تعلیم ہی تمام مسائل کا حل ہے ۔ ہم کوشش کریں کہ اپنے اور قوم کے بچوں کی تعلیم پر دھیان دیں۔ حسن چوگلے

0

بروز منگل ۱۴؍ستمبر ۲۰۲۱؁ ایک ویبنار کا انعقاد عمل میں آیا۔’’ سرسید ایجوکیشنل ریولوشنل مشن(SSERM) : مہاراشٹر شاخ کی افتتاحی تقریب‘‘ عنوان کے تحت منعقدہ اس ویبنار میں مہاراشٹر کی اہم تعلیمی شخصیات کی شرکت نے ویبنار کی افادیت میں چارچاند لگا دیئے۔ ویبنار کی صدارت محترم حسن چوگلے(دوحہ، قطر) فرما رہے تھے۔
SSERM مہاراشٹر شاخ کے کنوینر اشفاق عمر نے قرأت پیش کی اور عمدگی سے مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ویبنار کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے صدف نسیم ، ڈائرکٹر SSERMنے مشن کاتفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے مشن کی اب تک کی کاروائیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔پرائم گیسٹ الحاج نسیم الدین صاحب،چیئرمن SSERM نے سرسید مشن کی مزید تفاصیل حاضرین کے سامنے پیش کرتے ہوئے اپنے عزائم پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس کے بعد سوال جواب کے سیشن میں صدف نسیم صاحبہ نے تمام سوالوں کے تفصیلی جوابات دیئے۔
پرائم گیسٹ ڈاکٹر شیخ عبداللہ (انجمن اسلام، ممبئی) نے اپنی مخاطبت میں اس بات پر زور دیا کہ اقتدار والی تعلیم موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگر صاحبانِ ثروت توجہ دیں تو بہت سارے طلبہ مقابلہ جاتی امتحان میں کامیاب ہوسکتے ہیں جو ہمارے لیے ترقی کے راستے کھول سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالکریم سالار(جلگاؤں) نے واضح الفاظ میں کہا کہ موجودہ نامساعد حالات ہمیںروکنے کے لیے نہیں ہیں بلکہ ہم کو آگے بڑھنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ڈاکٹر وقارالحق خان(کھام گاؤں) نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیاکہ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری پرائمری سطح سے ہی ہونا چاہئے تاکہ بچوں کی بنیاد مضبوط ہو اور وہ ترقی کرسکیں۔ڈاکٹر زبیر ندیم (اکولہ) نے ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ UPSC اورMPSC کے ساتھ اسٹاف سیلیکشن امتحانات پر بھی محنت کرنا چاہئے تاکہ ہمارے زیادہ سے زیادہ طلبہ ان سروسیز میں جا سکیں۔حاجی شفیع پٹیل(کولھاپور) نے کہا کہ اگر قوم کا ہر فرد اگر ایک روپیہ بھی جمع کرے تو جمع ہونے والی خطیر رقم سے اہم ترین تعلیمی اقدامات ممکن ہیں جو قوم کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔ظفر احمد خان (ناگپور) نے زور دیا کہ اگر ہم نے اپنے بچوں کو بنیادی تعلیم کے دور میںہی یا پانچویں سے دسویں تک کے درمیان ان کو معیاری تعلیم دے دی اور بنیادی تصورات واضح کردیا تو ہمارا طالب علم کسی بھی مقابلہ جاتی امتحان کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔مرزا سلیم بیگ (اورنگ آباد) نے ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب کوشش کرنا ہوگا کہ ہمارے بچے بڑی بڑی کمپنیوں میں جگہ پائیں اور مصنوعی ذہانت کے میدانوں میں کوشش کریں۔ صدرِ ویبنار حسن چوگلے صاحب نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے دو اہم باتوں کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے سماج میں لائبریریوں کا جال بچھانے سے متعلق بہت اچھی بات کہی کہ موجودہ وقت میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹکنالوجی نے ایک انقلاب برپا کیا ہے اور اس کی وجہ سے اب عظیم الشان لائبریری تعمیر کرنےکی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک کمرے میں چند کمپیوٹر رکھ دیے جائیں تو کروڑوں کتابوں تک رسائی ممکن ہے۔ انہوں نے فلاحی پرائیوٹ اسکولوں کا تصور پیش کیا جہاںفیس بھی ہو مگر اسی فیس میں چیریٹی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے نصف بچوں کو فری تعلیم بھی دی جاسکے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سماج کے متحرک افراد کو اسکولوں اور اساتذہ سے رابطے میں رہنا چاہئے تاکہ تعلیم کا معیار بلند ہوسکے۔
ویبنار میں مولانا حذیفہ وستانوی، کلیم صاحب (بھوپال)، اویس قادری(تلنگانہ)کمال مانڈلیکر،سرفراز نواز خان، یعقوب الرحمن، مشیر انصاری، تبسم ناڈکر، شاہتاج خان، واثق نوید، ایڈوکیٹ عزیر، ڈاکٹر پیش امام نذیر(تامل ناڈو)، احمد ایوبی اور مصطفیٰ برکتی سمیت کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.