مدرسوں کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی رپورٹ شائع کرنے پر جمعیۃ نے اخبار دینک جاگرن کو ہتک عزت کا نوٹس بھیجا  یہ خبر مدارس اسلامیہ کی خیر سگالی اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کے برے ارادے کے ساتھ شائع کی گئی ہے، اخبار کو فوری طور سے معافی مانگنی چاہیے اور اس کی اشاعت پر روک لگانی چاہیے: مولانا محمود مدنی

0

 نئی دہلی 20/جولائی
جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی کی طرف سے ان کے وکیل ایم آرشمشاد نے ہندی اخبار ’دینک جاگرن‘ کو قانونی نوٹس جاری کیا ہے:اس کی وجہ ۷/جولائی ۲۰۲۱ء کو اخبار کے صفحہ نمبر ۷ پر مدارس اسلامیہ سے متعلق جھوٹی اور گمراہ کن خبر کی اشاعت ہے۔اس خبر میں انتہائی غلط اور بے بنیاد باتوں کو مدرسوں سے جوڑا گیا ہے اور آزاد مدرسوں کو غیر قانونی عمل کا گہوارہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔جس سے ملک کے مسلمانوں کی شدید دل آزاری ہوئی ہے اور ملک میں لاکھوں بچوں کومفت بنیادی ابتدائی تعلیم فراہم کرنے والے دینی اداروں کے سلسلے میں عوام میں غلط تاثر قائم ہو ا ہے۔
حالاں کہ ملک کے آئین کی دفعہ 29-30میں تمام اقلیتوں کو اپنی پسند کے مطابق تعلیمی ادارہ قائم کرنے اور اسے چلانے، اسی طرح اپنی تہذیب، زبان اور رسم الخط کے تحفظ کا بنیادی حق ہے۔جہاں تک آرٹی ای ایکٹ 2009کا معاملہ ہے تو اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ (حکومت بنام پرامتی ایجوکیشنل اینڈ کلچرل ٹرسٹ 2013) موجود ہے، جس میں اقلیتی اداروں بشمول مدارس اسلامیہ کو اس قانون کے دائرے مستثنی رکھا گیا ہے اور اس سلسلے میں بنیادی دفعہ 30کا حوالہ دیا گیا ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ ہندی اخبار کی خبر میں یہ ذیلی سرخی بھی لگائی گئی ہے ”نہیں لینا چاہتا مانیتا“جس میں کہاگیا ہے کہ ”زیادہ تر غیر مانیتا پراپت مدرسے، مانیتا کے لیے آویدن نہیں کرنا چاہتے ہیں،کیوں کہ مانیتا ملنے پر انھیں ویبھاگ سے نیموں (اصولوں) کا پالن کرنا ہو تا ہے، چند ے کا حساب دینا ہو تا ہے“ یہ الزام انتہائی غلط اورمنفی تاثر پیدا کرنے والا ہے جو دینک جاگرن اخبار اور اس کے رپورٹر حسین شاہ نے خود سے وضع کیا ہے، جب کہ حقائق کے اس کے خلاف ہیں اور اس کے پس پشت اخبار کی بدنیتی ظاہر ہو تی ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی خبر کے طویل عنوان کے نیچے دانستہ طور سے  ’لو جہاد‘ کے مفروضہ کی خبر بھی شائع کی گئی ہے جس کا مقصد قاری کو کنفیوز کرنا ہے اور یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ مدرسوں میں اس کی طرح غیر قانونی سرگرمی ہو تی ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا خبر کی اشاعت سے مدرسوں کو ناقابل تلافی نقصان اور اس کی ساکھ کو صدمہ پہنچا ہے،۔ اس کے علاوہ مدرسوں سے عمر گوتم کے قضیہ کو جوڑا گیا ہے اور عمر گوتم کو جرم کا محور مان کر مدرسوں کو اس کا مرکز بتایا جارہا ہے، جب کہ عمر گوتم کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
اس لیے ہم دینک جاگرن سے غیر مشروط معافی مانگنے اور اس گمراہ کن مضمون کی اشاعت بند کرنے اور اپنی ویب سائٹ سے حذف کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، بصورت دیگر جمعیۃ علماء ہند عدالتی چارہ جوئی کے لیے مجبور ہو گی۔
اس سلسلے میں آج نئی دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے قانونی معاملوں کے نگراں ایڈوکیٹ و مولانا نیاز احمد فاروقی نے بتایا کہ اس خبر سے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ ملک میں سارے آزاد مدرسے غیر قانونی طور سے چلتے ہیں، اس لیے سرکار ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مدارس ملک کے آئین کی بنیادی دفعہ 30کے مطابق چلتے ہیں اور ان کا وجود عین آئینی اور دستوری حق کا تحفظ ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے مقصد اصلی میں مدارس اسلامیہ کا تحفظ شامل ہے، اس لیے ایسی خبروں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس سبھی مدرسوں کی شاخ متاثر ہوتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.