دیر آید درست آید غلطی کا احساس ہونا ضروری

0
نقاش نائطی
۔    +966504960585
بعد آزادی ھند ایک طرف پڑوسی پاکستان کشمیر پر اپنا حق جتا رہا تھا اور کشمیریوں کی اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق کی تائید میں تھی آنجہانی کانگریسی لیڈر جواھر لال نہرو نے اپنے ذاتی فیملی تعلقات کی بناپر کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ کو قائل کر دستور ھند میں، انہیں آزاد خودمختار رہنے کی ضمانت دستور ھند میں۔دیتے ہوئے ،کشمیر کا الحاق بھارت سے کروانے میں کامیاب رہے تھے کشمیری لیڈروں سے باہم اتفاق بعد دستور ھندمیں انہیں خصوصی استحقاق دی ہوئی تمام شقوں کو دستور ھند میں ترمیم کر، اسے بے اثر کرتے ہوئے کشمیر کو مختلف حصوں میں بانٹنا ھندو ویر سمراٹ  مہان مودی کی، نوٹ بندی جی ایس ٹی اور دیش بھر لاک ڈاؤن جیسی ایک بہت بڑی ناعاقبت اندیش سیاسی غلطی تھی۔ کشمیری لوگوں کی بھلائی کے لئے اٹھایا گیا قدم جو بتایا گیا تھا اس سے 80 لاکھ کشمیریوں کو کچھ فائیدہ ہونے کے بجائے اس آزاد جمہوریت والے بھارت میں ایک طرح سے گویا انہیں عالم کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا گیا تھا۔ کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک سکڑنے اور بند ہونے کے بجائے اور خطرناک ہوتے ہوئے اور وہاں موجود 9 لاکھ بھارتیہ افواج کے لئے گھاتک ہوئی جارہی تھی  او آئی سی سمیت جمہوریت نواز امریکی و یورپین عوام بھی بھارت پر وہ قانون واپس لینے اور کشمیر کو پرانے  دستور مطابق بحال کرنے پر زور دے رہے تھے
آج اپنے آپ کے سیسہ  پلائی دیوار ثابت کرنے والے امیت شاہ جی کی  وزارت داخلہ ھند کی طرف سے اس بیان کے بعد کہ وقت آنے پر جموں و کشمیر کا درجہ بحال کیا جائے گا اس بات کا مظہر ہے کہ کہیں نہ کہیں مودی حکومت پر عالمی دباؤ ہے اپنے اس دو سال قبل 15 اگست2019 کو کشمیر کے سلسلے میں اٹھائے گئے فیصلے کے بدلنے کے لئے اور مودی حکومت کو اپنی اس غلطی کا ادراک ہونے کی ہی وجہ سے وزارت داخلہ کا یہ بیان سامنے آیا ہے ۔ ہوسکتا ہے 15 اگست 2021 مودی جی کےبھاشن کے بعد کشمیر کی پرانی حیثیت برقرار کی جائے اور عالمی دباؤ سی راحت پائی جائے
کچھ بھی ہو دیر آید درست آید مثل مصداق پی ایم مودی جی کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے ان 80 لاکھ کشمیریوں کے لئے جو گذشتہ دو سال سے، یعنی کم و بیش 730 دنوں سے ویسی ہی جیل میں بند تھے جیسا ہم 138 کروڑ بھارتیہ سمیت عالم کی اکثریت آبادی مارچ 2020 کے بعد دو مہینے کے لئے کورونا قہر کی وجہ سے، اپنے اپنے گھروں میں قیدو بند تھے۔  ہمیں تو انٹرنیٹ سہولیات کے ساتھ ملٹی چینل نشریات افلام و سیریلز بینی کی چھوٹ تھی لیکن  80 لاکھ کشمیری سابقہ دو سال سے ان تمام سہولیات سے ایک حد تک محروم ہی رکھے گئے ہیں
جس طرح سے ھندو ویر سمراٹ مودی جی کو اہنی اس  غلطی کا احساس ہوا ہے پورے ھند واسیوں کو مذہبی منافرت میں جھونکتے ہوئے، پورے بھارت کو انارکی کی طرف ڈھکیلنے کی اپنی یا اپنی پارٹی آرایس ایس کہ غلطی کا ادراک بھی ہو جائے اور مسلم دلت کے خلاف  منافرتی بیان بازی کرنے سے اپنےیوگی مہاراج سمیت تمام  شعلہ بیان سپہ سالاروں کو چپ رہنے کی ہدایت دینا نصیب ہو تاکہ اس کورونا مہاماری تباہی بعد تو، بھارت کے ھندو مسلمان سکھ عیسائی سب مل جل کر ایک نئے بھارت کا نرمان کرسکیں وللہ الموافق بالتوفیق الا باللہ

Leave A Reply

Your email address will not be published.