غزلیں

0

جلال عظیم آبادی[مرحوم]

بنگلا دیش
فریب دے گیا میرا ہی رازدار مجھے
بتاﺅ کس پہ ہو اب اور اعتبار مجھے
تو خواب ہی میں سہی مل تو ایک بار مجھے
مریض عشق ہوں تیرا ملے قرار مجھے
ہجوم شوق کو تکتی رہی نگاہ مری
وہی نہ آ سکا تھا جس کا انتظا ر مجھے
اسی سے خوفزدہ ہوں اسی کی دہشت ہے
اسے نہ ملنا بھی کرتا ہے بے قرار مجھے
وفاو حق و صداقت کی راہ میں چل کر
ملی ہے منزل مقصود سوئے دار مجھے
جلال اس کے خزاں رخ میں وہ کشش ہے کہ
فریب دے نہ سکی شوکت بہار مجھے


خوشی ملی بھی تو ایسی کوئی خوشی نہ ہوئی
جو غم ملا بھی تو آنکھوں میں کچھ نمی نہ ہوئی
جو ہوسکے تو کوئی اور تجربہ کر لو
ہمارے گھر کو جلا کر بھی روشنی نہ ہوئی
مسیحا تم نے مداوا تو کر دیا لیکن
جلا ل درد میں میرے کوئی کمی نہ ہوئی


آپ ہوں ساتھ تو تنہائی سے ڈر لگتا ہے
نیلگوں آنکھ کی گہرائی سے ڈر لگتا ہے
چھیڑ پھر ساز نیا نغمہ¿ شیریں کوئی
بے سری شام کی شہنائی سے ڈر لگتا ہے
اپنی آنکھوں میں سمندر کا سبب کہہ دیتا
مجھ کو محبوب کی رسوائی سے ڈر لگتا ہے
کھُل نہ جاﺅں کہیں دو چار ملاقاتوں میں
اجنبی تیری شناسائی سے ڈر لگتا ہے
جس کی قربت کو تر ستا رہا اک عمر جلال
ناگہاں اُس کی پذیرائی سے ڈر لگتا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.