امیر شریعت ثالث: حضرت مولانا سید شاہ محمد قمر الدین جعفری زینبی رح

0
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ
دارالعلوم خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف کے سابق استاذ، خازن بہشت (فارسی) اور اشارات الکتب الی اباحۃ ایصالِ الثواب (اردو)کے مصنف حضرت مولانا سید شاہ محمد قمر الدین جعفری زینبی  بن مولانا سید شاہ بدرالدین قادری  بن مولانا سید شاہ شرف الدین قادری رحمھم اللہ اجمعین امارت شرعیہ بہار اور اڈیشہ کے تیسرے امیر شریعت تھے۔٣/ذیقعدہ ١٣١٢ھ میں خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف میں تولد ہوئے، اور ١٩/جمادی الاخری ١٣٧٦ھ مطابق ٢١/جنوری ١٩٥٧ء کو دنیا سے رخت سفر باندھا، جنازہ کی نماز حضرت مولانا سید شاہ امان اللہ قادری سجادہ نشیں خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف نے پڑھائی اور خانقاہ مجیبیہ کے قبرستان باغ مجیبی میں تدفین عمل میں آئی، پس ماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک صاحب زادہ مولانا سید شاہ عماد الدین قادری رح اور دو صاحب زادیوں کو چھوڑا، ان میں سےایک صاحب زادی، حضرت مولانا سید شاہ عون احمد قادری رح کے نکاح میں تھیں۔
امیر شریعت ثالث نے ابتدا سے متوسطات تک کی کتابیں حضرت مولانا سید شاہ محی الدین قادری جعفری زینبی اور مولانا عبد العزیز امجھری سے پڑھیں، درسیات کی تکمیل مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ دربھنگہ سے کیا، یہاں انہوں نے مولانا عبد المجید صاحب راجوی دربھنگوی اور مولانا مقبول احمد خاں صاحب دربھنگوی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا،  یہ١٣٣٩ھ کا سال تھا، پہلی دستار بندی مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ دربھنگہ میں ہوئی، اور دوسری خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف میں ، علماء ، مشائخ، صاحب دل  اور اہل نسبت بزرگ دونوں جگہ موجود تھے، تصوف میں تمام سلاسل کی تعلیم وتربیت اپنے والد سید شاہ بدرالدین قادری رح سے پائی اور اس راہ میں کامل ہونے کے بعد اجازت و خلافت بھی انہیں سے ملی، حرمین شریفین کی زیارت اور حج بیت اللہ کی سعادت دوبار نصیب ہوئی، ایک بار ١٣٤٧ھ  اور دوسری بار ١٣٥٣ھ میں  ۔ان دونوں موقعوں سے آپ نے شیوخ حرمین، علماء کرام اور صاحب نسبت بزرگوں سے بھرپور استفادہ کیا، مختلف طرق سے سند حدیث اور مختلف سلاسل میں اجازت بیعت بھی حاصل ہوئی، سید عبداللہ بن محمد غازی نے قصیدہ بردہ کی اجازت مرحمت فرمائی، تاریخ ٢/ذی الحجہ ١٣٥٣ھ کی تھی، سید احمد شریف نوسی  نےسلسلہ قادریہ اور تمام سلاسل و مرویات کا تحریری اجازت نامہ ٩/محرم ١٣٤٨ھ کو آپ کو عطا کیا تھا، مولانا غلام دستگیر نے بھی احادیث کی روایت اور سلاسل کی سند سے سرفراز فر مایا، عرصہ دراز تک دارالعلوم مجیبیہ کے مؤقر استاذ کی حیثیت سے درس وتدریس کےسلسلہ سے وابستہ رہے، بہت سارے طلبہ نے آپ سے کسب فیض کیا۔فیض علمی بھی منتقل کیا اور  فیض روحانی بھی۔
امیر شریعت ثانی کے وصال کے بعد ٧/٦/شعبان ١٣٦٦ھ مطابق ٢٧/٢٦/جون ١٩٤٧ء کو ڈھاکہ موجودہ ضلع مشرقی چمپارن میں امیر شریعت ثالث کی حیثیت سے منتخب ہوئے، انتخاب امیر شریعت کے اس اجلاس کی صدارت مشہور محقق،مؤرخ اور عالم دین مولانا سید محمد میاں صاحب رح نے فرمائی، مجلسِ استقبالیہ کے صدر شیخ التفسیر حضرت مولانا ریاض احمد صاحب سنت پوری تھے۔
اجلاس میں امیر شریعت کے لیے چار نام، مولانا منت اللہ رحمانی، علامہ سید سلیمان ندوی،مولانا قاضی سید نور الحسن، مولانا سید شاہ محمد قمر الدین، مولانا ریاض احمد صاحب سنت پوری اور مولانا عبد الصمد رحمانی نائب امیر شریعت کے اسماء گرامی قدر پیش ہوئے، ان میں  آخر کے دوناموں کا اضافہ مجلسِ استقبالیہ نے کیا تھا؛ گویا کہ امیر شریعت کے لیے چھ نام پیش ہوئے، کوئی جھگڑا انتشار،اورافتراق اس لیے نہیں ہوا کیونکہ ان میں کوئی بھی عہدہ کا طلب گار اور منصب کا خواہش مند نہیں تھا، ان میں سے کسی کے لیے دستخطی مہم نہیں چلائی گئی تھی، دورے نہیں ہوۓ تھے، سوشل میڈیا کا بھی وجود نہیں تھا، سب خالی الذہن تھے، جس کی سمجھ میں جو نام آیا مجلس میں پیش کردیا، ان چھ ناموں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کے لیے انتخابی اجلاس نے ایک نو(٩) نفری کمیٹی بنائی، جس نے امیر شریعت ثالث کی حیثیت سے مولانا کو منتخب کرلیا، اجلاس کی توثیق کے بعد بیعت سمع و طاعت لی گئی۔
امیر شریعت ثالث رح کو امارت کی خدمت کے لیے زندگی کے دس سال ملے، کمی صرف یہ تھی کہ سابق دونوں امیر شریعت کے دور میں بانی امارت شرعیہ مولانا ابو المحاحسن محمد سجاد رح موجود تھے اور ان کی فکری بصیرت اور عملی تگ و دو سے کام آگے بڑھتا تھا، امیر شریعت ثالث کے دور سے پہلے ہی ان کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا اور ان کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی، اس کے باوجود چوں کہ امیر شریعت ثالث خانقاہ مجیبیہ کے سجادہ نشیں تھے ،اس لیے خلوت گزینی سے وہ آزاد تھے، امارت شرعیہ کے کاموں کو آگے بڑھانے کے لیے وہ بہار اڈیشہ میں دورے کرتے، ان کے رفقاء عالی قدر حضرت مولانا منت اللہ رحمانی، مولانا قاضی سید نور الحسن، مولانا عبد الصمد رحمانی رح سب مولانا ابو المحاحسن محمد سجاد رح کے تربیت یافتہ تھے، امارت شرعیہ میں نووارد نہیں تھے، کام کو سمجھے اور دیکھے ہوئے تھے، اس لیے امیر شریعت ثالث کی قیادت میں اپنے پیش رو دو امراء شریعت کے ذریعہ کئے گئے کاموں کو آگے بڑھانے میں لگے رہے۔
امیر شریعت ثالث کے انتخاب کے صرف ڈیڑھ ماہ کے بعد ملک  صرف آزاد ہی نہیں، تقسیم بھی ہوگیا، پورے ہندوستان میں عموماً اور بہار میں خصوصاً فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوۓ، گاؤں کا گاؤں نقل مکانی پر مجبور ہوا، ایک خونی طوفان تھا جو مسلمانوں کو اپنی زدپر لیے  ہوا تھا، ایسے میں امیر شریعت ثالث نے اپنے رفقاء کے مشورے سے ملک کے اقتدار پر متمکن قائدین اور گاندھی جی کو اس صورت حال کی طرف مضبوطی سے متوجہ کیا، یہ آواز سنی گئی اور سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خاں اور گاندھی جی کے ساتھ بہت سارے سیاسی حضرات نے بہار کے دورے کئے، گاندھی جی نے تو بہار میں کچھ دنوں کے لیے ڈیرہ بھی ڈال دیا تھا؛ لیکن تب تک بہت کچھ تباہ ہوچکا تھا، امارت شرعیہ نے متأثرین کو وقتی امداد کے ساتھ باز آباد کاری کے کاموں کے کام کو بھی اپنے ذمہ لیا، اور یہ سب امارت شرعیہ نے خدمت خلق اور انسانیت کے جذبہ سے کیا، من و توکی تفریق نہ کرنے کی وجہ سے حالات کو سازگار بنانے میں بڑی مدد ملی، حضرت امیر شریعت نے اپنے رفقاء کے ساتھ دورے کئے، مسلمانوں کو ڈھارس بندھائ، حوصلہ دلایا، خوف کی نفسیات سے نکلنے کی تلقین کی، اس سے مسلمانوں کے قدم جم گئے اور امارت شرعیہ کی جد و جہد سے بہار اور اڈیشہ کے مسلمان اس طوفان بلا خیز سے نکلنے میں کامیاب ہوئے،  امارت شرعیہ کی پکڑ عوامی سطح پر مضبوط ہوئی، لوگوں نے جان لیا کہ امارت شرعیہ ملی،تعلیمی تنظیم کے ساتھ سماجی اور رفاہی کاموں میں دوسری تنظیموں سے کہیں آگے ہے، اللہ تعالیٰ حضرت امیر شریعت ثالث کے درجات بلند کرے اور ملت اسلامیہ کے لیے ان کی خدمات کا  انہیں بہتر اجر عطا فرمائے۔آمین

Leave A Reply

Your email address will not be published.