غزل

0

پریم ناتھ بسمل
مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار
جو محفل میں ہم روبرو بیٹھتے ہیں
عجب سی نگاہوں سے وہ دیکھتے ہیں
ادا ہے محبت کی یہ بھی نرالی
جو میں پاس آو¿ں تو وہ بھاگتے ہیں
گزرتا ہے دل پر ستم اور بھی جب
نکلنے کو باہر وہ در کھولتے ہیں
تجھے نیند تیری مبارک ہو ہمدم
مگر ہم صنم رات بھر جاگتے ہیں
بھلایا ہے جن کی محبت میں خود کو
وہی آج میرا پتہ پوچھتے ہیں
محبت ہے ان سے پرانی ہماری
دعاو¿ں میں ہردم انہیں مانگتے ہیں
بناکر امیروں کا ہم بھیس یارو !
غریبوں کے بچوں کا حق مارتے ہیں
ابھی رات باقی ہے بسمل بہت ہی
وہ اٹھ اٹھ کے کھڑکی سے کیوں جھانکتے ہیں
رابطہ۔8340505230

Leave A Reply

Your email address will not be published.