کرونا وائرس اور اسلامی ہدایات

0 57

مفتی امانت علی قاسمی استاذو مفتی دار العلوم وقف دیوبند
اس وقت عالمی سطح پر کرونا وائرس کی دہشت ہے ،اس وائرس کا آغاز چین سے ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے لوگ اس کی لپیٹ میں آگئے، اور موت کا لقمہ تربن گئے ،چین کے علاوہ اٹلی ،ایران اور دوسرے ملکوں میں اس سے متا¿ثرین کی تعداد ہزار وں میں ہے قریب ۰۴۱ /ممالک میں اس کے متاثرین پائے جارہے ہیں اور ہندوستان میں بھی اس وائرس سے متاثرین کی تعداد سو سے متجاوز ہوچکی ہے اور کئی اموات بھی اس سے واقع ہوچکی ہیں ،ہندوستان میں اس کی تعداد او ربھی زائد ہوسکتی ہے اس لیے کہ ڈیرھ ارب والے ملک میں وسائل کی بہت کمی ہے؛ اس لیے اس کی تعداد کا صحیح اندازا لگانا مشکل ہے ۔تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ یہ ایک وبائی مرض ہے جس نے پوری دینا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے یہ وائرس کسی مذموم مقاصد کے لیے چھوڑا بھی جاسکتا ہے جیسا کہ خود چین امریکہ پر اس کا الزام عائد کیا ہے تاہم اس وقت یہ ہماری بحث کا موضوع نہیں ہے۔
بیماری متعدی ہوتی ہے
ڈاکٹروں کی تحقیق یہ ہے کہ یہ بیماری متعدی ہوتی ہے اور اس کے کچھ علامات ہیں جس سے یہ بیماری دوسروں میں منتقل ہوسکتی ہے ۔یہ مسئلہ اسلامی شریعت کے خلاف نہیں ہے۔جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے جس میں کہا گیاہے کہ بیمای متعدی نہیں ہوتی ہے اس سلسلے میں معلوم ہونا چاہیے کہ حدیث میں جاہلیت کے عقیدہ کی نفی مقصود ہے کیوں کہ وہ حضرات بیماری کے تعدیہ کو مو¿ثر بالذات مانتے تھے، اور ہر قسم کی بیماری میں تعدیہ کا عقیدہ رکھتے تھے ، اسلام نے ان کے اس عقیدہ کی نفی کی کہ بیماری متعدی ہونے میں مو¿ثر بالذات نہیں ہے اور ہر بیماری کے متعدی ہونے کا عقیدہ درست نہیں ہے ہاں اسباب کے درجہ میں بعض بیماریاں متعدی ہوسکتی ہیںاسی وجہ سے بعض روایات میں ہے کہ لا یوردن ممرض علی مصح (صحیح مسلم حدیث نمبر ۱۹۷۵)بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس مت لے کر جاو¿ ،اسی طرح جذامی مریض سے بچنے کے لیے آپ ﷺ نے اس سے ایک نیزہ کے فاصلہ سے بات چیت کرنے کی تاکید کی حدیث میں ہے: کلم المجذوم بینک و بینہ قید رمح(التیسیر بشرح الجامع الصغیر۲/۰۲۲ )اس کاصاف مطلب ہے کہ بیماری متعدی ہوسکتی ہے ۔علامہ نووی نے لکھا ہے :دونوں طرح کی روایات ہیںبعض روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی ہے او ربعض سے معلوم ہوتا ہے کہ بیماری متعدی ہوتی ہے اس میں تطبیق یہ ہے کہ بیماری اپنی طبیعت کے اعتبارسے تو متعدی نہیں ہوتی ہے لیکن اللہ تعالی نے بعض بیمارسے ملنے کو متعدی ہونے کا سبب بنایا ہے۔ پس جس حدیث میں تعدیہ کی نفی ہے اس میں درحقیقت جاہلیت کے تعدیہ والے عقیدے کی نفی مقصود ہے اور دوسری روایت میں اللہ تعالی کی تقدیر سے بعض بیمار سے ملنے پر جو ضرر اور نقصان ہوسکتا ہے اس کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ وجہ الجمع ا¿ن الامراض لا تعدی بطبعہا و لکن جعل اللہ سبحانہ و تعالی مخالطتہا سببا للاعداءفنفی فی الحدیث الاول ما یعقتدہ الجاہلیة من العدوی بطبعہا و ارشد فی الثانی الی مجانبة ما یحصل عندہ الضرر عادة بقضاءاللہ و قدرہ (شرح النووی ۱/۵۳) شراح حدیث نے لکھا ہے کہ سات بیماری متعدی ہوتی ہیں ،اور یہ قدیم اطباءکی رائے ہے اس لیے اگر ماہر ڈاکٹر یہ کہے کہ یہ بیماری منتقل ہوسکتی ہے تو اس کوقبول کیا جاسکتاہے یہ اسلام کا حکم ۔ اس میں بھی مریض کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی نے میرے لیے اس بیماری میں مبتلا ہونا مقدر کیا تھا اس لیے ہمیں یہ بیماری ہوگئی ۔
خوف سب سے بڑا وائرس ہے
وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے ،شریعت نے اس کی ہدایت دی ہے ، تاہم اس سے خوف اور دہشت میں آنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ خوف و دہشت سے بڑاکوئی وائرس نہیں ہے۔ بہت سے لوگ جو اس میں بیماری میں مبتلا نہیں ہیں لیکن خوف نے اس پر اس قدر دبیز چادر تان لی ہے کہ وہ کرونا سے زائد مہلک بیماری میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ بعض مرتبہ نفسیاتی خوف ایک مہلک بیماری بن جاتا ہے یہا ںایک واقعہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک مجرم کو پھانسی کی سزا طے ہوئی لوگوں نے یہ طے کیا کہ اس کو تو مرنا ہی ہے اس لیے اس کو پھانسی نہ دی جائے ؛بلکہ سانپ کے کاٹنے سے موت واقع کی جائے چنانچہ اس کو ایک کرسی پر آنکھ پر پٹی ڈال کر بٹھادیا گیا اور اس کو دو سوئی چبھوئی گئی اور ٹھوڑی دیر میں دیکھا گیا ہے وہ مرگیا ہے او رجب اس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی تو اس میں پتہ چلا کہ اس کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہوئی ہے ،یہ صرف دہشت کا نتیجہ تھا اس مجرم نے سمجھ لیا کہ مجھے سانپ نے کانٹا ہے اورسانپ کا کاٹا نہیں بچتا ہے اس طرح اس کی موت ہوگئی جب کہ اس کو صرف سوئی چبھوئی گئی تھی ۔اس لیے خوف و ہراس سے بڑا کوئی مہلک مرض نہیں ہے ۔مسلمانوں کے پاس عقیدہ کی اتنی مضبوط طاقت ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے پاس آنے والے خوف کو ختم کرسکتے ہےں ۔ ایک مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ موت کا ایک وقت متعین ہے جس سے پہلے کسی کی موت نہیں ہوسکتی ہے اور اگر موت کا وقت آجائے تو کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا ہے ۔قرآن میں اللہ تعالی نے اس کو بہت واضح اندازمیں بیان کیا ہے۔ اذا جاءاجلہم لا یستاخرون ساعة و لا یستقدمون (سورہ نحل ۱۶)جب موت کا وقت آجاتا ہے تو ایک سکنڈ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہوتا ہے ۔ایک مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اگر اللہ تعالی کسی کونقصان پہچانا چاہے توپوری دنیا مل کر اس کو نفع نہیں پہنچاسکتی ہے اور اگر اللہ تعالی کسی کو نفع پہنچا نا چاہے تو پوری دنیا مل کر اس کو نقصان نہیں پہنچاسکتی ہے ۔آپ ﷺ نے ہمیں یہ دعا سکھلائی ہے: اللم لا مانع لما اعطیت و لا معطی لما منعت و لاینفع ذاا لجد منک الجد (صحیح البخاری ،حدیث نمبر ۴۴۸)اے اللہ جس کو آپ کوئی نعمت دینا چاہیں تو کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے آپ روک دیں کو تو کوئی اسے دے نہیں سکتا ہے اورمال والوں کی اس کی مال داری نفع نہیں پہنچاتی ہے ۔اےک مسلمان کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ بیماری دینے والی ذات اللہ کی ہے اور شفاءدینے والی ذات بھی اللہ کی ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ بیماری اور دواءکے درمیان ایک پردہ حائل ہوتا ہے جب اللہ کاحکم شفاءکا ہوتا ہے تو وہ درمیانی پردہ زائل ہوجاتا ہے اور دوا کارگر ہوجاتی ہے اور مریض شفاءپاجاتا ہے (مرقاة المفاتیح ،کتاب الطب والرقی۷/۸۲۱۶)۔
وبائی امراض میں لاک ڈاو¿ن (lock down)
شریعت نے ا حتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور ان احتیاطی تدابیر پر جس حد تک عمل ممکن ہو کرنا چاہیے ، طاعون کے سلسلے میں اسلام کی ہدایت ہے آپ ﷺ کا ارشاد ہے :ذکر الطاعون عند رسول اللہ ﷺ فقال :رجز ا¿صیب بہ من کان قبلکم فاذا کان با¿رض فلاتدخلوھا واذا کان بہا و انتم بہا فلاتخرجوا منہا (مسند احمد حدیث نمبر :۱۹۴۱)کہ جس علاقے میں طاعون پھیلا ہو لوگ وہاں نہ جائیں اور وہاں کے لوگ وہاں سے نہ نکلیں بلکہ صبر کرکے انہی علاقوں میں رہیںاگر موت مقدر ہوگئی تو شہادت کی موت ہوگی وہاں سے نکلنا موت سے فرار اختیار کرنے کے مترادف ہے جب کہ اگر کسی کی موت کا وقت آگیاہے تو وہ موت سے بھاگ نہیں سکتا ہے۔ قرآن نے کہا ہے کہ اینما تکونوا یدرکم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدة (سورة النساء۷۷)تم جہاں کہیں بھی رہو موت تم کو آپکڑے گی اگر چہ تم مضبوط قلعوں میں بند ہوجاﺅ ۔اور دوسرے لوگوں کو وہاں جانے سے اس لیے منع کیا کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو ، اور جہاں وبائی امراض پھیلے ہیں وہاں جانا گویا کہ اپنے آپ کو ہلاکت کے قریب کرنا ہے۔ اس نقطہ نظر سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وبائی امراض متعدی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے وبائی امراض کے پھیلے ہوئے علاقو ں میں جانے سے منع کیا گیا ۔ آج جو بہت سے ملکوں میں (lock down)لاک ڈاو¿ن کیا گیا ہے کہ کوئی دوسرے ملکوں سے نہ آئے اور اس ملک کا کوئی باہر نہ جائے تو درحقیقت اسلام کا ہی نظریہ ہے جو اسلام نے چودہ سو سال پہلے لوگوں کے سامنے وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے پیش کیا تھا اگر حالات اس قدر خراب ہوجائیں اوروبائی امراض اس قدر پھیل جائے تو لاک ڈوان کیا جاسکتا ہے یہ اسلام کی تعلیمات کے عین موافق ہے ۔
وبائی امراض پھیلنے کی صورت میں ہماری ذمہ داریاں
وبائی امراض یا وائرس کا پھیلنا ایک قسم کا عذاب خداوندی ہے اس سے نہ صرف لوگوں کی موتیں واقع ہورہی ہیں؛ بلکہ دنیا بالکل سمٹ سی گئی ہے ، اسفار پر پابندی ہے، لوگ ادھر سے ادھر نہیں جاپارہے ہیں ،معیشت کا بہت بڑا نقصان ہورہا ہے ، چیزیں بہت سے علاقوں میں مہنگی ہوگئی ہیں جس سے عام لوگ تکلیف میں مبتلا ہیں، ظاہر ہے کہ یہ سب عام لوگوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہے اس لیے بحیثیت مسلمان اور محمد ﷺ کے غلام اور ایک عالمی و آفاقی امت ہونے کے ہمیں آپ ﷺ نے جو ہدایات دی ہیں ان کو بروئے کار لاکر اس سے نجات پانے کی سعی و کوشش کرنی چاہیے ، آپ ﷺ کا عام معلوم یہ تھا کہ جب بھی کوئی مصیت اور پریشانی آتی ، آندھی طوفان کی شکل میں ہو یا آفات و بلیات کی شکل میں آپ مسجد کی طرف جاتے اور مسجد میں حضرات صحابہ کو جمع کر تے ،نماز اور دعا کی تلقین فرماتے ،حضرات صحابہ کی زندگی میں بھی یہ چیز بہت اہمیت کے ساتھ ملتی ہے؛ قال اتیت انسا فقلت یا ا¿با حمزة ،ہل کان یصیبکم مثل ہذا علی عہد رسول اللہ ﷺ قال :معاذ اللہ ان کانت الریح لتشتد فنبادر المسجد مخافة القیامة(سنن ابی داو¿د حدیث نمبر :۶۹۱۱) اس لیے آج جب کہ پوری دنیا میںکرونا وائرس کی دہشت ہے مسلمانوں کو نماز او ردعا کا خاص اہتمام کرنا چاہیے حدیث میں آتا ہے کہ اس موقع پر جن خاص دعاو¿ں کا ا ہتمام کرنا چاہیے ان میں چند یہ ہیں :(۱)بسم اللہ الذی لا یضرہ مع اسمہ شئی فی الارض و لافی السماءو ہو السمیع العلیم (مسند احمد ،حدیث نمبر ۷۴۴)اس اللہ کے نام سے جس نے کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاسکتی ہے ۔حضرت عثما ن کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص صبح میں یا شام میں تین مرتبہ یہ دعا پڑھ لے تو اس دن کوئی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے (۲)اعوذ بکلمات اللہ التاماة من شر ما خلق (مسند احمد حدیث نمبر ۴۸۸۷)۔میں اللہ تعالی کے تمام کلمات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جواس نے پیدا کیا ہے ۔حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں جو شخص شام ہونے پر تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے اس رات اسے کوئی زہریلی چیز نقصان نہیں پہنچاسکتی ہے ۔(۳) اللہم انی اعوذبک من البرص و الجنون والجذام و سئی الاسقام (سنن ابی داو¿د ،حدیث نمبر ۴۵۵۱)اے اللہ ہم آپ کی پناہ چاہتے ہیں برص سے جذام سے جنون سے اور بیماریوں سے ۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اس دعا کا معمول تھا ۔
صدقہ و خیرات رب کے غضب اور بلاکو ٹالٹے ہےں اس لیے صدقہ و خیرات کا اہتمام کرناچاہیے ۔بیماری کے حملہ آور ہونے میں گندگی کو بہت دخل ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر صفائی ستھرائی کا خاص خیال کرنا بہت ضروری ہے ،اس کے علاوہ محکمہ صحت کی طرف سے جو ہدایات (ایڈوائزری) جاری کی جارہی ہے اس پر حتی الامکان عمل کرنا چاہے ،عالمی ادارہ صحت (who)کی طرف سے جو رپورٹ شائع کی گئی ہے اس میں ہے یہ وائرس فضاءمیں برقرار نہیں رہتا ہے بلکہ کسی جگہ پر رہتا ہے اس لیے اس سے بچنا ممکن ہے عام طور پر یہ وائرس کسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں پر ہاتھ لگنے سے کسی آدمی کے ہاتھ میں اور پھر اس کے واسطے سے آدمی کے اندر یہ وائرس منتقل ہوسکتا ہے اس لیے اس موقع پر کثرت سے صابن سے ہاتھ دھونا چاہیے اور بھیڑ بھاڑ کی جگہوں سے دور رہنا ،ماسک استعمال کرنا ،لوگوں سے مصافحہ کرنے سے وقتی تقاضہ کے تحت رکناچاہیے ۔ اس طرح کے عالمی ادارہ صحت کے جو مشورے ہیں جن پر عمل کرنے میں ہمارے فرائض و واجبات متاثر نہیں ہوتے ہیں ان پر عمل کرنا چاہیے ۔
کرونا وائرس اور نظام جمعہ و جماعت
البتہ عالمی طور پر جمعہ او رجماعت کا مسئلہ بھی پیدا ہورہا ہے ، بعض عرب ممالک میں مسجدمیں نماز بندکردی گئیں ہیں ، بعض جگہوں میں اذان میں ہی یہ ہدایت دی جاری ہے کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں ، اگر چہ بعض روایت میں اذان کے اندر صلو فی بیوتکم پڑھنا ثابت ہے سنن ابی داو¿د کی روایت ہے: ان ابن عباس قال لمو¿ذنہ فی یوم مطیر اذا قلت :اشہد ا¿ن محمد رسول اللہ فلا تقل :حی علی الصلاة قل : صلوا فی بیوتکم فکا¿ن الناس استنکروا ذلک فقال :قد فعل ذا من ہو خیر منی ان الجمعة عزمة و انی کرہت ا¿ن اخبرجکم فتمشون فی الطین و المطر(سنن ابی داو¿د ،باب التخلف عن الجمعة حدیث نمبر :۶۶۰۱) بہت ممکن ہے کہ جن ملکوں میں ایسا ہوا ان کے سامنے یہ حدیث رہی ہو۔ تاہم دھیرے دھیرے یہ صورت حال ہمارے ملک میں بھی پیدا ہونی شروع ہوگئی ہے۔ ، کل ایک دوست کا ممبئی سے فون آیا کہ پولس والے مسجد آئے تھے او رانہوں نے مسجد میں نماز نہ پڑھنے کے لیے کہا ہے ، اسی طرح ایک صاحب کا انڈومان نکوبار سے فون آیا کہ حکومت کے اہل کار نے آکر یہ ہدایت کی آپ اس طرح نماز پڑھیں کہ صفوں میں ہر طرف سے ایک میٹر کا فاصلہ ہو یعنی ہر دو مصلی کے درمیان ایک میٹر کا فاصلہ ضروری ہے ورنہ مسجد بند کردیں گے ،ہماری حکومت کی طرف سے اس طرح کی باتیں اسی بنیاد پر کہیں جارہی ہیں کہ بعض عرب ملکوں میں اس پر عمل ہورہا ہے جسے بنیاد بنا کر ہماری حکومت یہاں بھی اس طرح کے اقدامات کرنا چاہتی ہے اس سلسلے میں ضروری ہے کہ ہمارے لیے عرب ملکوں کا کوئی عمل حجت او ردلیل نہیں ہے بلکہ ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی حجت اور نمونہ ہے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے تاہم اس طرح کی صورت حال میں ضروری ہوگیا کہ ان مسائل کا جائزہ لیا جائے او رموجودہ صورت میں کوئی مناسب حل تلاش کیا جائے ۔ا س سلسلے میں بہت سے عرب علماءکے فتاوی بھی واٹس ایپ پر گردش کررہے ہیںجس میں بعض میں مسجد بند کرنے کی تائید کی گئی ہے اور اس کے جوازکو مدلل انداز میں بیان کیا گیا ہے جب کہ بعض میں عدم جواز کو مدلل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔یہاںدلائل دونوں طرح کی ہیں اس لیے شریعت کا مزاج ، اور اس کی روح کو سمجھنے کی کوشش ہونی چاہیے ، اور ملکی او رعالمی حالات کے تناظر میں ایسا حل نکالنا چاہیے کہ شریعت پر عمل آوری بھی ممکن ہو اور حالات او رملکی و عالمی قوانین کی پاسداری بھی ہو سکے ۔
اس سلسلے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے یہ ایک نیا موضوع ہے جس پر اہل علم کو غو رو فکر کرنا چاہیے ، میں غور و فکر کے بعداس سلسلے میں میں اس نتیجہ پر پہونچا ہوں کہ کوئی ایک حکم نہیں لگایا جاسکتا ہے بلکہ جو علاقے اس سے زیادہ متاثر ہیں وہاں کے احکام ذرا مختلف ہوں گے اور جہاں صرف احتیاط کے تحت اس طرح کی بات کی جارہی ہے وہاں کے احکام اس سے قدرے مختلف ہوں گے جن علاقوں میں وائرس سے متاثر لوگ پائے جاتے ہیں وہاں پر احتیاط کی شدید ضرورت ہوگی اور اس احتیاط کے تحت اگر مسجد میں نماز پڑھنے کے بجائے گھروں میں نماز پڑھنے کی بات کہی جائے تو کسی حد تک قابل قبول ہوسکتی ہے ۔کیوں کہ بارش اور دیگراعذار کی بنا پر جمعہ کی نماز گھر میں پڑھنے کا حکم روایت میں صراحت کے ساتھ ہے اوپر ابن عباس کی جو حدیث ذکر کی گئی ہے وہ بھی جمعہ سے ہی متعلق ہے اسی طرح ایک روایت میں ہے :شہد النبی ﷺ زمن الحدیبیة و اصابہم مطر فی یوم جمعة لم یبتل اسفل نعالہم فامرہم النبی ﷺ ا¿ن یصلوا فی رحالہم (صحیح ابن خزیمة،الرخصة فی ا لتخلف عن الجمعة حدیث نمبر ۳۶۸۱) تاہم جہاں اس طرح وائرس کے اثرات نہیں پائے جاتے ہیں لیکن وہاں بھی حکومت کی اڈوائزری ہے کہ مساجد بند کردئے جائیں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ قابل عمل نہیں ہوگا بلکہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے او رجمعہ و جماعت کو موقوف نہیں کرنا چاہیے ۔احتیاطی تدابیر کے طورپر یہ چیز یں کی جاسکتی ہیں ۔
(۱) لوگ گھرسے ہی وضو کرکے آنے کا اہتمام کریں تاکہ وضوخانہ پر کم سے کم لوگوں کا اختلاط ہو ۔
(۲) نماز مختصر کی جائیں خاص طور پر جمعہ کی نماز جس میں مجمع بڑاہوتا ہے اس میں اردو خطبہ کو موقوف کردیا جائے اور عربی خطبہ مختصر کردی جائے اور نماز بھی مختصر ہو، تاکہ جلد سے جلد لوگوں کا یہ اجتماع ختم ہوجائے۔
(۳) سنت و نوافل کے اندر اصل یہی ہے کہ گھر میں پڑھی جائے ،اس لیے موجودہ حالات پر ان پر خاص طور پر عمل کیا جائے اور سنت و نوافل گھر میں پڑھنے کا اہتمام کیا جائے ۔
(۴)نماز میں صف کی درستگی کی بڑی تاکید آئی ہے اور صف کی درستگی میں یہ بھی ہے کہ لوگ مل مل کر کھڑے ہوں لیکن موجودہ حالات میں احتیاط کے طور پر اگر ایک بالشت کا فصل رکھا جائے تو لوگوں کے جسم ایک دوسرے سے کم سے کم ملیں تو ناگزیر حالات میں اس کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
(۵) جن جگہوں پر حکومت کی طرف سے مسجد بند کرنے پر زور دیا جارہا ہے وہاں پر حکومت کے اہل کار سے بات کر کے کوشش کی جائے کہ نماز کا سلسلہ منقطع نہ ہو اس کے لیے جماعت کو مختصر کردیا جائے کچھ لوگ مسجد میں جماعت سے نماز پڑھیں اور کچھ لوگ گھرپر جماعت بنالیں ، اسی طرح مجمع کم کرنے کے لیے جماعت ثانیہ کا اہتمام کیا جائے ، جماعت ثانیہ عام حالات میں فقہاءاحناف کے یہاں مکروہ تحریمی ہے لیکن اگر ہیئت اولی پر نہ ہو تو حضرت امام ابویوسف نے اس کی اجازت دی ہے ،عن ابی یوسف انہ اذا لم تکن الجماعة علی الہیئة الاولی لا تکرہ والا تکرہ و ہو الصحیح (فتاوی شامی ۱/۳۵۵) اسی طرح جماعت ثانیہ کی کراہت کی علت تقلیل جماعت ہے یعنی کہ پہلی جماعت میں مجمع کم رہے گا اس لیے دوسری جماعت کرنے سے منع کیا گیا لیکن یہاںپر مجمع کم کرنا ہی مقصود ہے اس لیے یہاں پر جماعت ثانیہ کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
(۶)جن جگہوں پر حکومت کے اہل کار یہ کہتے ہیں کہ دو مصلی کے درمیان ایک میٹر کے فاصلہ کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں ورنہ مسجد بندکرو تو اس کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے کہ مسجد بند کرنے کے مقابلہ میں اس پر عمل کیا جاسکتا ہے اس لیے کہ صفوں کا اتصا ل ضروری ہے لیکن اگر مسجد یا فناءمسجد یا صحن مسجد میں کہیں مصلی ہو اور صف کا انقطاع ہوجائے یا دو مصلی کے درمیا ن ایک میٹر کا فاصلہ ہوجائے تو بھی نماز درست ہوجاتی ہے اگر چہ ایسا کرنا مکروہ ہے لیکن یہاں پر ایسا کرنے کی مجبوری ہے اس لیے اہون البلیتین کے طور پر اس کو اختیار کیا جاسکتا ہے اشباہ و النظائر میں ابن نجیم لکھتے ہیں کہ وفناءالمسجد کالمسجد فیصح الاقتداءو ان لم تتصل الصفوف (الاشباہ و النظائر ص:۷۹۱)علامہ شامی نے واضح کیا ہے کہ اقتداءکے صحیح ہونے کے لیے مسجد یا فناءمسجد میں اتصال صفوف ضروری نہیں ہے بلکہ امام کے احوال کا علم ہونا یہ کافی ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ وبہ علم ا¿ن الاقتداءمن صحن الخانقاہ الشیخونیة بالامام فی المحراب صحیح و ان لم تتصل الصفوف لا¿ن الصحن فناءالمسجد و کذا اقتداءمن بالخلاوی السفلیة صحیح لان ابوابہا فی فناءالمسجد (فتاوی شامی ۱/۵۸۵) فتاوی دارالعلوم میں ایک سوال ہے کہ ایک یا دو صف چھوڑ کر کچھ لوگ پیچھے کھڑے ہوگئے تو ان کی نماز ہوگی یا نہیں ؟ اس کے جواب میں حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب نے لکھا ہے کہ نماز ہوگئی مگریہ خلاف سنت ہے صفوف کو متصل کرنا چاہیے اور فرجہ درمیان نہ چھوڑنا چاہیے(فتاوی دارالعلوم ۳/۵۳۱)۔
(۷)جو لوگ اس سے متاثر ہیں ان کو مسجد نہیں آنا چاہیے ، ان کو اپنے گھر میں نماز پڑھی چاہیے اس لیے کہ ان حضرات کا مسجد آنا دیگر لوگوں کی وحشت کا باعث ہے بلکہ وائرس کے منتقل ہونے کی صورت میں دوسرے لوگوں کی تکلیف کا باعث ہے اس کو دیکھ کر دوسرے لوگ مسجد نہیں آئیں گے۔مشرق وسطی کے کسی ملک میں ایک شخص کرونا سے متاثر تھا اور ایک بجے وہ ہاسپٹل سے غائب ہوگیا اور ڈھائی بجے واپس آگیا لوگوں نے لوگوں کہا گئے تھے تو اس نے بتایا کہ جمعہ کی نماز کے لیے لیے گیا تھااس طرح کے واقعات عام لوگوں کے لیے خوف کا باعث بنتے ہیں اس لیے ایسے لوگوں کو مسجد نہیں جانا چاہیے ، فقہاءکے یہاں اس کی تصریح ہے کہ اگر کسی کو منہ کی بدبو کی بیماری اس کے مسجد میں آنے سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو تو اس کو مسجد نہ آنے کی اجازت ہے فتاوی دارالعلوم میں ہے کہ جذامی سے جمعہ و جماعت ساقط اور معاف ہے اس وجہ سے کہ وہ مسجد میں نہ آوے پس جذامی کو چاہیے کہ وہ جماعت میں شریک نہ ہونا چاہیے اور جو لوگ جذامی شخص سے علیحدہ رہیں اوراحتراز کریں اس پر کوئی ملامت نہیں ہے کہ جذامی سے بھاگنے اور بچنے کا حکم رسول ﷺ نے فرمایا ہے (فتاوی دارالعلوم ۳/۰۷)رد المحتار میں ہے :ویمنع منہ -المسجد -و کذا کل مو¿ذ ولو بلسانہ -و کذلک ا¿لحق بعضہم بذالک من بفیہ بخر او بہ جرح لہ رائحة و کذالک القصاب و السماک و المجذوم والابرص اولی بالالحاق (رد المحتار ۲/۳۷۷)
خلاصہ یہ کہ کرونا وائرس یہ ایک وبا ہے جس سے لوگوں میں ایک عجیب و غریب دہشت بھی ہے اس کا تقاضہ ہے کہ مسجدوں کو آباد رکھ کر رب کو راضی کیا جائے ،ان سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرکے اس عذاب سے نجات کی دعا کی جائے، نہ یہ کہ مسجد کو مقفل کردیا جائے ۔عربوں کا عمل ہمارے لیے حجت نہیں ہے؛ بلکہ عربوں کو اپنے عمل پرنظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔اسکاو¿ٹ لینڈکے وزیر اعظم کا بیان آیا ہے کہ ہم یہ یقین دہائی کراتے ہیں کہ مساجد ،چرچ اور گرودوارہ یہ سب بند کئے جائیں گے اس لیے جس طرح ہم ہاسپیٹل بند نہیں کرسکتے ہیں جہاں لوگوں کاجسمانی علاج ہوتا ہے؛ اسی طرح ہم ان جگہوں کو بند نہیں کرسکتے ہیں جہاں لوگوں کا روحانی علاج ہوتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسکاو¿ٹ لیننڈ کے وزیر اعظم کے بیان سے سبق لینے کی ضرورت ہے کہ جس کو ہم ملحد اور بے دین تصور کرتے ہیںان کا کیا جذبہ اور نظریہ ہے اور وہ کس طرح سوچتے ہیں ؟کیا مسلمانوں کا پاس اس قدر بھی ایمان نہیں رہ گیا جو یہ سوچے کہ مسجد روحانی تربیت کی جگہ ہے جسے ہمیں ہر حا ل میں بحال رکھنا چاہیے۔ یہ ایک معروضی تحریر ہے کوئی فتوی نہیں ہے،ارباب علم کو اس پر غور کرنا چاہیے اور مشکل حالات میں امت کے لیے کیا بہتر رہنمائی ہوسکتی ہے اسے پیش کرنا چاہیے؛ ۔

E-mail: aaliqasmi1985@gmail.com
Mob: 07207326738

Leave A Reply

Your email address will not be published.