جمعیة علماء ضلع روتہٹ نیپال کی مشاورتی میٹنگ کا انعقاد مدارس کے ذمہ داران مدارس کھولیں،طلباء سے مناسب ماہانہ خوراکی لیں، والدین کو اگر ایک وقت بھوک برداشت کرنے کی ضرورت پڑے، تو برداشت کریں؛ مگر اپنے لڑکے کو دینی تعلیم ضرور دلائیں!

0
 انوار الحق قاسمی
  اس وبائی دور میں اگر کسی کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ،تو وہ صرف مہمان رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم کا ہوا ہے۔
اور یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ ایک مدت مدید اور عرصہ دراز سے مدارس کے مقفل ہونے کی وجہ سے تخمینا25/فی صد طلباء کرام اپنے معاشی حالات کے ابتر ہونے کی وجہ سے دائمی طور پر تعلیمی سلسلہ منقطع کر کےکسب معاش میں لگ چکےہیں ۔
  اوراگر اب بھی( یعنی حکومت کی طرف سےاسکول اور کالج کے کھولے جانے کی عام اجازت مل جانے کے بعد) مدارس کے ارباب حل و عقد نے مدارس اسلامیہ کھولنے میں تساہلی اور سستی سے کام لیا،تو پھر مسلمانوں کا مستقبل انتہائی تاریک ثابت ہوگا؛اس لیے مسلمانوں کےمستقبل کو تاریکی سے بچانے اور تابناک بنانے کے لیے ذمہ داران مدارس کو مدارس اسلامیہ کھولنے کی طرف شدید پہل کی ضرورت ہے۔
   مدارس دینیہ میں  تعلیمی سلسلہ کے آغاز کو لے کر کل بتاریخ 25/محرم الحرام 1443ھ مطابق 4/ستمبر 2021ء بروز سنیچر حجمنیا روڈ والی مسجد میں "جمعیة علماء ضلع روتہٹ نیپال” کی ایک خصوصی میٹنگ منعقد ہوئی۔
  جس کی صدارت مدرسہ اسلامیہ رفیق العلوم لچھمی پور کے صدر المدرسین مولانا محمد ضیاء اللہ مظاہری نے فرمائی ۔
سلف صالحین کی روایات کے مطابق مجلس کا افتتاح سب سے مقدس اور پاکیزہ کتاب قرآن کریم سے کیاگیا۔
بعدہ جمعیت کے ذمہ داران اور مدارس اسلامیہ کے ارباب اختیار نے یکے بعد دیگرے مدارس کھولنے کے سلسلے میں اپنی اپنی رائے پیش کی ۔
  تمام آراء کا ماحصل یہ ہے کہ مدارس کے ذمہ داران حضرات مدارس کھولنے میں اب تاخیر نہ کریں، کیوں کہ تاخیر کی صورت میں مدارس کے طلباء کا بے تحاشہ نقصان ہوگا،اس لیے مدارس کھولنے کی طرف اقدامات اٹھائیں اور پھر سے تعلیمی سلسلے کا آغاز کریں ۔
  اوریہ بات بھی کسی سے مخفی نہیں ہے کہ لاک ڈاؤن اور کوروناوائرس کی بنا گزشتہ سے پیوستہ رمضان المبارک سے گزشتہ رمضان المبارک تک مدارس اسلامیہ کا چندہ نہیں ہواہے،جس کی بنا مدارس کا مالی خسارہ بہت ہی زیادہ ہواہے،اوراب ان مدارس کے پاس طلباء کو کھلانے اور اساتذہ کرام کو مشاہرہ دینے کے لیے نقد روپیے پیسے نہیں رہ گئے ہیں۔
 تو ایسے حالات میں مدارس کے ذمہ داران کو چاہیے کہ  مدارس کے نظام کو پھر سے بحال کرنے کےلیےہر طالب علم سے مناسب ماہانہ خوراکی لیں، تاکہ بآسانی تعلیمی سلسلے کا آغاز ہوسکے۔
   اور طلباء کے والدین کو چاہئے کہ اپنے لڑکے کو دینی تعلیم دینے کے لیے اگر ایک وقت بھوکا رہنے کی ضرورت پڑے، تو بھوکے رہیں، مگر اپنے لڑکے کو دینی تعلیم سے آراستہ ضرور کریں۔
 اور اللہ تعالی کا فرمان ہے:سيجعل الله بعد عسر يسرا. باری تعالی تنگی کے بعد آسانی پیدا فرمادیتے ہیں۔
  اس لیے مدارس کے ارباب اختیار کو چاہیے کہ موجودہ حالات سے ہرگز نہیں گھبرائیں ،کیوں کہ یہ حالات جانے کے لیے آئے ہیں، رہنے کےلیے نہیں۔
  میٹنگ میں شرکت کرنے والے علماء کرام کے اسماء گرامی مندرجہ ذیل ہیں :
    مولانا قاری محمد حنیف عالم مدنی،مولانا عزرائیل مظاہری،مولانا شفیق الرحمان قاسمی،مولانا محمد جواد عالم مظاہری،مولانا اسلم جمالی قاسمی،مولانا درخشید انور،قاری شہاب الدین،مولانا طیب قاسمی،مولانا عزیز الرحمان قاسمی،مولانا اسرارالحق قاسمی ،مولانا مزمل قاسمی،مولانا صابر مظاہری،قاری بشیر الدین،قاری امین،مولانا امجد قاسمی،راقم :انوار الحق قاسمی وغیرہم۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.