چھت کا پانی

0

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہ قلم : محمد انواراللہ فلک قاسمی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برسات کا موسم ہے ، ہر طرف بارش ہو رہی ہے ، کل تک حکومت پریشان تھی کہ پانی کی سطح اب بہت نیچے ہو گئی ہے اس لئے آئندہ ماہ و سال میں پینے کے پانی کی دشواری ہو سکتی ہے ۔ لیکن رب کریم کی رحمت بیکراں متوجہ ہوئی اور باران رحمت کا نزول ہو نے لگا اور اتنا ہوا کہ کہیں تو سیلاب آ گیا اور کہیں اس کی آمد آمد ہے جس کے نتیجے میں شہر سے لے کر دیہات و قصبات کے چھو ٹے بڑے راستے مخدوش اور متاثر ہو نے لگے ہیں ، اس وقت سب سے زیادہ اس گاوں کا راستہ خراب ہوا ہے، جہاں سند یا فتہ تو زیادہ ہیں اور پڑھے لکھے کم ہیں ، استعداد و صلاحیت میں بڑی گراوٹ ہے ، جیب کے مفلس تو کم ہیں اور ذھن و فکر کا افلاس بہت ہے ۔ شاید اسی وجہ سے کسی نے کہا تھا کہ جہاں جہالت ناسور ہے وہیں کم پڑھا لکھا ہونا بھی بڑی آفت ہے ۔ اس وقت کی مجموعی صورت حال یہ ہے کہ اقتدار کی ہوسناکی ، ذاتی مفاد کا تحفظ ، لوگوں کی زندگی کا نصب العین بنا ہوا ہے اور سیاسی استحکام کے نشے میں لوگ مخمور ہیں ہر کوئی اپنی "انا” میں فنا ہے ۔ اور جب بارش ہوتی ہے تو اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ میرے چھت کا پانی تیز دھار کی صورت میں راستے پر گر رہا ہے اور راہ گیروں کو اس سے تکلیف بھی ہو رہی ہے اور پانی کے مسلسل گر تے رہنے سے راستہ بھی خراب ہو رہا ہے، اس کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری اور ہماری انسانیت کا تقاضہ ہے ۔ لوگ لاکھوں روپئے خرچ کر کے اچھا گھر تعمیر کر لیتے ہیں لیکن اپنے چھت کے پانی اور گھر کے نالی کے ذریعے سڑک پر گرتے ہوے پانی کی فکر نہیں کر تے ہیں ، جس کی وجہ سے عموما گاوں گرام کا راستہ خراب رہتا ہے اور گندا بھی ۔ اور یہ صرف اپنی سوچ اور ذہنیت کی تنگی اور فکر کا دیوالیہ پن ہے ۔ ورنہ تو شہروں میں دیہات کی نسبت آبادی بھی زیادہ ہوتی ہے اور جگہ کی تنگی بھی لیکن اس کے باوجود کچھ علاقے ایسے بھی مل جائیں گے جہاں برسات کی زیادتی اور پانی کی کثرت کے باوجود وہاں پانی کا جماو نہیں ہو تا ہے اور راستہ گندا بھی نہیں رہتا ہے ۔ بلکہ برسات کے زمانے میں سڑکیں مزید صاف ستھری نظر آ تی ہے ۔ تحقیق حال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر آباد تمام باشندگان اپنی اعلی اور معیاری رہائش کے منصوبے میں راستے کے تحفظ کو بھی شامل رکھتے ہیں اسی لئے اس علاقے کا راستہ جلدی خراب بھی نہیں ہوتا ہے اور برسات کے زمانے میں زیر آب بھی نہیں رہتا ہے ۔ لیکن دیہاتوں میں ایسی سوچ و فکر کے لوگ اور ایسا علاقہ شاید ہی مل سکے گا خصوصا شمالی بہار کے سرحدی اضلاع میں ۔اس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ دیہاتی لوگ زیادہ تنگ نظر واقع ہیں اور ان کا شعور زیادہ خوابیدہ ہے ۔
حالانکہ راستوں کو گندگی اور اذیتوں سے بچانا اور مسافروں کے لئے سہولت فراہم کرنا جہاں ہماری انسانیت ہے وہیں ہماری شریعت و شرافت بھی ہے ۔
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کا ابتدائی درجہ راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو دور کر دینا ہے ، خالق کائنات کی رضا، خوشنودی اور حصول مغفرت کا ذریعہ ہے ۔
اس وقت حکومت اور اس کے اہل کار سے لے کر سماجی تمام باشندگان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ راستے کے حقوق کے سلسلے میں انفرادی اور اجتماعی مشورے سے اپنی آبادی کو بہتر سے بہتر بنا نے کی فکر کریں تاکہ ہماری آبادی دوسری آبادی کے لئے نمونہ بن سکے ورنہ تو اس وقت کی صورت حال یہ ہے کہ جہاں دیکھو گندگی بس سمجھ لو کہ مسلمان وہاں آباد ہیں حالانکہ یہ بات سو فیصد درست نہیں ہے لیکن اگر کچھ بھی ہے تو وہ مسلم سماج کے لئے بد نما داغ ہے ۔ اس سے بچنا چاہیے اور اپنے گاوں ، سماج اور سوسائٹی کو خوبصورت اور دلکش بنانا چاہیے ۔
خدا کرے کہ ہمارا سماج متوجہ ہوجاے
یہ کوئی مشکل اور دشوار گذار معاملہ نہیں ہے صرف اپنی سوچ اور فکر کو معیاری اور بلند بنانے کی ضرورت ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.