امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم ونائب نظماء اورحضرات قضاء کے نام ایک کھلاخط

0

مکرمی ۔
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
خداکرے مزاج اچھے ہوں ۔
عرض ہےکہ ہفتہ عشرہ پہلے امارت شرعیہ بہارواڑیسہ جھارکھنڈ کی مجلس شوری منقد کی گئ تھی اوراسی شوری کیلئے دوتین ایسے لوگوں کو شوری کا رکن میٹنگ سے ایک دن پہلے نامزد کیا گیا جن کا خادمانہ اورپسرانہ تعلق امیرشریعت سابع حضرت مولانا سید ولی رحمانی صاحب مرحوم سے ہے ۔
ایسا کرنا اختیار کا ناجائز استعمال اور جانبداری کا مظہر ہے ۔
امارت شرعیہ کے کسی منصب پر رہتے ہوئے ماضی میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ شوری سے ایک دن پہلے ہمارے سابق اہل مناصب نے ایسی جانب داری برتی ہو ۔
خیال رہے کہ
حضرت امیرشریعت سادس مولانا سید نظام الدین صاحب کے صاحبزادے اوردیگر اہل علم وفضل بھی خود پٹنہ شہر اور تینوں ریاست میں موجود ہیں ۔ مگرافسوس کہ امارت شرعیہ میں پچھلے چند سالوں سے جونئی روایت اورنئے طرق کومتعارف کراگیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ۔
چلی ہے رسم یہ کوئ نہ سراٹھا کے چلے ۔
وطن عزیز کے عظیم تراداروں اور تنظیموں میں صاف شفاف نظام اب بھی قائم ہے اورباصلاحیت افراد کی قدردانی کا مزاج بھی باقی ہے ۔
حضرت مولانا خالدسیف اللہ رحمانی ۔ حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی ۔ حضرت مفتی نذرتوحید مظاہری ۔ حضرت مفتی ثناء الہدی قاسمی ۔ حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی جیسے اساطین علم وفضل کو چھوڑ کر جس طرح جناب مولانا شمشاد رحمانی صاحب کو نائب امیر کے منصب پرلایا گیا وہ عدل وانصاف کو موت تک پہونچانے کے مترادف تھا ۔ مگر غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے ۔ یہاں ہم کہ سکتے ہیں کہ اجتہادی غلطی ہوئ گرچہ اس منصب پر موصوف کا متمکن ہونا اب بھی شکوک وشبہات کے دائرے میں ہے چونکہ یہ عمل حضرت امیرشریعت مرحوم کے زمانئہ علالت میں واقع ہوا ہے اور ان کے مسترشد مولانا ارشد رحمانی صاحب کی تحریر میں اس لئے آپ حضرات کو بھی شاید بر وقت واقفیت نہیں ملی ہوگی ۔ حالانکہ عام احکام بھی حضرت مرحوم خودہی لکھا کرتے تھے ۔ اس لئے اب بھی یہ عمل محل نظر ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ آپ حضرات نے جوآن لائن شوری کی مجلس منعقد کی تھی وہ بھی شکوک وشبہات کے دائرے میں آکر ٹہر گئ ہے ۔ اور اس پرمستزاد یہ کہ حالیہ 11 رکنی کمیٹی تو صریح بد دیانتی اورجانب داری پر مشتمل ہے ۔
پٹنہ شہر کے علماء ودانشور اورخانقاہ مجیبیہ وخانقاہ منعمیہ کے کسی فرد کی نمائندگی اس 11رکنی کمیٹی میں نہیں ہے ۔ جب کہ سارے ارکان میں دو جامعہ رحمانی کے فرد ہیں اوردیگر حضرات بھی امیرشریعت سابع مرحوم کے متوسلین ومریدین میں ہیں ۔
اس لئے یہ بات بزور قوت اورپورے وثوق کے ساتھ کہنے میں کوئ حرج نہیں ہے گیارہ رکنی کمیٹی غیر منصفانہ اور غیرعادلانہ ہے ۔ اس لئے میں گزارش کرتاہوں کہ آپ حضرات اس پرنظر ثانی کریں اورکمیٹی کے ارکان میں ہونے والی جانب داری کو ختم کریں اوراپنے اختیارات کا مثبت استعمال کریں اورہم سب وتواصو بالحق وتواصو بالصبر پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے اکابر علما ء سے بالسہو ہونے والی غلطیوں کا اعادہ نہ کریں اور اپنے لئے اور ان بزرگوں کیلئے بھی ہم لوگ
ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین ۔ رب کریم کے حضور پیش کریں ۔
امید کہ ادعیئہ صالحہ میں فراموش نہ فرمائیں گے ۔
والسلام
محمدشاہد الناصری الحنفی خادم ادارہ دعوت السنتہ مہاراشٹرا ۔ ومدیر ماہنامہ مکہ میگزین ممبئ

Leave A Reply

Your email address will not be published.