں میں بعد اموات مرد و زن کے تغسیل  و تکفین کا مناسب انتظام کیا جائے اور مسجد کمیٹی یا اوقاف اداروں کی طرف سے ان مساجد میں مرد و زن غسالوں کی ٹیم متعین کر رکھی جائے تاکہ گاؤں شہر والے اپنے اعزہ و اقارب کی موت بعد، ان کے آخری سفر پر انہیں وداع کرنے سے پہلے قبل از وقت اطلاع کے ساتھ ان مغسلوں  کی خدمات حاصل کرسکیں۔مخیر احباب کے تعاون  سے فری یا مناسب معاوضہ وصول کر تجہیز و تکفین کی جاسکتی ہے
صفا بیت المال حیدر آباد کی طرف سے "آخری سفر” نامی غسل اموات سواری شروع کی گئی ہے جس میں ایک بس کو اندر سے سرد و گرم پانی سہولیات سے مزین،ایک متحرک یا موبائل غسل خانے کی شکل دی گئی ہے۔ شہر کے کسی بھی علاقے کے لوگوں کی طرف سے بلائے جانے پر یہ "مغسلہ اموات” موبائل سواری  تمام تر سہولیات سے مزین،  میتوں کے غسل و کفن مکمل نظم کے ساتھ جائے مقام موت پہنچ کر، میت کی تغسیل و تکفین بعد سفر آخرت، مستقر قبرستان تک لے جانے کا بہترین انتظام اس میں  کیا گیا ہے۔ اس کے لئے صفا بیت المال حیدر آباد قابل مبارکباد ہیں ان کی جتنی تعریف کی جائے اتنی کم ہے۔ لیکن متحرک یا موبائل اتنے بڑے مغسلہ کو شہر و گاؤں کی گلیوں تک رسائی ایک مستقل مسئلہ ہوا کرتی ہے اس لئے مسلم علاقوں کے لوگ اوقاف اداروں کی نگرانی میں شہر گاؤں کے قبرستان کے ایک کونے میں یا قبرستان کے قریب والی مسجد کے احاطہ میں جدید طرز پر تمام تر سہولیات کے ساتھ مغسلہ اموات تعمیر کیا جائے اور متوفیان کے اعزہ سے ایک متعین معاوضہ اصول کر تغسیل و تکفین اموات کی خدمات مسلم۔معاشرے کو مہیا کروائی جائیں تو فی زمانہ گنجان آبادیوں کے مسلم مکینوں کا ان کے اعزہ واقارب بعد اموات ایک اچھی خاصی الجھن سے انہیں نجات دلائی جاسکتی ہے ۔ اس سمت مسلم آبادیوں والے ذمہ داران مساجد و رفاعی ادارہ کمیٹی اس سمت توجہ دیں رو قوم و ملت کو بھرپور استفادہ کا موقع عنایت کیا جا سکتا ہے۔ واللہ النوافق بالتوفیق الا باللہ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.