غزل 

0
 پیاسا پنچھی آکے وہاں پہ ٹھہرا ہے
دور تلک صحرا ہے اور بس صحرا ہے
جب سے خزاں نے دستک دی ہے گلشن میں
ہر اک پھول کا چہرہ کتنا اُترا ہے
جھوٹوں اور مکّاروں کی اس دنیا میں
جو سچّا ہے سب کا دشمن ٹھہرا ہے
 بچھڑے اس کو ایک زمانہ بیت گیا
دل پر اب تک زخم بہت ہی گہرا ہے
جو جھرنا ہے وہی شور مچاتا ہے
دیکھو ساگر شانت کتناٹھہراہے
ڈوبتے ڈوبتے بچ کر آیا جو عبّاس
اُس سے پوچھو دریا کتنا گہرا ہے
عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ ،پنجاب
رابطہ 9855259650

Leave A Reply

Your email address will not be published.