کیا صرف معافی مانگنے سے چھپ جائے گا امریکہ کا جرم؟

0
ازقلم: محمد شعیب رضا نظامی فیضی
چیف ایڈیٹر: ہماری آواز، گولا بازار گورکھ پور
استاذومفتی: دارالعلوم امام احمد رضا، بندیشرپور سدھارتھ نگر
9792125987

دنیا بھر میں امن و سلامتی کے ٹھیکے دار بنے بیٹھے امریکہ نے ۲۹؍ اگست کو افغا نستان کے دارا لحکو مت کا بل میں ڈرون حملہ کیا تھا جس میں ۷؍بچوں سمیت کل ۱۰؍ لوگوں نے اپنی جان گنوا دی تھی ،اس وقت امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگن ) نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں مارے گئے دسوں شہری دشت گرد تھے اور آ ئی۔ ایس۔ ائی۔ ایس۔ سے مربوط تھے۔ کتنے تعجب کی بات ہے! کہ بچے دشت گرد ہیں ؟اور اس سے بھی بڑا مضحکہ خیز معاملہ یہ تھا کہ پوری دنیا بالخصو صی ہمارے ملک کی گودی میڈیا اور زعفرانی فکروں کے حاملین نے اس من و عن قبول بھی کر لیا اور  واویلا مچا کر اپنے ناجائز فکری باپ (امریقہ ) کی واہ واہی اور چاپلو سی میں چار چاند لگا دی اور پوری دنیا کو یہ پیغام دینے میں مصروف کار ہو گئے کہ امریکہ ہی ہے جو دہشت گردوں کو ٹھکانے لگا رہا ہے اور دنیا کو یہ بھی باور کرایاکہ مسلمانوں میں نہ صرف عاقل و بالغ بلکہ ان کے بچے بچے بھی دہشت گرد ہیں۔ غرض کہ ہر طرح کے ڈبیٹ کراکے ملکی اور عاملی پیمانے پر یہ فضا بنا گئی کہ دنیا میں اسلام و مسلما ن ہی دہشت گردی کا مرکز ہیں۔
مگر !’’حق وہ جادو ہے جو سر چڑھ کے بولتا ہے‘‘ کل اسی امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگن) کی طرف سے ایک حیران کن بیان آیا جس میں اس نے بتایا کہ’’ ۲۹؍ اگست کو کابل میں ہوئے ڈرون حملے میں مارے گئے سبھی شہری بے قصور تھے اور اس بات کی شک بھی نہیں تھی کہ وہ آئی۔ایس۔آئی۔ایس۔ سے مر بوط ہیں یا پھر ان سے امریکی فوج کو کوئی خطرہ ہے‘‘  تو ان زرخرید میڈیائی بھیڑیوں کے حواس باختہ ہو گئے کہ اب تو ہماری فضیحت ہو گئی ہے، اب کس منھ سے اس واقعہ کو اپنے فکری آقا (امریکہ) کی غلطی بتائیں؟  لہذا انھوںنے اس معافی والے خبر کی تشہیر اس انداز میں نہ کی جس انداز میں مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی مذ موم کو شش کی جا رہی تھی صرف ایک ہلکی لائن میں اس خبر کو نشر کر دیا گیا جبکہ کئی سارے نیوز چینل و اخباروں میں تو اس خبری تشہیر کا کوئی سراغ ہی نہ مل سکا۔
یہ تو رہی بات ہمارے ملک کی زر خیر میڈیا کی کارستانی کچھ یو نھیں عالمی میڈیا کا بھی حال رہا؛ ان میں بھی امریکہ کی اس بڑی غلطی کو دنیا کے سامنے لانے کی ہمت نہ ہو سکی، اور ہوگی بھی کیسے کہ ان کے فکرو خیال کا منبع ہی جو امریکہ ٹھر۔ا اور سب سے بڑی اور اہم بات یہ رہی کہ عالمی امن و سکون کے علم بردار سمجھنے والے نے ایسی غلطی بلکہ اتنا بڑا جرم کیا ہی کیوں؟ (پینٹاگن کے بیان کے مطابق)امریکی محکمہ دفاع کو شک بھی نہیں تھا کہ وہ لوگ دہشت گرد ہیں یا ان سے امریکی فوج کو کوئی خطرہ لاحق ہے پھر کس بنا پر ان پر حملہ کیا گیا؟ صرف اپنی طاقت، رعب ودبدبہ دکھانے کے لیے؟ یا صرف دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے کہ مسلما ن ہی دہشت گرد ہیں؟ یقینا ان دو وجہوں کے علاوہ کوئی تیسری وجہ بیان کرنا عقل سے ما وراء ہے کیوں کہ انسانیت کا سب سے بڑا قانون اور دستور یہ ہے کہ ۱۰؍ مجرم سزا پانے سے رہ جائیں مگر کسی ایک بے گناہ کو (بے وجہ) سزا نہ دی جائے۔ مگر ان سب کے باوجود امریکی فوج نے تابڑ توڑ حملہ کر کے ان دس بے قصور لوگوں کو ما ر گرا یا اور اب صرف معافی کا ایک بیان دے کر اپنے جرموں کو چھپانا چاہتا ہے!!! کیا اس کے معافی سے حملہ میں ہلاک شدہ لوگوں کی جانیں واپس آجا ئیں گی؟ یا ان کے اہل خانہ کو اس معافی سے کوئی معاشی سہارا مل جا ئے گا؟ یا پھر دنیا بھر میں مسلمانوں کے ئیں پھیلائی جا رہی دہشت گردی نامی نفرت کا خاتمہ ہوگا؟ یہ سوال اس لیے کیئے جارہے ہیں کہ ماضی میں بہت سارے واقعات ایسے ہی تھے جن میں قصوروار مسلمان نہیں تھے بلکہ زبر دستی انھیں قصور وار بتاکر دشت گرد قرار دے دیا گیا اور ان کی ان کے اہل خانہ کی زندگیاں اجیرن بن گئیں اور اسلام و مسلمین کے پاک دامن پر جو دھبّہ لگا سو الگ۔۔۔۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.