مولانا ارشد رحمانی کے بیان کے تناظر میں

0

مولانا بدیع الزماں ندوی قاسمی
کا تفصیلی وضاحتی بیان

مولانا بدیع الزماں ندوی قاسمی سے مولانا ارشد رحمانی صاحب کے بیان پر بڑی تعداد میں لوگوں کی طرف سے وضاحتی بیان کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ فی الحال ہم کسی ضروری کام سے ملک کے متعدد شہروں کے دورہ پر ہیں ، واپسی پر ان کے بیان کی وضاحت ، حقیقت اور اصلیت کا اظہار کریں گے ، آج بحمداللہ سفر سے ان کی واپسی ہوچکی ہے ، اور انہوں اپنا وضاحتی بیان جاری کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یکم/ جولائی 2021 ء بروز جمعرات ظہر کی نماز سے پہلے قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی سے ملاقات کے لئے3 / بجے دن کا وقت طے ہوا ، وقت مقررہ پر سہ رکنی وفد ( مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی ، مولانا ریاست الله قاسمی اور محترم تنویر عالم صاحب علیگ) امارت شرعیہ پہنچ گیا ، اچانک سب سے پہلے وفد کی ملاقات نائب ناظم اورامارت کےٹرسٹ کے سکریٹری مولانا سہیل احمد صاحب ندوی سے ہوئی ، انہوں نے وفد کا پرتباک استقبال کیا ، اور اپنے دفتر میں بلاکر لے گئے ، ہم لوگوں نے کہا اس وقت امارت میں حاضری کا مقصد امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی سے ملاقات ہے ، مولانا سہیل احمد صاحب ندوی نے مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں دفتر پہنچ چکا ہوں ، مولانا سہیل احمد صاحب ندوی ہم لوگوں کو لے کر دفتر نظامت کی طرف چل پڑے ۔ مولانا سہیل احمد صاحب ندوی دفتر نظامت پہنچا کر وہ اپنے دفتر کو چلے گئے ، دفتر میں مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی موجود تھے ، انہوں نے ہم لوگوں سے بڑی ہی خندہ پیشانی سے ملاقات کی ، ہم لوگوں نے کہا امارتِ شرعیہ سے متعلق کچھ اہم امور پر تبادلۂ خیال کرنا ہے ، اس لئے اگر آپ مناسب سمجھیں تو امارت کے نائب ناظم مفتی محمد ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی ، مولانا سہیل احمد صاحب ندوی وغیرہ کو بھی بلالیں ، انہوں نے کہا آپ اپنی بات شروع کریں اگر ضرورت پڑی تو بلالیں گے ، چنانچہ انہوں نے ہم لوگوں کی تمہیدی باتوں کو سنتے ہی مفتی محمد ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی ، مولانا سہیل احمد صاحب ندوی ، مولانا احمدحسین صاحب قاسمی اور مولانا محمد ارشد صاحب رحمانی کو بلایا ،
اور پھر انتہائی خوشگوار ماحول میں تقریباً ایک گھنٹہ تک ہماری گفتگو کا سلسلہ جاری رہا ، مجلس کی ابتداء سے انتہا تک کسی بھی طرح کی کسی تلخی اور ناراضگی کا کسی کی طرف سے اظہار نہیں ہوا۔
مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی نے مختلف اخبار کے صحافیوں کے درمیان مجلس میں ہوئی باتوں کی بڑی تفصیل سے وضاحت کی ، انہوں نے کہا کہ
(1) ہم نے کہا کہ چند مہینوں سے امارت شرعیہ سے متعلق ایسی باتیں گردش کررہی ہیں ، جو انتہائی تشویشناک ہیں ، اور اس سے امارت شرعیہ کو ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہے ، امارت شرعیہ کی جو خدمات ہیں ، وہ سب پر عیاں ہیں ، لھٰذا اس پر ذمہ داران امارت کو خصوصی توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے ۔ تاکہ ماحول مزید خراب نہ ہو ،ہماری باتوں کو مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی نے پوری توجہ سے سنی اورانہوں نے مفتی ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ کل ہی ہم نے تنہائی میں مفتی ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی سے اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی ہے کہ ہمیں ایک ایسا لائحہ عمل اختیار کرنا ہے کہ امارت شرعیہ کسی فتنہ سے دوچار اور آزمائش میں مبتلا نہ ہو۔
(2) دوسری اہم بات یہ ہوئی کہ امیرشریعت کا انتخاب امارت شرعیہ ، پھلوار شریف ، پٹنہ کے کیمپس ہی میں ہوناچاہئے ۔ ہماری اس بات کی تائید بھی مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی نے کی ، اور یقین دلایا کہ ان شاء الله ایسا ہی ہوگا۔
(3) تیسری بات یہ ہوئی کہ امیر شریعت کے انتخاب تک امارت کے اراکین و ممبران کی خالی جگہیں ہرگز پُر نہ کی جائیں ، اس کاجواب مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی نے یہ دیا کہ اس کے لئے11/ افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ، ہم نے کہا اس کمیٹی تک آپ ہماری اس گزارش کو پہچادیں۔
(4) چوتھی بات یہ ہوئی کہ کیا امارت کی طرف سے آڈٹ رپورٹ میں مولانا انیس الرحمٰن صاحب قاسمی پر کوئی الزام ہے ؟ مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی نے اس کا جواب یہ دیا کہ امارت کی طرف سے مولانا انیس الرحمٰن صاحب قاسمی پر کوئی الزام نہیں ہے۔
(5) پانچویں بات یہ ہوئی کہ دستخطی مہم امارت کے
اراکین وذمہ داروں کا کسی خاص شخص کے حق میں چلانا کیسا ہے؟ مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی نے کہا کہ اس دستخطی مہم سے امارت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
(6) چھٹی بات ان سے یہ ہوئی کہ تیس بتیس سال سے میرا والہانہ اور ہمدردانہ تعلق امارت شرعیہ سے ہے ، آج تک اس طرح کی باتیں ہم نے کبھی نہیں سنی ، جو اب معتبر ذرائع سے سننے میں آرہی ہیں ، کہیں سے تقسیم کی بات ، کہیں سے امیر شریعت کی بات ، کہیں سے نائب امیر شریعت کے انتخاب پر شکوک وشبہات ، ایسا لگتا ہے کہ اس وقت امارت شرعیہ انارکی ، انتشار اور بدامنی میں مبتلا ہے ۔ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ پہلے سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا ، ہم نے کہا پہلے امیر شریعت کا مسئلہ بھی آج کی طرح اتنا سنگین کبھی نہیں ہوا تھا ، اصل وجہ یہ ہے ، اس لئے آپ لوگوں سے ہماری مخلصانہ گزارش یہ ہےکہ امیر شریعت کا انتخاب بالکل خوشگوار اور صاف وشفاف ماحول ميں ہونا چاہئے۔ اگر آپ لوگوں نے ایسا نہیں کیا تو امارت شرعیہ میں فتنہ و فساد کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جانے گا۔ ہم نے یہ بھی کہا کہ امیر شریعت کے انتخاب میں کسی بھی گروپ اور شخصیت کا عمل دخل بالکل نہیں ہونا چاہئے ۔ مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی نے ہماری ان باتوں کو پوری توجہ سے سنا بھی اور نوٹ بھی کیا ،
(7) مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی کے سامنے جب "تحفظ امارت شرعیہ کمیٹی” کی بات آئی تو انہوں نے کہا ہم اس کمیٹی کو نہیں مانتے ہیں ، ہم نے کہا آپ کے لئے اس کمیٹی کا ماننا ، نہ فرض ہے ، نہ واجب ، نہ سنت اور نہ مستحب ، آپ ہماری باتوں پر توجہ دیں ، اسی دوران مولانا سہیل احمد صاحب ندوی نے کہا کہ کیا کوئی آپ کے جامعہ سے متعلق تحفظ جامعہ کمیٹی بنالے تو آپ اس کو گوارہ کرلیں گے ، ہم نے کہا امارت شرعیہ اور جامعہ میں بڑا فرق ہے۔(ویسے کسی بھی ادارہ کے بارے ميں اگر غیر دستوری سرگرمیوں کا علم ہونے پر کسی بھی شخص کو تحقیق وتفتیش کا حق ہے)
(8) آٹھویں بات یہ ہوئی کہ نائب امیر شریعت کا انتخاب جس پس منظر ہوا ہے ، وہ شکوک و شبہات کے دائرہ میں ہے ، اس لئے اس سلسلہ میں کوئی تحریری ثبوت ہو تو دکھانے کی زحمت فرمائیں ، مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی اس سوال کو مسلسل نظر انداز کرتے رہے تو مولانا سہیل احمد صاحب ندوی نے کہا کہ میں نے وہ تحریر دیکھی ہے۔ اور میں اس کی صداقت اور سچائی کی گواہی دیتا ہوں۔
(9) نویں بات یہ کہ سہ رکنی وفد کو مولانا محمد شبلی صاحب قاسمی کی باتوں سے بہت حد تک اطمینان ہوگیا۔
(10) دسویں بات یہ کہ اخیر میں ” تحفظ امارت شرعیہ کمیٹی” کے سکریٹری محترم تنویر عالم صاحب علیگ نے زور دے کر کہا کہ اگر آپ لوگ دستور ، اصول اور قانون کے مطابق امیر شریعت کے انتخاب اور امارت کے دیگر کاموں کو انجام دیں گے تو پھر ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہیں ، بصورتِ دیگر ہم لوگ خاموش رہنے والے نہیں ہیں ۔
مولانابدیع الزماں صاحب ندوی قاسمی نے مختلف اخبار کے صحافیوں کے اس سوال کہ "تحفظ امارت شرعیہ کمیٹی” کا اہم مقصد کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ امیر کا انتخاب( اوصاف امیر :دفعہ :10 ) کے تحت ہونا چاہیے
اس سلسلے ميں تملق اور چاپلوسی ، اور کسی خاندان کی ذاتی اجارہ داری نیز رشتہ داری اور علاقائی عصبیت کے بغیر۔ تاکہ امارت شرعیہ کی سوسالہ صالحیت کی روایت داغدار نہ ہو ۔
اس کے علاوہ اس کمیٹی کا کوئی اہم مقصد نہیں ہے۔
مولانا موصوف نے کہا کہ الله تعالیٰ بانی امارت شرعیہ مفکر اسلام حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد رحمہ الله اوران کے رفقاء کو بہتر ین بدلہ عطا فرمائے۔( آمین ) چناں چہ دستورکی دفعہ 10 میں
اوصاف امیر کے تحت حسب ذیل چیزیں درج ہیں :
اوصاف امیر: دفعہ:10:
امیر شریعت میں حسب ذیل اوصاف لازمی ہوں گے !
(1)عالم باعمل ہو یعنی کتاب اللہ اورسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معانی اور حقائق کا معتدبہ علم رکھتاہو ، اغراض ومصالح شریعت اسلامیہ وفقہ اسلامی وغیرہ سے واقف ہو اور احکام شریعت پر عمل پیرا ہو
(2) سیاسیات ہند و سیاسیات عالم اسلامیہ سے واقفیت رکھتا ہو ہواورحتی الامکان تجربہ سے اکثرصائب الرائے ثابت ہو چکا ہو۔
(3) ذاتی قابلیت وو جاہت کی وجہ سے عوام وخواص کے اکثر طبقات کی ایک معتد بہ جماعت پر اس کا اثر ہو۔
(4) حق گو اور صاحب عزیمت ہو۔
(5) فقہی تعبیر میں اس کی ذات ایسی نہ ہو ، جس سے امارت شرعیہ کا مقصد ختم ہو جاۓ ۔
( دیکھئے دستوامارت شرعیہ صفحہ:4)
انتخاب امیر:
دستور کے مطابق انتخاب امیر کا حق ارباب حل وعقد کو ہے۔ ارباب حل وعقد کی یہی مجلس امیر کا منصب خالی ہونے پر تین ماہ کے اندراندر نئے امیر کا انتخاب کرتی ہے ، اس کے علاوہ کسی کو نہ امیر شریعت کے انتخاب کا حق ہے اور نہ ہی امیر شریعت کو معزول کرنے کا ۔ دستور کی دفعہ 11 ۔ 12 میں یہ صراحت کر دی گئی ہے کہ جب امیر کا منصب خالی ہو جاۓ تو تین ماہ کے اندر نئے امیر کا انتخاب لازمی ہے۔ انتخاب امیر کا حق مجلس ارباب حل وعقد کو ہوگا۔
مولانا موصوف نے کہا ” تحفظ امارت شرعیہ کمیٹی” منددرجہ بالا اوصاف اور شرائط کے ساتھ ہی امیر شریعت کے انتخاب کے لئے کوشاں ہے ۔ بہ صورت دگر اپنے جمہوری اورعوامی حق کو استعمال کرتے ہوئے ہرممکن امارت شرعیہ کا ان شاء اللہ تحفظ کیا جائے گا ۔
یہی باتیں کم وبیش ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا تاکہ ہندوستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے امارت شرعیہ کے محبین ومخلصین کی بدگمانیوں کا ازالہ ہوسکے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.