مالدار مسجدیں۔غریب امام

0

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔

یونیورسٹیوں میں تنخواہیںبہت ہی بڑے پیمانے پر دی جاتی ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یونیورسٹیاں ایسی نسلوں کو تیار کرنے والے مراکز ہوتے ہیں ،جہاں سے ملکوں اور قوموں کی قیادت وہ نمائندگی ہوسکے۔ یہاں درس دینے والے اساتذہ یا فیکلٹیس غربت ولاچارگی کا شکار نہ ہو، اپنی ذمہ داری کو بخوبی ادا کرسکے اور کسی کے سامنے محتاج نہ ہوتے ہوئے، بغیر کسی دوسرے لالچ کے اپنی ذمہ داری کو نبھائیں۔یہ بات ہے یونیورسٹی کی جہاں پر اساتذہ کا احترام کیا جارہا ہے اور یہاں کے مدرسین کو قوموں کا معمار مانا جارہا ہے۔ لیکن دوسری طرف مسلمانوں کے علماء ، امام اورمعلمین کی بات کی جائے تو افسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ علم حاصل کرنے میں اورپوری زندگی کا بیشتر حصہ علم بانٹنے میں ، درس وتدریس کی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ، امامت ، خطابت کرنے میں ،مسجدوںکی پاکی صفائی سے لیکرفلاح کی جانب پکارنے تک کی ذمہ داری اٹھانے والوں کو تنخواہ کے نام پر کسطرح سے امت کا بڑا طبقہ انہیں ذلیل کررہا ہے ۔ اسکی مثال شاید ہی کہیں ملتی ہے۔ سوشیل میڈیا پر اکثر کچھ اشتہارات آتے ہیں ، جس میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ موذن کی ذمہ داری کو انجام دینے کیلئے حافظ کی ضرورت ہے۔ ایسا ہی اشتہار جب ہماری نظروں سے گذرا تو ہم نے اس نمبرپر رابطہ کیا تو وہاں سے جواب آیا کہ ہم تنخواہ 10 ہزار روپئے دیںگے موذن کو اذان دینے سے آدھاگھنٹہ قبل مسجد میں آنا ہوگا اورنماز ہونے کے آدھا گھنٹا بعد تک مسجد میں رہنا ہوگا۔قیام وطعام کا انتظام مسجد کے ذمہ داروں کی ذمہ داری نہیں ہوگی، اپنے طور پر کرنا ہوگا۔ کوئی چھٹی نہیں ہوگی، پاکی صفائی کا کام بھی موذن کوہی کرنا ہوگا۔ ہر ماہ محلے میں چندہ کرنے کی ذمہ داری بھی موذن کی ہوگی۔ 10 ہزارروپئے کو اگر 30 دنوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تو اوسط تنخواہ 333روپئے ہوگی۔ یہی تنخواہ اگر صفائی والے کی تقرری پر دی جاتی ہے تو4 ہزارروپئے تنخواہ طئے کرنی ہوگی،اگر کیبل کی فیس کی وصولی کیلئے جاتا ہے تو اس کا مالک اُسے کم ازکم6 ہزار روپئے کی تنخواہ دیگا اور اگر کوئی مزدور دن کی مزدوری کے حساب سے کام کرنے پہنچتاہے تو اُس کی کم ازکم تنخواہ فی دن700 سے900 روپئے ہے، تو اوسطاً اُسے ماہانہ21 ہزار سے27 ہزارروپئےکی تنخواہ ملے گی۔اب سوال یہ ہے کہ ہمارے موذن ہو یا امام کس کیٹگیری میں آتے ہیں جنہیں پوری قوم مل کر کھلونا بنا رکھی ہے؟مسجد میں ایک لاکھ روپئے کا جھومر لٹکایاجاتاہے اور موذن کی تنخواہ10 ہزار روپئے دی جاتی ہے،مسجد پر50 فٹ اونچامینار دکھائی دیتاہے اور امام کی تنخواہ15 ہزارروپئے دی جاتی ہے۔جب پوچھاجاتاہے تو کہتے ہیں کہ امام کو اوپر کی کمائی ہے،موذن کو نیچے کی کمائی ہے،مطلب یہ کہ امام گھر گھر جاکر بچوں کو درس دیکر کمائی کرلیتاہےاور موذن کو لوگ ہدئیے دئیے جاتے ہیں۔مگر کیا کبھی کسی نے سوچاہے کہ جتنے پیسے اوسطاً ہم اپنے بچوں کو چاکلیٹ ،آئس کرئم کیلئے خرچ کرتے ہیں،اُتنے پیسے موذنین کو دئیے جاتے ہیں ،اگر مساجد کے ذمہ داران علماء وموذنین اور مدرسین کو اچھی تنخواہ،اچھی سہولت دینگے تو وہ اوپرنیچے کی کمائی کیلئے کیوں جائینگے؟۔کونسی بڑی بات ہے کہ امام اور موذن کو اچھی تنخواہ نہیں دی جاسکتی۔جب قوم کے پاس کروڑوں روپیوں کی مساجدہیں اور سال میں ایک دفعہ آکر خصوصی بیانات دیکر جانے والوں کو لاکھوں روپیوں کا ہدیہ و نظرانے دئیے جاتے ہیں تو محلے کی مسجدکے امام وموذنین کے ساتھ اس طرح کاتعصب کیوں؟۔مسجدکے صدر کا بیٹا،پرائیوئٹ اسکول میں پڑھے اور امام کا بیٹا گورنمنٹ اسکول میں پڑھے،مسجد کا سکریٹری بیمار پڑ جائے تو نجی اسپتال اور امام بیمار پڑ جائے تو سرکاری اسپتال۔ایسا تعصب کیوں؟۔حالات اگر واقعی میں بدلنے ہیں ،علماء کو اُن کی ذمہ داری دیکر اُن سے واقعی میں کام لینا ہو،اُنہیں کسی کامحتاج نہ بنا کر اُن کی ذمہ داری اداکرنے کاموقع دینا ہو تو اُنہیں اچھی تنخواہ دی جائے،سہولت دی جائے،تب جاکر قوم کے حالات بہتر بنانے میں وہ اہم کردار اداکرسکتے ہیں۔عیسائی پادری کی بات کی جائے یاپھرکسی مٹھ کے سوامی کی،اُنہیں وہ تمام سہولیات وتنخواہیں دستیاب ہوتی ہیں،جس کی وہ توقع ہی نہیں کرتے،لیکن ہمارے یہاں علماء وموذنین تو ڈی گروپ ملازمین سے کم تنخواہ لینے والے لوگوں میں سے ہیں۔مسجد کے صدروسکریٹری کو چھوڑئیے،کیا عام مصلی یہ سوال نہیں کرسکتاکہ امام کو کیا تنخواہ دی جارہی ہے،موذن کو کیا تنخواہ مل رہی ہے،اگر کم مل رہی ہے تو کیوں کم مل رہی ہے،کیوں زیادہ نہیں کی جاسکتی ہے؟ہم نے تو کئی مسجدوں کے اکائونٹس بیالنس کے تعلق سے یہ بھی سناہے کہ وہاں لاکھوں روپئے موجودہوتے ہیں،لیکن ٹرن اوور 50 ہزار روپئے کا ہی ہونا چاہیے،جس میں امام کی تنخواہ،موذن کی تنخواہ،کرنٹ و پانی کا بل اور چند اِدھر اُدھر کے خرچ کیلئےپیسے۔سوال یہ ہے کہ کیا مسجدوں کو مالدار مسجد بنانے کی دوڑ لگی ہے؟خدا تو مالداری پسندنہیں کرتاتو اُس کے گھر کے اکائونٹ کو کیوں مالدار بنایاجارہاہے۔ –

 

9986437327

– EDITOR AAJ KA INQALAB

Leave A Reply

Your email address will not be published.