یہ پانچ سال دھوکہ دہی اور نام بدلی کا نتیجہ ہے!

(کہ: کہیں کا فلائی اوور اور کہیں کی بلڈنگ ہے)

0
(محمد قاسم ٹانڈؔوی=09319019005)
ریاست اترپردیش سمیت دیگر چار اور ریاستوں کے اسمبلی الیکشن کے انعقاد کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں، سبھی پارٹیوں کے سربراہان اپنے اپنے کارکنان کو مستعد رہنے اور انتخابی مہم میں تن من سے ڈٹنے اور انتخابی تشہیر میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی تاکید کرنے لگے ہیں، ساتھ ہی سیاست کے بازی گروں کا دل بدل ہو کر الیکشن سے قبل ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی کی رکنیت اختیار کرنا اور ووٹ کاٹنے والے گروہ کا بھی میدان سیاست میں کودنے والا مذموم عمل بھی جاری ہے۔ اعلی اور مرکزی سطح کے لیڈران کا عوام سے روبرو ہونا، جوان اور کسان کے گھر جاکر ملاقات کرنا، کھیت کھلیان پر کام کرتے مزدوروں سے مل کر ان کے مسائل کے حل کرنے اور انہیں مستقبل کے سنہرے خواب دکھانا، پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواتین کے تحفظ اور ہر ایک کو مساوی حقوق فراہم کرانا نیز فرقہ وارانہ فسادات پر روک تھام کر ماحول میں شانتی پیدا کرنا اور تمام طبقات و مذاہب کے ماننے والوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے جیسی باتیں اور عوامی سطح پر اپنی پہچان بنائے رکھنے والا عمل بھی ویسے ہی شروع ہو چکا ہے جو انتخابات کے وقت تمام پارٹیاں اور اس کے ورکرز کرتے آئے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر لمبے چوڑے اشتہار اور چوک چوراہوں پر آدم قد تصاویر کے ساتھ اپنے دور اقتدار کی حصولیابی پر مشتمل رنگین ہولڈنگ اور چمکدار بینرز کا آویزاں کرنے والا کام بھی کئی ماہ پہلے سے ہو رہا ہے۔ اور جیسے جیسے الیکشن کا زمانہ قریب سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے، ویسے ویسے اشتہاری مہم میں تیزی پیدا کر عوام کا دل جیتنے اور ان کو بہکانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جس کا تازہ ترین ثبوت برسر اقتدار یوپی حکومت کا جھوٹ فریب سے پُر اس کی طرف سے جاری کردہ وہ اشتہار ہے، جس میں اس نے اپنے ترقیاتی کاموں کا ڈھنڈھورا پیٹنے کےلئے کہیں کی خوشنما بلڈنگ اور کہیں کا جدید شاہکار پر مبنی فلائی اوور چھاپ کر عوام کے غم و غصہ کو دبانے اور ان کا ووٹ حاصل کرنے کا مکروہ حربہ اپنایا ہے۔ ویسے جتنی چھل کپٹ، دھوکہ دہی اور جھوٹی سچی کہانیاں گھڑ کر عوام کو بےوقوف بنانے کا عمل ان دو حکومتوں میں ہو رہا ہے، اتنا کسی دور حکومت میں نہیں ہوا اور نہ آئندہ کسی حکومت سے ایسی امید کی جاسکتی ہے۔ جن باتوں اور کاموں کو لےکر ان دو حکومتوں کی تاریخ یاد رکھی جائےگی؛ شاید ہی کسی اور حکومت کی ایسی سیاہ تاریخ مرتب ہو اور لوگ انہیں جوکس اور لطیفوں کی شکل میں یاد کرنے کا التزام کریں؟ اور ان تمام باتوں کا مقصد ہے اقتدار میں دوبارہ بآسانی واپسی کرنا۔ مگر اقتدار کی یہ واپسی اتنی آسان ہے نہیں جتنی وہ سمجھ رہے ہیں یا ریاستی عوام کو جس طرح سے وہ مسلسل بےوقوف بناتی آ رہے ہیں۔ اس لئے کہ ابھی عوام ہمیشہ کی طرح ہر آنے والے لیڈر و رہبر کے زبانی وعدے اور کھوکھلے نعرے سننے پر اکتفا کئے ہوئے ہے؛ اور آگے اسے کیا کرنا ہے یا کس کے حق میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہے اور کس کے سر پر اقتدار کا تاج سجانا ہے؟ یہ سب اس نے ابھی طے نہیں کیا ہے اور ان سب کو عوام نے آنے والے وقت کےلئے چھوڑ رکھا ہے۔ ویسے عوام کو اب اچھے بھلے کی تمیز ہونے لگی ہے اور اسے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ کون کام کرکے بولتا ہے اور کون بغیر کام کئے ہی ترقی اور وکاس وکاس چلاتا پھرتا ہے؟ یوپی کی موجودہ حکومت نے سوائے نام بدلی اور مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینے کے کوئی نمایاں کام اور عوامی بہبود پر مبنی کام نہیں کیا ہے، جس سے کہ یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی واپسی کے دروازے قریب قریب مسدود ہو چکے ہیں۔ جیسے ہی اس کی حکمرانی کے  پانچ سال پورے ہوں گے، ویسے ہی اس کے اقتدار کا سورج غروب ہو جائےگا، اور ہمیں امید ہے کہ اس ریاستی غروب کا اثر اس کےلئے مزید پیچیدگی اور مشکلات کو جنم دینے کا باعث ہوگا اور جس طرح وہ اب تک جھوٹ فریب اور عوام کو نت نئے انداز سے دھوکہ دینے سے باز نہیں آ رہی ہے یا جس طرح اس کی پوری کی پوری کابینہ روز اول سے عوام کو بہکانے میں لگی ہے، اس ریاستی الیکشن کے نتائج اور ملنے والی ہزیمت و شکست کا خمیازہ اسے مرکزی الیکشن میں بھی بھگتنا پڑےگا۔
دوسرے دیکھنے میں یہ بھی آ رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے عوام کے رخ اور مزاج کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور ان کے ووٹ سے اپنی پارٹی کی جھولی بھرنے کےلئے ملی جماعتوں کے سربراہان اور مذہبی قائدین سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے اور باقاعدہ انہیں پروگراموں میں شرکت کرنے اور شریک رہنے کی دعوت دی جارہی ہے اور ہمارے یہ بھولے بھالے مسلم قائدین بڑی فراخ دلی اور گنگا جمنی تہذیب کا حوالہ دے کر شرکت کر بھی رہے ہیں، صرف شریک محفل ہونے کی دعوت و اجازت ہے، نہ انہیں وہاں بولنے کا موقع دیا جائےگا اور نہ ہی کوئی انتخابی مفاہمت اور قوم کی بہتر پالیسی کا کوئی مدعا رکھنے دیا جائےگا۔ جس کا صاف مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہر سیاسی پارٹی کی نظر اسی پر ٹکی ہوئی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کا کھیل کھیل کر ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کا رخ اور مزاج کو بدلنے میں کسی طرح کامیاب ہو جائے اور ہمارے اقتدار کی  راہ ہموار و آسان ہو جائے؛ خواہ اس کےلئے مبلغین و دعاۃ کا سہارا لینا پڑے یا چاہے ملی اور سماجی اعتبار سے اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کو اونے پونے داموں خریدنا پڑے، بہر صورت ووٹ مسلمانوں کا چاہئے چاہئے! اس موقع پر ہم اپنے مذہبی رہنماؤں اور سماجی شخصیات سے یہی کہیں گے کہ وہ بھرپور سیاسی بصیرت اور ملی حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے اہم فیصلہ لیں اور غیر ضروری کانفرنس یا ذاتی مفاد کے حصول کےلئے بلائی گئی نشستوں میں جانے سے گریز کریں۔ ہمارے پیش نظر صرف اور صرف ملی مسائل اور عوامی مفاد ہونے چاہئے۔ اگر پارٹیاں ان کے حل اور مفاد کی یقین دہانی کےلئے گفت و شنید کرتی ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ ان کے خلاف پالیسی اور لائحہ عمل مرتب کرنے والے لہجہ میں بات کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.