سقم کورونا” جیسے ڈینگو، ملیریہ، انفلوینزا جیسی وائرل بیماریوں سے نجات کا مستقل حل

0 44
           نقاش نائطی
      +966504969485
کتنے اقسام کے وائرس اس دنیا میں ہیں اگر حساب لگائیں تو  10³¹ سے بھی زیادہ ہیں ایک ایک وائرس کے پیچھے دوسرے وائرس کو ایک ایک لائن سے کھڑے کئے جائیں تو لائن اتنی لمبی ہوجائیگی جو لگ بھگ 100 ملین لائیٹ سال کے قریب ہوگی۔ اگر انسانی جسم میں پائے جانے والے بیکٹیریا کا حساب لگائیں تو یہ وائرس سے بھی ہزار لاکھ گنا زیادہ ہے۔ اتنا زیادہ کہ اندازہ لگا کر دیکھنا چاہیں تو ہمارے دانتوں کے درمیان پھنسے چھوٹے سے پلیگ کو خوردبین میں دیکھیں تو پتہ چلے کہ اس میں بیکٹریہ کی تعداد 10¹¹ ہوگی یہ   10¹¹ تعداد میں کتنا ہوتا ہے، اب تک دنیا میں جتنے انسان پیدا ہوئے ہیں کم و بیش  اتنی تعداد ہوتی ہے۔عموما یر انسان  کے پیٹ میں ایک کلو بیکٹریہ پایا جاتا ہے ہم انسان وائرس اور بیکٹریہ سے گھرے ہوئے ہی نہیں بلکہ وائرس اور بیکٹریہ کے مجموعہ کا نام ہی ہمارا انسانی جسم ہوتا ہے۔ سائینس کے حساب سے انسانی جسم میں موجود تمام اعضا جتنے بھی بیکٹریہ  سے بنے ہیں۔ان میں صرف 10 فیصد اسکے اصلی سیل ہوتے ہیں باقی 90 فیصد سیل یا بیکٹریہ  ہمارے مرنے کے بعد ہمارے جسم سے ھجرت کرکے مٹی میں ملتے ہوئے دوسری چیزوں میں جذب ہوجاتے ہیں۔ سائینس کے انہی انکشافات سے چودہ سو سال قبل خاتم الانبیاء سرور کونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وعلیہ وسلم کا، جنت کے بارے میں بیان کرتے وقت  ہر ادنی سے ادنی مومن کو، اس دنیا سے بڑی جنت دئیے جانے کا بتایا گیا ہے، اسے سمجھنا آسان سا ہو جاتا ہے۔ آج کے جدت پسند سائینس دان جب یہ کہتے ہیں کہ اس دھرتی پر شروع دنیا سے اب تک پیدا کئے گئے انسانوں کی کل تعداد سے بھی زیادہ بیکٹیریہ صرف ہمارے دانتوں میں پھنسے معمولی  پلیگ میں پائےجاتے ہیں تو اس دنیا میں کتنے زیادہ زندہ وائرس یا بیکٹریہ وٹامن پائے جاتے ہونگے۔کیا موجودہ دور کے تعلیم یافتگان کو جدت پسند سائینس دانوں کے ان انکشافات  کو رد کرنے کی ہمت و جرآت یے؟
سائینس کی مانیں تو ایک لاکھ بیس ہزار سے دس لاکھ اقسام کے وائرس دنیا میں ہیں۔ان میں سے ایک کورونا وائرس یے اور یہ کورونا وائرس  جو ان دنوں یا ابھی کچھ سال قبل دریافت ہوا ہے،  اس دنیا کے وجود میں آنے کے وقت سے دنیا میں موجود ہے۔  شاید کے حضرت انسان کے پیدا  کئے جانے کے قبل سے بھی موجود ہو۔ ہوسکتا ہے ہماری اب تک کی جی ای گئی زندگانی میں، بے شمار مرتبہ جو ہمیں بخار نزلہ زکام ہوا ہو وہ کسی کورونا وائرس ہی کی وجہ سے ہوا ہو؟ کل تک دنیا اس بات سے، بے خبر تھی انجان تھی اس لئے بے فکر تھی۔ ایسے میں کوروناوائرس سے بچنے کے لئے  گھر کے دروازے بند کرکے بیٹھے رہیں یا ہاتھ کو سینیٹائزر سے دھوتے رہیں یہ بھی تو ٹھیک نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ بھی نہیں جاسکتا کہ دنیا کے  سائیس دان اور  ڈاکٹر جو بتا رہے ہیں یا دنیا بھر میں اب تک اس کورونا وائرس سے دس ہزار لوگ مرچکے ہیں یا آئیندہ کچھ دنوں بعد دنیا بھر میں مرنے والوں کی تعداد بیس پچیس ہزار تک پہنچ بھی جائیگی تو ہم کیوں کر اور کیسے اس کورونا وائرس کے قہر  سے بچ سکتے ہیں؟
کورونا وائرس کی حقیقت کو جاننے کے لئے یہ تمثیل کافی ہے کہ ہمیں خطرناک ترین درندوں سے بھرے جنگل سے گزرنا پڑے اور جنگل کی ابتداء گیٹ کے پاس ہی،جنگل میں پائے جانے والے مختلف جانوروں کو مارنے کے لئے مختلف ہتھیار بیچنےکی دوکانیں لگی ہوئی ہوں، جن میں خونخوار  پرندوں کو مارنے کے لئے غلیل،تو جنگلی  کتوں کو مارنے کے لئے  نیزے، تیر،تلوار، پستول، بندوق، رائفل وغیرہ،ان ہتھیاروں کے بیچنے کے لئے ہر دوکان کے اوپرٹیلیوژن پر دل لبھاونے ایڈس فلم چل رہے ہیں۔ لیکن نہ صرف  ایک دوکان پر،بندروں کے ہم انسانوں پر جھپٹ پڑنے، ہم سے ہمارا موبایل و کھانے کی چیزیں چھیننے والی ایڈس فلم دکھاتے ہوئے بندروں کو مار بھگانے ڈنڈے بیچے جارہے ہوں۔ بلکہ ہر تین چار دوکان کے بعد ڈنڈے بیچنے والی دوکان اور اس ہر لگے ٹی وی پر  بندروں کے قہر کی ایڈس فلم مکرر دکھائی جارہی ہو، تو ہمارا سارا دھیان بندر سے بچنے کی طرف ہی کیا نہیں جائیگا؟ اور کیا ہم  جنگل میں پائے جانے والے شیر ہاتھی بھیڑئے خنزیر،گینڈے، جنگلی کتے، خنزیر کے خوف سے پرے، اپنے آپ کو جنگلی بندروں سےبچائے، جنگل پار کرنے کے لئے، ایک کے بجائے دو دو ڈنڈے لینے ہر اکتفا کرتے کیا پائے جائیں گے
یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں کورونا وائرس ہے اور اب تک دس ایک ہزار انسانوں کی جانیں اس کورونا وائرس سے جاچکی ہیں ہوسکتا ہے آئیندہ ایک دو ماہ بعد پوری دنیا میں  کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد پندرہ بیس ہزار تک پہنچ جائے، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کورونا وائرس سے بھی زیادہ اور خطرناک وائرس اس دنیا میں موجود ہیں۔ ہر سال ڈینگو بخار سے پچیس ہزار انسان مرتے ہیں۔ ٹیٹینس بیماری سے 40،000 ہزار انسان مرتے ہیں ھیپیٹائیڑس بیماری سے 15،000،00 لوگ مر جاتے ہیں ہیپیٹائیٹس مرض اے، بی ، سی ، ڈی اور ائ کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں ہم میں سے ہر انسان کے جگر میں ہیپیٹائیٹس کے وائرس یا بیکٹریہ پائے جاتے ہیں۔ اس میں سے کم و بیش 5% لوگ ہیپیٹائیٹس بیماری سے مرنے والے ہوتے ہیں۔ایسے میں تمام اقسام کے خطرناک وائرس کو چھوڑ کر ہم صرف کورونا وائرس سے ڈرتے گھر میں بیٹھے رہیں گے تو یہ تو عقل مندی والی بات نہ ہوگی۔ دنیا بھر میں مختلف  دوسرے وائرس والی خطرناک بیماریوں سے ہر سال مرنے والوں کی تعداد ایک کرور ستر لاکھ کے قریب ہے۔اب کی دنیا بھر کو،اپنی چپیٹ  میں لی ہوئی یہ کورونا وائرس بیماری میں،بیس پچیس ہزار لوگ بھی مر جاتے ہیں تو ہر سال مختلف امراض سے 1کروڑ 70 لاکھ مرنے والوں میں، کورونا وائرس سے مرنے والوں کا تناسب اعشاریہ زیرو پندرہ یا 015۔0% ہوگا۔ایسے میں تمام دوسری مہلک بیماریوں کو بھول کر صرف کورونا کا رونا روتے بیٹھنے سے یا کسی بھی انسان کو کھانستے ہوئے دیکھتے ہی اسے کورونا کا مریض مانتے ہوئے، اسے کورنٹائین یا خود ساختہ تخلیہ یا جیل میں ڈال دیں گے تو وہ بیچارہ سقم کرونا سے مرے نہ مرے، کورونا کے قہر کے  ڈر سے سوچ سوچ کر، وقت سے پہلے مرجائیگا اور اس کی ڈر سے ہوئی موت کو بھی، کورونا  کے سر تمغے کی طرح سجادیا جائیگا
کورونا وائرس سے کیسے بچیں یہ دیکھنا ہے۔ اگر ہمارے بلڈ پلازما میں کم و بیش 50 مائکرو مول پر لیٹر کے آس پاس وٹامن سی کی مقدار پائی جاتی ہے تو 80% چانسز  ہیں یہ کورونا وائرس ہم پر حملہ آور ہی نہیں ہوگا۔ اور اگر کسی دوسرے سقم کورونا مریض کے کھانسنے سے وہ کورونا وائرس ہمارے جسم میں چلا بھی جائے تو ہمارے جسم میں قدرت کی طرف سے عطا کردہ، سقم مدافعتی نظام، والے وائرس اور بیکٹریہ اس کورونا وائرس سے لڑ پڑیں گے اور اسےہراتے ہوئے وہیں پر اسے ختم  کردیں گے۔ ایسے میں وہ کیا طریقہ کار ہےکہ ہمارے خون پلازما میں اتنی مقدار میں وٹامن سی ہمہ وقت موجود رہے کہ کورونا وائرس کو ہمارے جسم کے اندر ختم کردیا جائے،اس کا نسخہ نہایت آسان ہے یاتو روزانہ دو موسمبی کاٹ کر چباچبا کر کھایا جائے، یا ایک امرود یا تین میڈیم سائز کے آم کاٹ کے کھائیں گے تو اس سے روزانہ ہمارے خون میں اتنی مقدار میں وٹامن سی پیدا ہو جائیگی،جس سے ہمارے جسم میں موجود سقم مدافعتی سسٹم، کورونا وائرس کو ہمارے جسم میں پنپنے ہی نہیں دین گے۔ اس کے ساتھ جانوروں سے حاصل کئے گئے پروٹین  جیسے انڈا دودھ دہی گھی وغیرہ سے بچیں۔ یہ اس لئے کہ دودھ دہی والی پروٹین وٹامن سی کو کمزور یا ڈیپریس کردیتا یے۔ ہمارے جسم کے اندر قدرت کے عطا کردہ سقم مدافعتی نظام میں، کئی اقسام کے سیل کام کرتے ہیں ان میں سے ایک وائئٹ بلڈ سیل جو طاقتور سپاہی کی طرح  ہمارے جسم میں داخل ہونے والے بیماری کے وائرس پر آنسو گیس کی طرح کا "ار او ایس”مادہ اسپرے کرتا ہے تاکہ وہ بھاگ جائے یا ختم ہوجائے۔جس طرح احتجاجی بھیڑ کو مار بھگانے کے لئے پولیس آنسو گیس چھوڑا کرتی ہے جس سے احتجاجی بھیڑ  کی آنکھیں جلنے لگتی ہیں۔ اور وہ موقع سے بھاگنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس آنسو گیس سے پولیس والوں کو کوئی نقصان نہ ہو، اس لئے وہ خود آنسو گیس سے بچنے کے لئےآکسیجن والے  ماسک پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے میں خون کے سفید ذرات جو آر او سی مادہ چھوڑتے ہیں اس سے جسم میں موجود انیک اہم وائرس اور  بیکٹیریہ کے لئے بھی نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ایسے میں خون میں موجود، سفید خونی ذرات سمیت دیکر اہم وائرس اور بیکٹریہ کے لئے،  جسم میں موجود وٹامن سی، آکسیجن ماسک کا کام کرتے ہیں۔ اور ہمارے جسم میں موجود مفید وائرس اور بیکٹریہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ ہمارے جسم میں وٹامن سی مقررہ مقدار ہمہ وقت رہتی ہے تو نہ صرف کورونا  وائرس بلکہ دیگر بیرونی وائرس ہمارے جسم میں داخل  ہوبھی جائیں تو ہمارا جسم محفوظ رہتا ہے۔ہوسکتا ان ایام ہوا میں محلول یہ کورونا وائرس ہمارے بدن میں داخل ہوگیا ہو اور ہمارے جسم میں قدرت کے عطا کردہ سقم مدافعتی نظام کے ساتھ لڑائی ہورہی ہو اور ہمارے جسم میں موجود وٹامن سے کے سبب سے وہ کورونا وائرس ہار تسلیم کر ختم ہوگیا ہو
اسکے باوجود بھی 20 فیصد چانسز ہیں کہ کورونا کا رونا ہمیں بھی رونا  نہ پڑے۔دو اقسام کی بیماریاں ہوتی ہیں۔پہلی کینسر،ٹی بی، ہیپیٹائیٹس، ایڈس وغیرہ جیسی بیماری کے وائرس لمبے وقت تک ہمارے جسم میں رہتے ہیں انہیں کرونک  یا لمبے وقت تک رہنے والے سقم کہتے ہیں دوسری قسم ایکیوڈ یا مختصر وقتی بیماری جیسے کورونا، ٹیٹینس، انفلوینزا، ڈینگو تیز حدف وائرس جو جسم میں داخل ہوتے ہی ہنگامہ کھڑا کردیتے ہیں۔ ایسی بیماری سے بچنے کے لئے، سب سے اہم، جب پہلے ہمیں پتہ چلے  کہ کورونا یا ملیریا یا ڈینگوکا حملہ ہم پر ہوچکا ہے تو اس دن سے ہمارے کھانے میں وٹامن سی کی مقدار کو بڑھا دینا یے کھانا تین قسم کا کھایا جاتا ہے لکوڈ، فلیوڈ  اور سالڈ یا سخت فوڈ ، جیسے مشروب کی شکل، نرم کھانا اور سخت کھانا۔ ایکیوڈ  یا عارضی سقم کی صورت میں پہلے دن  کم از کم 6 گرام وٹامن سی پیدا کرسکنے والے فروٹ کا جوس نکال کر پینا ہے۔50 موسمبی کھانے سے صرف 6 گرام وٹامن سی پیدا ہوتے ہوئے خون میں شامل ہوجاتا ہے۔ انسان کے وزن کے تناسب سے دسواں حصہ بڑے گلاس بھر کے موسمبی، کینو، سنگترہ، انناس میں سے کوئی ایک جوس اور 6 بڑے گلاس کچے ناریل کا پانی، پہلے دن پینا ہے۔اس کے علاوہ کچھ نہیں کھانا ہے۔  اگر کسی کا وزن 60 کلو یے تو بڑے 400 ایم ایل والے 6 گلاس جوس پینا ہے۔  دوسرے دن فلیوڈ ڈے جسم کے وزن کا بیسواں حصہ یعنی ساٹھ کلو وزن والے کے لئے، 3 بڑے گلاس جوس اور 3 بڑے گلاس کچے ناریل کا پانی پینا ہے۔اور ساتھ میں وزن کو 5 سے ضرب کرنے سے جتنے عددبنتے ہیں مثلا 60 کلو وزن والے کے لئے 300 گرام تازہ ٹماٹر اور ککڑی چبا چبا کر کھانا یے۔ پہلے دن جوش پینے سے بخار کو قابو می کیا جاسکے گا تو دوسرے دن کی ڈائیٹ کے بعد بخاربالکل ختم ہوجائیگا  تیرے دن وزن  کو 30 سے تقسیم کریں یعنی 60 کلو وزن والے کےلئے دو بڑے گلاس جوس اور 2 بڑے گلاس کچے ناریل کا پانی دوپہر 12 بجے تک لینا یے  اور اس کے علاوہ لنچ میں   300 گرام کھیرا ٹماٹر کھانا ہے اور ڈنر میں ہلکے ترکاری کھانے کھا سکتے ہیں۔ انشاءاللہ کسی بھی اقسام کے وائرس حملہ سے وقتی طور بیمار پڑنے پر  چاہے وہ کورونا ہو، ڈینگو ملیریہ، انفلوینزا بخار ہو۔  تین دن کے سختی سے فوڈ کنٹرول کرنے سے کوئی بھی ایکیوڈ وقتی بیماری کنٹرول میں آجاتی ہے۔ مینرل بیلنس ہائیڈریش  اور وٹامن سی کی بڑھوتری سے تین دن کے اندر خطرناک سے خطرناک وائرس والے سقم سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔
 کرونک یا لمبے وقت کی بیماری کے لئے لمبا وقت درکار ہوتا ہے  تین مہینہ تک 2% حربہ اپنانا ہے 60 کلو وزن والے مریض کے لئے 60 کلو گرام کا 2%،لگ بھگ  1200 گرام، میں سے 600 گرام سٹرک ایسیڈ سے بھرپور موسمبی انناس جیسے فروٹ کو چباچبا کر کھانا ہے اور 600 گرام ککڑی ٹماٹر بھی چبا چبا کر کھانا ہے اس کے علاوہ ہلکا کھانا کھا سکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ   تین مہینے تک جانوروں سے مہیا ہونے والے انڈا دودھ دہی گھی وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہئیے۔”واذا مرضت فھو یشفین” آیت قرآنی کا مفہوم اور ہم سقم زد کیا اور ہم ہی شفا دینے والے ہیں”
  کورونا ڈینگو ملیریہ انفلوینزا جیسی وایرل بیماریوں کے لئے عام لوگوں میں جاگرکتا قائم۔کرتے،ڈاکٹر بسوا روپ  روئے چودھری کی ویڈیو کلپ یوٹیوپ پر ہمہ وقت دستیاب ہیں، پورے عالم میں سقم کورونا کی ہاہاکار کے چلتے، عام۔افادیت کی خاطر انکی یو ٹیوب کو تحریری شکل ہم پیش کررہے ہیں۔  21 مارچ 2020 بروز سنیچر شام 5 بجے بھارتیہ وقت مطابق  یوٹیوپ میڈیا اسٹار ورلڈ پر لائیو کورونا پر عوامی سوالات کے جوابات دیتے پائے جائیں گے

Leave A Reply

Your email address will not be published.