کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قربانی کے بکرے اور رشو

0

 

کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قربانی کے بکرے اور رشو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کی کرونا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چڑیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد سراج عظیم دہلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاک ڈاوءن کو پورے چار مہینے ہو گئے تھے رمضان عید سب لاک ڈاوءن میں ہی گزری تھی ہر شخص پریشان تھا لیکن کوئ ڈر کی وجہ سے باہر نہیں نکلتا تھا اب بقرعید بھی اگئ تھی لاک ڈاوءن میں سرکار نے صبح سے رات نو بجے تک ڈھیل دے دی تھی اس وجہ سے لوگ باہر نکل رہے تھے مگر ڈرے ہوئے جب سے رشو کو انکی امی نے کرونا چڑیل کے بارے میں بتایا تھا تب سے وہ اس سے بچنے کے لئے ہر تدبیر اوراحتیات کو اپنے ہی طریقے سے کرتے اور سب کو بتاتے رہتے رشو بھیا یوں تو اپنے کھیل میں اور گھر مین جانوروں اور پرندون میں الجھے رہتے تھے بڑا سا انگن ہی ان کے لئے کھیل کود اور طرح طرح کی کار گزاریون کے لئے بہت تھا
اتفاق سے ان کے چچا گھر میں بقرعید میں بکروں کی قربانی کا ذکر کر بیٹھے بس رشو بھیا کے کان کھڑے ہو گئے فورا دادا کے پاس پہنچ گئے
"دادا اپ کو معلوم ہئے اب بکرا عید اگئ ہئے پنو چاچا کہہ رہے ہین”
"بھیا بکرا عید نہیں بقرعید”
"ارے دادا وہی تو کہہ رہا ہوں بکرا عید اپ نے بدھو سمجھا ہئے کیا”
"نہیں تم کہاں بدھو ہو تم تو افلاطون ہو”
"دادا اپ بھی بچون والی باتیں کرتے ہیں ارے یہ سی والی عید پر بکرے کی قربانی ہوتی ہئے تو بکراعید ہوئ نہ ”
” تم بھیا جھکی بہت ہو اچھا بتاوء کیا کروگے”
"ارے دادا بکرے کہاں سے ائیں گے کرونا چڑیل کی وجہ سے تو سب لوگ ڈر کے مارےگھر میں ہیں”
"دیکھو بھیا کیا ہوتا ہئے قربانی کا کیا ہوگا اس بار تو ایسا ہی لگ رہا ہئے پتہ نہیں بکرے ائیں گے بھی کہ نہیں”
"کیوں دادا”
"اماں ہاں بھیا اج کل ایسا ہی معاملہ چل رہا ہئے پتہ نہیں کیا ہو کرونا کی وجہ سے بکرے بازار میں ائیں بھی کہ نہیں”
یہ سن کر رشو بھیا سوچ مین پڑ گئے کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو اپنی ممی کے پاس چلے ائے اب ان سے پوچھ تاچھ تھی
"ممی کیا کرونا چڑیل کی وجہ سے اس بار بکرے نہیں آئیں گے”
"مجھے کیا معلوم اپنے پاپا سے معلوم کرو میرا دماغ مت چاٹو”انکی ممی نے انھیں جواب دیاوہ پتہ نہیں کس الجھن میں تھیں
"ارے ممی پاپا تو باہر گئے ہیں میں کس سے پوچھوں ” انھون نے بڑے جھنجھلاکر اپنی ممی سے کہا اور سیدھے دادا کے کمرےمیں پہنچ گئے ان کے بیڈ پر چڑھے اور موبائل اٹھا لیا
"کیا بات ؟ بھیا موبائل کہاں لیکر جا رہئے ہو؟”
"دادا ایک منٹ پاپا کو فون کر رہا ہوں”
"ارے کیوں پاپا کو فون کر رہئے ہو”
"ارے رکئے دادا”یہ کہتے کہتے رشو نے پاپا کا نمبر ڈائل کر دیا فورا ہی اس پر ایک عورت کی آواز میں ریکارڈیڈ میسج انے لگا اب انھوں نے اس کوکان پر لگاکر غور سے سنا ان کا چہرہ خوشی سے کھل گیا انھون نے اس کو جو سمجھا وہ دادا کو بتایا
"دیکھا دادا یہ انٹی کیا کہہ رہی تھیں بکروں کی کرو دیکھ بھال کرونا سے جیتے گا ہر حال”
انکے دادا مسکراتے ہوئے بولے "ہاں تم نے اپنے مطلب کی خود اپنے آپ سمجھ لی ”
"ہاں دادا سچی یہی کہہ رہی تھیں آنٹی”وہ دادا سے بحث کر رہے تھےاتنے میں ان کے کانوں میں بکروں کے میں میں کی آواز پڑی
” ارے دادا یہ بکرے کہاں میں میں کر رہے ہیں” فورا چونکتے ہوئے رشو نے دادا سے پوچھا تبھی دو بارہ بکروں کے بولنے کی آواز آئ دوبارہ بکروں کی آواز گھر میں زور سے انے لگی رشاد اور دادا دونوں ایک ساتھ کمرے سے ورانڈے میں نکل آئے
"ارے پاپاآپ بکرے لے آئے” کتھئ سفید چتکبرہ، سفید اورکالے رنگ کے دو بکرے دیکھ کر رشو چیخے اور آنگن میں بھاگے انکے پاپا دو بکرے ابھی ابھی لیکر آئے تھے ان بکروں کو وہ آنگن مین آم کے پیڑ کے نیچے باندھ رہے تھے اب یہ کیسے ممکن تھا کہ رشو اپنے مشورے نہ دیتے
"ارے پاپا آپ بکرے لے آئے مجھے لیکر نہیں گئے” بکروں کے پاس پہنچ کر انھوں نے شکایت کی
"ہاں بھیا پیچھے ہٹو تمہارے سینگ نہ لگ جائے”
"ارے پاپا مجھے بکروں پر ہاتھ تو پھیرنے دیجئے”رشو نے کہا
” ارے رشو ابھی بکروں کو آرام کرنے دو اتنی دور سے چل کر آئے ہیں” پاپا نے رشو سے خفگی سے کہا
” ارے پاپا بکروں کو دور دور باندھئے اور پاپا بکروں کے منھ پر ماسک نہیں لگایا معلوم ممی کہہ رہی تھیں جو منھ پر ماسک نہیں لگاتے ہیں ان کے پاس کرونا چڑیل آجاتی ہئے اور الگ کمرے میں بند کر دیتی ہیے ہاں سچی پاپا "رشو بڑے جوش مین بتا رہے تھے
” ارے ہاں بھیا ابھی تم پیچھےتو ہٹو اور جاوء اپنا ماسک تو لگا کر آوء” بڑی نرمی سے ان کے پاپا نے کہا
‘ارےے!! پاپامیں تواتنا صاف صاف رہتا ہوں ممی تو کہہ رہی تہیں جو بچے صاف رہیں گے کرونا چڑیل ان کے پاس نہیں آئے گی”رشو ہر طرح سے اپنی بات منوانے میں لگے تھے مقصد یہی تھا کہ وہ بکروں کے اس پاس رہیں قربانی کے بکرے انکی دلچسپی کا مرکز تھے اب عید تک سوتے بیٹھتے بکرے ہی انکی دلچسپی کا سامان تھے
صبح سویرے اٹھنے کی عادت کی وجہ سے فجر میں اٹھ گئے دادی کے پاس باورچی خانے میں پہنچے نماز کے بعد دادی چائے بنا رہی تھیں یہ پانچ سال کے ہوگئے تھے بوتل میں دودھ پیتے تھے دادی سے بوتل بھروائ اور انگن میں بکروں کے پاس پہنچ گئے یہ جیسے ہی بکروں کے پاس پہنچے وہ میں میں کرنے لگے اب یہ ان سے مخاطب ہوگئے” ددھو پینا ہے "اپنی بوتل بکروں کے آگے بڑھاتے ہوئے بولے
"بھیا کہاں پہنچ گئے بکروں کے پاس دودھ تو پی لو” ان کی دادی باورچی خانہ سے آواز دیتی ہوئ بولیں "ارے دادی بکرے بھی ددھو پئیں گے ” رشو نے پلٹ کر کہا ” ارے بھیا رحیم آکر ان کو سب کچھ کھلائے پلائیں گے تم تو ادھر آوء” رشو نے دادی کو جواب دینے کے لئے منھ کھولا تبھی رحیم گھر کے نوکر سر پر دوپلی ٹوپی چہرے پر داڑھی عمر تقریبا پچاس کے قریب ان کو آتے ہوئے دکھائ دئے اب یہ ان کی جانب متوجہ ہوگئے اور ان سے دادا کے لہجے میں باتیں کرنے لگے
"ارے رحیم دادا آگئے ہاتھ دھوئے” ” جی بھیا” ” کہاں دھوئےرکو” اور انھوں نے اپنی بوتل زمین پر رکھی اور بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں گئے واپس بھاگتے ہوئے آئے تو ہاتھ میں چھوٹی سی سینیٹائزر کی شیشی تھی ” لو اس سے اپنے ہاتھ صاف کرو یہ ممی نےلاکر دیا ہئے جو بچے ہاتھ صاف نہیں کرتے تو کروناچڑیل انکے منھ ناک میں چھپ کر بیٹھ جاتی ہے پھر رات میں پریشان کرتی ہے ہاں تمہاری اور بکروں کی ناک میں کرونا چڑیل بیٹھ جائےگی اس لئے ہاتھ صاف کرو” انھوں نے اپنے دادا کے انداز میں کہا رحیم نے جواب دیا” بھیا ہم ہاتھ دھوکر آئے ہیں” ” ارے بھیا رحیم سنتے نہیں ہیں ارے بھائ ہاتھ صاف کرلو” وہ بالکل دادا کے انداز میں بولے رحیم نے اسی میں عافیت سمجھی اور ہاتھ صاف کرلئے بکروں کو چنے کھانے کو دئے چارہ ڈالا اور بالٹی میں پانی رکھا دونون بکروں نے بالٹی میں منھ ڈال دیا کالے سفید بکرے نے ایک دم چھینک مار دی بس رشو شروع ہوگئے ” ارے رحیم بےکوف ہو ایک ہی بالٹی میں پانی رکھ دیا الگ الگ دینا چاہئے تھا بھائ” وہ دادا کے انداز میں بولے وہ پھر کمرے کی طرف بھاگے اور جب واپس آئے تو دو نیلے رنگ کے ماسک ہاتھ میں تھے "لو یہ ماسک پہنا دو بکروں کو نہیں تو کرونا اجائےگی ” "ارے بھیا بکروں کو یہ کیسے پہنائیں” رحیم نے ہنستے ہوئےکہا "ارے رحیم نرے بےکوف ہو، ارے یہ منہ پر لگا کر لاسٹک کانوں میں ڈالتے ہیں بدھو” رحیم نے بکروں کو ماسک پہنانا شروع کردئے بکرے ادھر ادھر منھ کرنے لگے رحیم پریشان ” اے چتکبرے بکرے گندی بات ہوتی ہے اچھے لوگ ماسک پہنتے ہیں چلو پہنو ماسک” رشو ڈانٹ رہے تھے بڑی مشکل سے رشو کی وجہ سے رحیم نے بکروں کے ماسک لگایا۔اب تک گھر میں چہل پہل ہوگئ تھی انکی بہن نفو بھی آگئ تھیں اب یہ ضد پکڑ گئے تھے کہ بکروں کو ٹہلاوءنگا رحیم مجبور ہوگئے بکروں کی رسی کھو لی اور ہاتھ میں لیکر آنگن میں ٹہلانے لگے رشاد نے انکے منع کرنے کے بعد بھی چتکبرے بکرے کی رسی پکڑ لی اتنے میں پتہ نہیں کیا ہوا کالے سفید بکرے نے چتکبرے بکرے کے پیٹ میں سینگ مار دیا وہ بھاگ کھڑا ہوا اور رشو نفو اسکے جھٹکے میں نیچے زمین پر گر گئے ورانڈے سے انکی ممی دادی اور دادا چیخے ” ارے کیاکر رہے ہو رحیم بچوں کو دیکھو” رحیم کا دماغ انکی طرف ہوا اور کالا سفید بکرا بھی اچھل کر بھاگا رشو تو فورا اٹھ گئے مگر نفوکو رحیم نے اٹھایا اس کے چوٹ لگ گئ تھی اور وہ رو بھی رہی تھی یہ دادا کے پاس پہنچ گئے اور صفائ دے رہے تھے ” دادا یہ سب ان رحیم کی وجہ سے ہوا ہے یہ پورے بےکوف ہیں میں نے کچھ نہیں کیا ہے” کولہوں پر دونوں ہاتھ رکھے نتھنے پھلائے دانتوں کو بھینچ بھینچ کر کہہ رہے تھے
بکرے کیا آگئے تھے گھر والوں کے لئےایک ہنگامہ روز برپا رہتا رشو دن رات بکروں میں ہی لگے ہوئے تھے آنگن میں کئ گملے ٹوٹ گئے تھے کئ پیڑکچل گئے تھے بکروں کی اچھل کود سے سارے لوگ پریشان ہوجاتے مرغیاں زور زور سے کڑکڑانے لگتیں بلی بھاگ کر منڈھیر پر چڑھ جاتی چڑئیں طوطے اپنے پنجروں میں چیخنے اور پھڑ پھڑانے لگتے
عید سے ایک دن پہلے رشو بیٹھے اپنے دادا سے بکروں کی باتیں کر رہے تھے” دادا کل بکرے کٹ جائیں گے دادا بکروں کو مت کٹوائے نا” دادا سمجھا رہے تھے بیٹا یہ قربانی تو ہر سال ہوتی ہے نا قربانی سے اللہ خوش ہوتا ہئے اللہ پاک سب کی دعائیں قبول کرتا ہے” ” تو دادا اللہ میاں کو کیسے پتہ چلتا ہے ہماری دعاوءں کا کیا یہ بکرے اللہ میاں کو جاکر بتائیں گے” دادا سے رشو بہت معصومیت سے کہہ رہے تھے دادا کی سمجھ میں نہیں آیا کہ رشو کی بات کا کیا جواب دیں انھوں نے فورا کہا "ہاں بھیا یہ بکرے تمہاری دعا اللہ پاک کے پاس لیکر جائیں گے ”
” دادا تو کیا یہ کروناچڑیل کو بھگانے کے لئے اللہ میاں کے پاس دعا لے جائیں گے” رشو بہت معصوم باتیں کر رہے تھے
"ہاں بیٹا بالکل لے جائیں گے” دادا نے بہت پیار سے رشو کا جواب دیا
دوسرے دن عید کی نماز کے بعد کالا سفید بکرا کٹ گیا تھا اور رشو چتکبرے بکرے سے باتیں کر رہے تھے ” اے چتکبرے اللہ میاں سے کہنا اللہ میاں اس کرونا چڑیل کو کمرے میں بند کر دیں سب لوگ اس سے بہت ڈرتے ہیں سب ڈرکی وجہ سے گھروں میں چھپے ہوئے ہیں یہ بچوں اور بڑوں کو اٹھاکر لےجاتی ہے اور کمرے میں بند کر دیتی ہے ہاں اور اللہ پاک سے کہنا اسکول بھی کھلوا دیں اور بازار بھی میں نے بہت دن سے آئیس کریم نہیں کھائ ہے” چتکبرے بکرے کی بھی قربانی ہوگئ رشو اپنی ممی کو بتا رہے تھے کہ انھوں نے چتکبرے بکرے سے کیاکیا دعا اللہ پاک کو کہلوائ ہے” ممی دیکھئے گا اللہ میاں کرونا چڑیل کو کمرے میں بند کردیں گے پھر سب باہر نکلیں گے”
انکی ممی کہہ رہی تھیں "ہاں بیٹا اللہ پاک تمہاری دعا ضرور قبول کرے گا

Leave A Reply

Your email address will not be published.