مسلمانوں کے لیے کون بہتر، سیکولر جماعت یا اپنی قیادت!

0

 

 

میم ضاد فضلی
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میںمسلمان 14 فیصد ہیں۔حالاں کہ مردم شماری کے دوران بیورو کریسی اور اکثریت کے ہاتھوں میں رقص کرنے والا سسٹم اعداد و شمار جمع کرنے اور اس کی ترتیب میں جو گڑ بڑ گھوٹالہ کرتا ہے ،وہ جگ ظاہر ہے اور اس مجرمانہ کھیل کو تنقید کی آ نکھوں سے دیکھنے والے ماہرین اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ مسلم اقلیتوں کو احساس کمتری میں مبتلا رکھنے اور خوف کا اسیر بنائے رکھنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے مردم شماری میں ان کی تعداد کو کم کرکے دکھایا جانا ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ لہذا انہوں نے جو کیا اپنے مقصد اور ہدف کے مطابق کام کیا اور مسلم اقلیتوں کی تعداد حقیقت سے کم دکھا کر انہیں خوف وہراس کی نفسیات میں قید رکھنے میں کامیاب رہے۔
بہر حال 20 تا 25 کروڑ کی یہ اقلیتی آبادی ملک کے تقریباً سبھی خطوں اور ریاستوں میں بستی ہے۔ آپ اگر عقل و شعور کی تمام گرہیں کھول کر خالص سیاسی نظریے سے اس مسئلے پر غور وخوض کریں کہ ملک کے 6.8 فیصد یادو آخر کس کےدم پر اتر پردیش اور بہار جیسی بڑی ریاستوں میں اقتدار کے اعلیٰ منصب تک پہنچ گئے ، اور ہم نے آ نکھیں موند کر جن پر بھروسہ کیا ، آخران سے ہمیں کیا حاصل ہوا۔ہمارے اعتماد اور جذبات کی بلیک میلنگ کا یہ سلسلہ تقریباً 33-32برسوں سے جاری ہے ، اس دوران وہ خود اور ان کی ذات برادری کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔جب کہ ہم آج تک دلاسوں اور وعدوں کے خوشنما جال میں پھڑپھڑا رہے ہیں اور ہردن ہمارے لئے ملک میں عرصہ حیات تنگ کردینے کی سازشیں توانا ہورہی ہیں ، مگر اس بدبختی اور تھوپی گئی نامرادی پر ہم ابھی بھی دھیان دینے کو تیار نہیں ہیں۔ حالاں کہ محسن انسانیت ﷺ نے ایک پکے مومن کی خاصیت یہ فرمائی ہے کہ : لم یلدغ المومن من جُحر مرتین۔ مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا۔مگر ہم مومن ہیں کہ دھوکے پر دھوکے کھارہے ہیں۔ اسی سوراخ سے بار بار ڈسے بھی جارہے ہیں اور اسی کےکنارے پرکھڑے ہوکر سرخروئی و سربلندی کی معراج حاصل کرلینے کے تصور میں جیے بھی جا رہے ہیں۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جن کے کندھوں پر سوار ہوکر کامیابی کی منزل تک پہنچنے میں وہ کامیاب ہوئے، اس طبقہ کو امیدوں ،یقین دہا نیوں اور حسین مستقبل کے خوابوں کے سوا انہوں نے کیا دیا؟
انصاف کا تقاضہ تو یہ تھا کہ مسلمانوں اور دیگر دلت برادریوں سے جس پُر امن اور ہمہ جہت ترقیوں سے آہنگ زندگی دینے کے وعدے کیے انہوں نے تھے اور ان کی حمایت حاصل کرنے میں یہ لوگ کامیاب ہوئے تھے، اس وعدے کے مطابق اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد ان کے لیے کچھ ایسے کام کردیتے ،جس سے ان کی اقتصادی اور تعلیمی ترقی کی راہیں ہموار ہوجاتیں۔ وہ اس قابل بنادیے جاتے کہ وہ اپنا مستقبل سنوارنے اور اپنے کنبہ قبیلہ کی زندگی کو معیاری بنانے کے ساتھ ملک کی مجموعی ترقی میں اپنا تعاون پیش کرنے کے اہل ہوجاتے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!
ہم نے اپنا مسیحا سمجھ کر ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے جن مسلم امیدواروں کو ایوانوں میں پہنچایا، انہوں نے بھی منصب پالینے کے بعد اپنی ساری قوت پارٹی کی اعلیٰ قیادتوں کی جی حضوری اور غلامی میں صرف کی ۔انہوں نے پل بھر کے لئے بھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ جن محروم طبقات نے ڈھیر ساری امیدوں اور آرزوؤں کے ساتھ انہیں اپنی نمائندگی سونپی تھی ، ان کے بارے میں بھی غورو فکر کیاجائے اور پارٹی پر یہ کہہ کر دباو بنا یا جائے کہ ہمیں پھر اسی قوم کے سامنے پیش ہونا ہے، اسی سے دوبارہ ووٹ مانگنا ہے اور اس دوران ان کے سوالوں کا جواب بھی دینا ہے ، لہذا اس طبقہ کے لیے اتنا تو یقیناً کیا جائے جس سے وہ اپنے رائے دہند گان کے سوالوں کے جواب دینے کے قابل رہ سکیں۔ مگرانہوں نے کبھی ہمارے متعلق نہ سوچا اور نہ اپنے وعدے کو حقیقت کا جامہ پہنانے کی مخلصانہ کوشش کی۔ بلکہ یہ مسلم نام کے رہنما تو ہمارے لیے غیروں سے بھی بدتر اور مہلک ثابت ہوئے۔
اب تو یہ بات چڑھتے سورج کی طرح واضح ہوچکی ہے کہ وہی جماعت اور قیادت ہمارے لیے ضروری اور ناگزیر ہے، جو خالص ہمارے مسائل اور مدعوں کی بنیاد پر قائم ہوئی ہو۔اگر اس جماعت کو ہم نے اپنے اکثریتی حلقوں سے کامیاب کرکے ایوانوں تک بھیج دیا تو یقین مانئے جو سیکولر جماعتیں ہمیں دھتکاری رہی ہیں اور ہمیں گلے لگانے کو تیار نہیں ہیں، انہیں یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ اقلیت کی جماعت اور قیادت کو انتخابات اور اقتدار میں حصے داری دیے بغیر نہ ہم کامیاب ہوسکیں گے اور نہ اپنے مد مقابل کھڑی فاشسٹ طاقتوں کو زیر کرپائیں گے۔ اگر آپ کے عدم تعاون کی وجہ سے سیکولر جماعتوں کو پسپائی کا سامنا کرپڑتا ہے ،تب بھی یہ آئندہ کے لیے اقتدار میں آپ کی حصے داری دینے پر مجبور ہوں گے۔
ملک کی انتخابی سیاست میں مسلمان کیوں بے وزن ہو گئے اس کے اسباب و وجوہات مندرجہ بالا سطور میں واضح کی جاچکی ہیں ۔ ہم بار بار جن طاقتوں سے فریب کھاتے رہے، انہیں جھڑکنے کی بجائے مسلسل انہیں ہی گلے لگاتے رہے ۔بالآخر انہوں نے یہ باور کرلیا کہ یہ محروم و مظلوم اقلیت جائے گی کہاں ، انہیں تھک ہار کر ہمارے قدموں میں گرنا ہوگا ، اس کے علاوہ ان کے پاس نہ کوئی امکان باقی ہے اور نہ راستہ۔
اب ہمیں اس مسئلے غور کرنا ہے کہ وہ کیا پیمانے ہیں جس کو اختیار کر کے مسلمان اس ملک کی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟ ملک کا موجودہ منظر نامہ جس تیزی سے بدلتا جا رہا ہے، ایسے وقت یہ سوالات غیر اہم ہو جاتے ہیں کہ آیا مسلمانوں کو سیاست میں سر گرم حصہ لینا چاہیے یا نہیں؟ یاد رکھئے ! کہ سیاست اب ہندوستانی مسلمانوں کی ناگزیر ضرورت بن گئی ہے۔ ملک کی انتخابی سیاست میں مسلمانوں کی شمولیت ان کے ملّی اور مذہبی تشخص کے تحٖفظ کے لیے ضروری ہے۔ ملک کے موجودہ حالات کے پسِ منظر میں انتخابی سیاست سے دستبرداری یا اس سے عدم دلچسپی ملت اسلامیہ کو ایک ایسے گرداب میں ڈال دے گی جہاں سے نکلنا ان کی آنے والی نسلوں کے لیے بھی ممکن نہ ہوگا۔ جمہوری ملک میں ایک اصولی امت کو ملک کی انتخابی سیاست میں کیسے حصہ لینا ضروری ہے۔اب اس پر گفتگو کی گنجائش اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ طریقہ کار میں اختلافِ رائے ہو سکتا ہے، اس پر بھی بات ہو سکتی ہے کہ مسلمان سیکولر پارٹیوں کا ساتھ دیں یا پھر خود اپنے بل بوتے پر میدانِ سیاست میں آئیں۔
مگر یہ بات ہمیشہ ملحوظ ِخاطر رہنی چاہئے کہ سیکولر پارٹیا ں صرف ہمارا استعمال کرتی ہیں اور ہمارے استحصال میںہی وہ اپنی کامیابی کے راز کو مضمر سمجھتی ہیں۔ہم ملک کی آزادی کے بعد سے لگاتار اس کا مشاہدہ اور تجربہ کررہے ہیں۔ لہذا ہمیں اب ان سیکولر جماعتوں اور ان کی وعدہ خلاف قیادتوں کو سبق سکھانے کے لیے اپنی جماعت اور قیادت کے ساتھ ہی قدم بڑھانا ہوگا۔ آج جب کہ ملک کی بیشتر ریاستوں اور مرکز میں سیکولر جماعتیں نہیں ہیں ، ایسے حالات میں بھی ہم محروم ہیں اور جب سیکولر جماعتیں ہمارا استعمال کررہی تھیں ، جب بھی مایوسی اور ناکامی ہی ہمارا مقدر تھی۔ لہذا اب یہ بات بآسانی سمجھ میں آجانی چاہئے کہ اپنی جماعت اور قیادت کو آگے کرنے سے ہی ہمارا کچھ بھلا ممکن ہوسکتا ہے اور ہم اپنی شرطوں پر اقتدار اور ترقیاتی منصوبوں میںحصے داری کا مطالبہ کرسکیں گے۔
8076397613

Leave A Reply

Your email address will not be published.