حضرت ابراہیم علیہ السلام

0

 

( پہلی قسط)
مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی
چیرمین انڈین کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ ٹرسٹ بنگلور ، کرناٹک وجامعہ فاطمہ للبنات مظفرپور ، بہار

تورات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نسب نامہ اس طرح مذکور ہے: ابرا ہیم بن تارخ بن
ناحور سروج بن رعو بن فالح بن عابر بن شالح بن ارفکشاذ بن سام بن نوح علیہ اسلام ۔ یہ تصریح تورات کے علا وہ کتبِ تاریخ کے بھی مطابق ہے۔
قرآن کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر بتایا ہے اور تاریخی کتب میں تارخ لکھا گیا ہے ۔اہل علم نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں ۔ تارخ اسمی نام ہے اور آزر وصفی نام۔
آزرعبرانی زبان میں مُحبِّ صنم کو کہا جا تا ہے ۔ چونکہ تارخ میں بت تراشی اور بت پرستی دونوں وصف موجود تھے اس لئے اس کوآ زرکہا گیا۔ قرآن حکیم نے اس کے وصفی نام ہی کو بیان کیا ہے ، مشہور امام تفسیرمجاہد رحمہ الله (المتوفی 103ھ ) نے لکھا ہے کہ آزر دراصل اس بت کا نام تھا جس کا وہ پجاری رہا ہے ۔ اس نسبت سے اس کا نام بھی آزر پڑ گیا ۔قدیم زمانے میں بت پرست لوگ اپنے بچوں کے نام بتوں کے نام پر رکھد یا کر تے تھے ۔(ابن کثیر )
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ کا نام’’امیلہ” تھا اور دوسراقول یہ ہے کہ ” بونا بنت کر بنابن کرثی” تھا۔ (البدایہ:1 ص:140 )
حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے تین ہزار تین سوسینتیس ( 3337 ) سال بعد پیدا ہوۓ اور طوفان نوح کے 1263سال بعد اور دوسرا قول یہ ہے کہ 1079 سال بعد پیدا ہوۓ۔ ( تاریخ الام والملوک ج: 1 ص: 146)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے 37 سال کی عمر میں حضرت سارہ علیہا السلام سے شادی کی اوروہ حران کے بادشاہ کی لڑکی تھیں ( طبری ج : 1 ص: 118 وج :1 ص: 171 ) اور دوسرا قول علا مہ سہیلی رحمہ الله نے لکھا ہے کہ حضرت سارہ ہاران بن نا خور کی بیٹی تھیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچا تھے۔ ( تاریخ ابن خلدون ج:1 ص:78)
اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام بادشاہ مصر رقیون کی بیٹی تھیں ۔(حاشیہ تاریخ ابن خلدون ج:1 ص :78 )
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے "ابوالانبیاء” (نبیوں کے باپ کے نام سے یادفر مایا ہے ۔قرآن کریم نے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کوملتِ اسلام کے باپ اور اسلام کو "ملت ابراہیم‘‘ قرار دیا ہے ۔ بخاری کی روایت میں بھی اس قسم کی تصریح ملتی ہے۔ صحابہ رضی الله عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ ماھذہ الاضاحی یا رسـول الـلـہ؟ یہ قربانی کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا ۔ سنۃ ابیکم إبراهيم ( علیہ السلام ) تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہے! قرآن کریم کی 25 سورتوں میں 63 آیات کے ضمن میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ ملتا ہے۔
تاریخ عالم میں قومِ ابراہیم علیہ السلام شایدپہلی قوم ہو گی جس کا سرکاری مذ ہب بت پرستی تھا ،بت سازی اور بت پرستی جس درجے اس قوم میں پائی جاتی تھی ، اس کی مثال تاریخِ عالم میں ملنادشوار ہے۔( جاری)

Leave A Reply

Your email address will not be published.