گردش ایام کا شاعر: ظفر حبیبی

0
کامران غنی صبا
اسسٹنٹ پروفیسر، نیتیشور کالج، مظفرپور
………………….
شاعری کیا ہے؟ یہ سوال بظاہر بہت چھوٹا ہے لیکن اتنا مشکل ہے کہ خود شعرا حضرات بھی اس سوال کا اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر نظر آتے ہیں. جس طرح محبت کے مفاہیم کو سمجھانا مشکل ہے اسی طرح شاعری کا مفہوم سمجھا پانا انتہائی دشوار ہے. محبت میں جو شخص جس قدر صادق اور بے غرض ہوگا وہ محبت کے مفہوم سے اسی قدر آشنا ہوگا، اسی طرح شاعری میں جس قدر حقیقی جذبات کی ترجمانی ہوگی، شاعری اسی قدر ارفع و اعلی ہوگی.
ظفر حبیبی کی شاعری حقیقی جذبات اور ذاتی تجربات و مشاہدات کی شاعری ہے. ان کا شعری مجموعہ "گردشِ ایام” ان کے تجربات و مشاہدات کا آئینہ دار ہے. میر نے کہا تھا
مجھ کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
یہ سچ ہے کہ شاعری خاص طور پر غزلیہ شاعری کی دنیا اپنے عہد کے تقاضوں کو اپنے دامن میں سمیٹتی رہی ہے لیکن آج بھی "عشق” اور” کربِ ذات” غزل کے سب سے پسندیدہ موضوعات ہیں. "گردشِ ایام” کی شاعری میں یہ دو موضوعات حاوی نظر آتے ہیں.
جدید عہد کی شاعری کے حوالے سے میرا یہ مؤقف ہے کہ یہ دو انتہاؤں کی شاعری کا دور ہے. ایک طرف مشاعرہ تہذیب کے ملبے پر کھڑی ہوئی شاعری کی مصنوعی عمارت ہے دوسری طرف جدت اور جدیدیت کے نام پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچنے کا کھیل جاری ہے. ایک انتہا پر لوگوں کا اژدہام ہے جن کے جذبات سے کھیل کر شعرا اپنی دکانیں چمکا رہے ہیں. دوسری انتہا پر "زعم پندار” میں مبتلا شعرا کی چھوٹی سی جماعت ہے جو اپنے خود ساختہ معیار کے حصار سے باہر آنے کے لیے تیار نہیں. ان دو انتہاؤں کے بیچ کی شاعری کہیں غائب ہو چکی ہے. ایک زمانہ تھا کہ جب مشاعرے سماعتوں کی تربیت کا کام کیا کرتے تھے. اسی طرح تحریری ادب میں پاپولر لٹریچر اور نیم ادبی رسائل زینے کا کام کرتے تھے. ادب کا ایک عام قاری ان زینوں سے ہوتا ہوا ادب کے اعلی معیار تک پہنچتا تھا. آج صورت حال یہ ہے کہ کتابیں مفت تقسیم کی جاتی ہیں. فرمائشی تبصرے لکھوائے جاتے ہیں اور بس….
ظفر حبیبی کی شاعری کو میں اس لیے غنیمت سمجھتا ہوں کہ ان کی شاعری نہ تو پروپگنڈے کی وہ شاعری ہے جہاں راتوں رات انقلاب کے خواب دکھائے جاتے ہیں اور نہ ہی جدیدیت کے نام پر قاری کو گمراہ کرنے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے.
"گردش ایام” کا شاعر زمانے کی گردشوں کو سیدھے سادے انداز میں اشعار کا پیکر عطا کرتا ہے. وہ عام لوگوں کی طرح "گردش ایام” سے فرار اختیار کرنے کی بجائے اس سے لطف کشید کرتا ہے
کیا خاک مزا آئے گا اک ایسے سفر میں
ہمراہ اگر گردشِ ایام نہیں ہے
گردشِ ایام کا شاعر گرچہ حالات کے جبر و ستم کا مارا ہوا ہے لیکن اس کا حوصلہ سلامت ہے. وہ زمانے سے اپنے حوصلوں کی داد کا طلب گار بھی نہیں ہے
ہم نے پائی دنیا سے داد بھی کہاں اس کی
پتھروں کی بستی میں آئینہ دکھاتے ہیں
ملک کے بدلتے ہوئے حالات، فرقہ پرستی، نفرت، سیاسی ریشہ دوانیاں شاعر کے پسندیدہ موضوعات ہیں. یہ وہ موضوعات ہیں جنہیں جذباتیت کی ہوا دے کر نہ جانے کتنے شاعر فرش سے عرش پر پہنچ گئے. بے شمار شعرا و شاعرات نے عوامی جذبات کو برانگیختہ کر کے راتوں رات شہرت، مقبولیت اور دولت سمیٹ لیں. ظفر حبیبی نے اپنی شاعری میں حساس موضوعات کو لاتے ہوئے بھی نری جذباتیت اور نعرہ بازی کی شاعری سے گریز کی راہ اختیار کی. چند اشعار ملاحظہ فرمائیں
ائے امیر شہر میں بھی ہوں انا کا پاسباں
سر تری دہلیز پر کیسے جھکا کر جاؤں گا
…………
ائے وطن کی سرزمیں گر وقت آئے گا کبھی
قطرہ قطرہ خون کا تجھ کو عطا کر جاؤں گا
………….
آج مقتول ہے قاتل کی طرف داری میں
ایسے بدلے ہوئے حالات سے جی ڈرتا ہے
……………
ظفر حبیبی کی غزلوں کے موضوعات بہت فکری اور فلسفیانہ نہ ہونے کے باوجود متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. وہ بھاری بھرکم الفاظ، تشبیہات و استعارات اور علامات کا سہارا لے کر اپنے اشعار کو چیستاں نہیں بناتے بلکہ سادہ و سلیس انداز میں انتہائی سلیقے کے ساتھ اپنے احساسات کو شعری پیکر عطا کرتے ہیں. "گردش ایام” سے چند اشعار ملاحظہ ہوں
سمجھ میں آتا نہیں ہے ظفر جواب کوئی
یہ زندگی تو مسلسل سوال کرتی ہے
…………
آنکھوں کے میکدے سے پلائی غضب کی ہے
نشّہ تو ایسا ہوتا نہیں ہے شراب کا
………..
راہ وفا میں یہ بھی کبھی کام آئیں گے
تم پر برس رہے ہیں جو پتھر سمیٹ لو
…………
ہر ایک شخص پہ کیسا سکوت طاری ہے
ہر ایک جسم کا اب خون جم گیا ہے کیا
………..
گردش ایام کی بعض غزلوں میں واعظانہ اور ناصحانہ انداز حُسن تعزل کو متاثر کرتا ہے. کچھ اشعار میں شتر گربہ کا عیب در آیا ہے. تاہم مجموعی اعتبار سے "گردش ایام” کی شاعری ظفر حبیبی کی شعری استعداد کو تسلیم کرنے پر مجبور کرتی ہے. "گردش ایام” کی اشاعت پر شاعر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں.

Leave A Reply

Your email address will not be published.