وعدہ خلافی

0

 

یہ بات ہم میں سے بہت سارے لوگوں کا معمول بن چکی ہے کہ کسی کو ٹالنا ہوتو ہم فوراً جھوٹاوعدہ کرلیتے ہیں تاکہ اس شخص سے جان چھوٹے۔ہم سےکسی کا کوئی کام وقت مقررہ پر نہیں ہوسکتا مگر ہم اپنی جان چھڑانے کے لیے فوراً کسی بات کا وعدہ کرلیتے ہیں جب کہ ہم جانتے ہیں کہ دیے ہوئے وقت میں کام پورا نہیں ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے ہم بچ جاتے ہیں اور سامنے والے شخص کو احساس نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ہے تو یہ ہماری غلط فہمی ہے۔ وعدہ خلافی اور جھوٹا وعدہ ہمارے لیے وبال جان بن جاتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ وعدہ پورا کرنے کے لیے جتن کرنے سے زیادہ تناؤ ہمیں وعدہ خلافی کی بدولت ہوتا ہے۔
آج ہم جس ماحول میں سانس لے رہیں ہیں وہاں جھوٹ ،کینہ ،بغض ،حسد ،جلن ،منافقت ، وعدہ خلافی وغیرہ باتیں عام ہوگئی ہیں۔روز مرہ کی زندگی میں جانے انجانے کتنے گناہ سرز ہوتے ہیں۔ کبھی بھی ٹھوکر پہاڑ سے نہیں لگتی بلکہ پتھر سے لگتی ہے۔ہم سے یہ چھوٹے چھوٹے گناہ روزانہ ہوتے ہیں اور ہم نظر انداز کرتے رہتےہیں۔ جب کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں جگہ جگہ ان تمام بری باتوں سے منع کیا ہے۔
دنیا میں ایک دوسرے کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ہمارے ہر ایک سے معاملات پیش آتے رہتے ہیں۔ ان معاملات میں ایک دوسرے کو استقامت دینے اور دل مضبوط کرنے کے ضرورت پڑتی ہے۔ جس کے لیےہمیں قدم قدم پر ایک دوسرے کی مدد اور یقین دلانےکی ضرورت پڑتی ہے۔اور یقین دلانے کا ایک ذریعہ وعدہ ہے۔
تعلقات مضبوط کرنے، ایک دوسرے پر اعتماد، لین دین میں آسانی، سماج میں امن اور باہمی اتحاد کی فضا کا قائم ہونا وعدہ پورا کرنے سے ممکن ہے۔اس لئے قرآن و حدیث میں وعدہ پورا کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ساری دنیا اور معاشرے کی تعمیر و تکمیل میں جہاں اور بہت ساری باتیں اہمیت رکھتی ہیں ،ان میں سے ایک اہم بات وعدہ پورا کرنا بھی ہے۔ اس کے ذریعے معاشرے میں ایک توازن پیدا ہوتا ہے جس سے ماحول خوشگوار بن جاتا ہے اور وقتی رنجش ہو یا دائمی سب ختم ہوجاتی ہے۔
وعدہ کی پاسداری ایمان کے کمال کی نشانی ہے اور وعدہ خلافی کی عادت منافقوں کا شیوہ ہے۔ ( مشکوۃ المصابیح ، ص15)اس لیے جب وعدہ کیا جائے پھر وہ انسان سے ہو یا اللہ تعالی سے، اسے پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔ کبھی وعدہ خلافی ہوجائے تو اس کا کفارہ تو نہیں، البتہ توبہ استغفار کا اہتمام کیا جائے۔
اسلام نے جھوٹ بولنے سے روکا اور سچ بولنے کی تاکید کی ہے۔ جس طرح جھوٹ مذموم ہے اسی طرح عملی جھوٹ کی بھی ممانعت ہے۔ جس طرح قول کی سچائی مطلوب ہے اسی طرح عمل کی سچائی بھی مطلوب ہے۔ وعدہ خلافی کاعملی جھوٹ میں شمار ہوتا ہے۔ اسلام میں بڑی تاکید کے ساتھ عہد کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہےاور عہد شکنی کی مذمت کی گئی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ’’عہد کو پورا کرو، کیوں کہ قیامت کے دن عہد کے بارے میں انسان جواب دہ ہو گا۔‘‘(سورہ بنی اسرائيل آیت نمبر 34)
’’اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘( سورہ مومنون آیت نمبر 8)
’’قرآن نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے ، جو وعدہ کو پورا کیا کرتے ہوں۔‘‘(البقرۃ : ۲۲) ’’یقیناً اللہ تعالی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔‘‘ (سورہ الرعد آیت نمبر 31)
’’کیوں نہیں، جو شخص اپنا وعدہ پورا کرے اور پرہیزگاری کرے، تو اللہ رب العزت بھی ایسے پرہیز گاروں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ سورہ آل عمران آیت نمبر 76)
قرآن مجید میں کئی جگہ پر آیتیں ہیں جس میں وعدہ پورا نہ کرنے پر اللہ کی ناراضگی ظاہر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس صفت کا بہت بار ذکر فرمایا ہے کہ اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
عہد کو پورا کرنے کی اہمیت -حدیث و سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ارشادات کے ذریعہ بھی وعدہ پورا کرنے کی اہمیت اور وعدہ خلافی کی برائی کو بیان فرمایا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی وعدہ خلافی بتایا۔ ارشاد مبارکہ ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں ۔جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے۔( صحيح مسلم، 1، رقم الحديث: 210)
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ارشادات کے ذریعہ عہد کو پورا کرنےکی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص خدا اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیےکہ جب بھی وہ وعدہ کرے پورا کرے۔ ایک حدیث پاک میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکئی باتوں کا ذکر فرمایا، اور ان میں ایک صفت وعدہ پورا کرنا بھی ہے ، فرمایا۔’’جو کوئی ان پر ثابت قدم ہو میں اس کیلئے جنت کی بشارت سناتا ہوں، اور اس کیلئے جنت کا میں اپنے اوپر ذمہ لیتا ہوں‘‘۔ حدیث پاک میں یہ بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو اپنے عہد کا پابند نہ ہو اس کا دین میں کوئی حصہ نہیں، ’’جس میں امانت داری نہیں ہے اس میں ایمان نہیں ہے اور جو عہد کو پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔‘‘
وعدہ کی پاسداری ایمان کے کمال کی نشانی ہے اور وعدہ خلافی کی عادت منافقوں کا شیوہ ہے۔ ( مشکوۃ المصابیح ، ص: 15)
نفاق کفر کی ایک قسم ہے اور وعدہ خلافی کو آپ صلی الله علیہ وسلم نے نفاق قرار دیا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وعدہ خلافی کس قدر مذموم بات ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’ چار صفات جس شخص میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک صفت ہو اس میں نفاق کا ایک حصہ ہے حتی کہ اس عادت کو چھوڑ دے۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، جب عہدو پیمان باندھے تو اسے توڑ دے اور جب کوئی جھگڑا وغیرہ ہوجائے تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔ (سنن ابی داوُد)
جھوٹ اور وعدہ خلافی یہ اور اس طرح کے بعض رزائل اخلاق نفاق کی علامت ہیں۔ ’’تم مجھے 6 چیزوں کی ضَمانت دے دو میں تمہیں جَنّت کی ضمانت دیتا ہوں
(1) جب بات کرو تو سچ بولو
(2) وعدہ کرو تو اُسے پورا کرو
(3) تمہارے پاس کوئی امانت رکھوائی جائے تو اُسےادا کرو
(4) اپنی شرمگاہوں کی حِفاظت کرو
(5) اپنی نگاہیں نیچی رکھواور
(6) اپنے ہاتھوں کو گناہوں سے روکے رکھو۔‘(صحیح ابن حبان)
آپ صلى الله عليه وسلم نے خیانت ،جو وفا کی ضد ہے، سے پناہ مانگی ہے۔جیساکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ، ’’اور میں خیانت سے پناہ چاہتاہوں کیونکہ یہ بہت بری رازدار ہے۔‘‘ (رواہ ابوداود والنسائی وحسنہ الألبانی)
بے شک وعدہ وفاکرنا اور سچائی ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں۔ وعدہ وفاکرنے سے بہتر کوئی اور ڈھال نہیں جو عذاب سے بچانے والی ہو۔ جس شخص کا روزِ جزا پر اعتقاد ہو وہ اپنے وعدے کو نہیں توڑے گا اور عذر خواہی نہیں کرے گا۔ عقلمند لوگ وعدہ خلافی اور دھوکہ بازی کو سیاست اور ہوشیاری سمجھتے ہیں اور جاہل افراد بہترین بہانہ بازی کو ہنر سمجھتے ہیں۔ انہی دھوکہ بازی کے حیلوں میں ایک وعدہ خلافی بھی شامل ہے۔
وعدہ کی پابندی اور وعدہ کو پورا کرنے کا یہی سبق آپﷺ سے آپ کے رفقاء نے پڑھا اور اپنی عملی زندگی میں اسے برت کر دکھایا۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی وفات کا وقت آیا تو فرمایا کہ قریش کے ایک شخص نے میری بیٹی کے لئے نکاح کا پیغام دیا تھا اور میں نے اس سے کچھ ایسی بات کہی تھی جو وعدہ سے ملتی جلتی ہے۔ تو میں ایک تہائی نفاق یعنی نفاق کی تین میں سے ایک علامت کے ساتھ اللہ سے ملنا نہیں چاہتا ۔اس لئے میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا ( احیا ء العلوم : ۳ ؍۱۳۲)
— ان واقعات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کی نگاہ میں وعدہ کو پورا کرنے کی کس قدر اہمیت تھی ۔ دوست ہو یا دشمن، اپنا ہو یا بیگانہ اور مسلمان ہو یا غیر مسلم ہر ایک کے ساتھ عہد کی پابندی ضروری ہے۔
افسوس کہ اخلاقی کمی اور پستی کی وجہ سے آج سماج میں وعدہ خلافی کی بہت ساری صورتیں مروج ہوگئی ہیں اور لوگوں کے ذہن میں ’’وعدہ‘‘ کی توکوئی اہمیت ہی باقی نہیں رہ گئی ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ قرض وغیرہ کے لین دین ہی سے وعدہ کا تعلق ہے حالاںکہ ہم زندگی کے تمام مراحل میں عہد و پیماں سے گذرتے ہیں۔ معاملات جتنے بھی ہیں، نکاح ، خرید و فروخت ، شراکت اور پاٹنر شپ دو طرفہ وعدہ ہی سے عبارت ہے۔ اسی لئے معاملات کو عقد کہا جاتا ہے۔ عقد کے معنی دو طرفہ وعدہ اور معاہدہ کے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی جگہ پر ایفائے عقود کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔آج مسلمانوں کے زوال کی وجہ معاملات میں دھوکہ دہی، وعدہ خلافی بے ایمانی اور منافقت ہے۔
کچھ لوگوں کی عادت سی ہوتی ہے کہ وہ ضرورت نہ ہوتے ہوئے بھی صرف دوسروں کی نظر میں اچھا بننے کے لیے وعدہ کرلیتے ہیں۔ گلزارؔ نے کیا خوب کہا ہے۔
عادتاً تم نے کر دیے وعدے
عادتاً ہم نے اعتبار کیا
ایک بات بطور خاص ذکر کرنا ہے۔سماج میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو صرف اپنا کام نکالنا جانتے ہیں۔ اس کے لیے انھیں کسی کے جذبات اور احساسات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کے لیے کسی بھی معاملے میں وعدہ کرلینا ان کا ہتھیار اور ڈھال ہوتا ہے۔ ان کی ایک خاص خوبی ان کی میٹھی زبان اور بہترین رویہ ہوتا ہے۔ جب تک آپ سے کام رہے گا ان سے بہترین اور ان سے مخلص کوئی بھی نہیں ہوتا۔ آپ نے ان کی زبان پر اعتبار کرلیا تو وہ کسی نہ کسی بہانے آپ سے بھرپور فائدہ اٹھا لیں گے اور اس کے بعد وعدوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ آپ ان سے اپنی چیزوں یا روپے پیسے کا مطالبہ کرتے رہیں اور وہ آپ کو خوشنما وعدوں پر ٹالتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ آپ تھک کر خاموش ہوجائیں لیکن وہ وعدہ کرتے نہیں تھکیں گے۔
انسان کے کردار کی پختگی اس کی زبان سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ جہاں تک وعدہ پورا کرنے کا معاملہ ہے یقین جانیں کہ جس وقت آپ یہ عہد کرلیں گے کہ اب کسی سے جھوٹا وعدہ نہیں کریں گے یا کسی سے کیا ہوا وعدہ نہیں توڑیں گے تو آپ کے معاملات درست ہوتے جائیں گے۔ آپ کے ارادہ کا اخلاص آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا جسے دنیا کا اعتماد اور اطمینانِ قلب کہا جاتا ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے وعدوں پر قائم رہنے اور اسے تکمیل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

سیدہ تبسم منظور ناڈکر ۔ممبئی
ایڈیٹر، گوشہ خواتین و اطفال، اسٹار نیوز ٹو ڈے۔
ایڈیٹر، گوشہ خواتین و اطفال، ہندوستان اردو ٹائمز ۔
ایڈیٹر ،گوشہ خواتین و اطفال ،نوائے ملت۔
9870971871

Leave A Reply

Your email address will not be published.