سیاسی اور معیشی ابتری کے بھنور میں ڈوبتا ملک : حکومتیں اپنے تماشوں میں مصروف

سرسوں تیل سے لے کر پیٹرول اور سبزیوں کی قیمت آسمان چھو رہی ہے مگر حکومت وزیرِ اعظم اور ان کی حکومت اپنے سیاسی ایجنڈوں میں ہی مصروف ہیں۔عام آدمی کی زندگی مشکلوں میں گھری ہے۔

0

عرض داشت
صفدر امام قادری
شعبہ¿ اردو، کالج آف کامرس،آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
ہندستان میں جب سے نریندر مودی کی حکومت برسرِ اقتدار ہے، اُس کا کمال یہ ہے کہ ایک کام کے پردے میں دوسرا حقیقی کام چلتا رہتا ہے۔کب وہ چیز منظر سے پسِ منظر میں چلی جائے، یہ کسی کو معلوم نہیں۔ تین مہینوں تک مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے زور آزمائی کی، اُس وقت اُسے یہ یاد ہی نہیں رہا کہ مُلک میں کورونا کی وبا اپنے عروج کی طرف بڑھ رہی ہے۔معمولی طبّی سہولیات کی عدم حصولیابی میں لوگ گھروں سے لے کر اسپتالوں اور سڑکوں پر مرتے رہے مگر وزیرِ اعظمِ ہند کو مغربی بنگال کے الکشن سے اتنی بھی فرصت نہیں تھی کہ دوسری جگہوں کی کون کہے، شہرِ دہلی میں اسپتال کے بیڈکم پڑتے چلے گئے۔ آکسیجن کے بغیر ہزاروں اللہ کو پیارے ہوئے۔ مگر وزیرِ اعظم چوں کہ بنگال میں اپنی حکومت بنانے کے خواب میں مصروف تھے ، اس لیے انھیں اور کوئی کام یاد نہیں رہا۔مُلک کے ووٹ دہندگان نے اپنی جان مال کے نقصان سے وزیرِ اعظم کے اس سلوک کا مقابلہ کیا۔
گذشتہ سال مارچ مہینے میں جب لاک ڈاﺅن کا سلسلہ شروع ہوا اور وبائی صورتِ حال نے پورے مُلک کو اپنے شِکنجے میں لے لیا، اُس وقت سے بے روزگاری اورغربت کا ایک نیا سلسلہ اس مُلک میں شروع ہوا۔ ایک اندازے کے مُطابق تیس کروڑ سے زیادہ ایسے افراد ہیں جو روز کماتے ہیں اور روز کھاتے ہیں۔ایسے لوگ پائی پائی کا محتاج ہوئے اور دانے دانے کو ترستے رہے۔مرکزی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے بڑی بے شرمی سے پانچ پانچ سو روپے کی عطایات یا چند کیلو اَناج کی مُفت فراہمی کا سلسلہ ایک مختصر مُدّت تک جاری رکھا۔یہ یاد رہے کہ اُن پانچ سو روپیوں کے لینے کے لیے لاک ڈاﺅن میں ہزاروں لوگ بینکوں میں قطار لگا کر کورونا وبا کے پھیلانے کا بھی موجب ثابت ہوئے۔اس دوران پردے کے پیچھے سے حکومت نے بڑی بڑی کمپنیوں کو اربوں روپے کے قرضوں کی معافی دے کر ایک نیا کھیل شروع کیا۔معیشت کی مارکہاں روزینہ مزدوروں اور کام گاروں پر پڑ رہی تھی اور کہاںاس کے عِوض بڑے صنعت کاروں کو معافی کے نام پر ہندستانی سماج کی دولت ہضم کرنے کا موقع دیا گیا۔یہ سلسلہ گذشتہ سوا برس میں اِتنا مُستحکم ہو چکا ہے کہ ہر بار اگر کمزور افراد کے لیے پانچ سو اور ہزار روپے کی رقم کا انعام طَے ہوتا ہے تو اُسی کے آس پاس بڑے صنعت کاروں کے لیے بڑی خاموشی سے ہزار اور پانچ ہزار کروڑ کسی نہ کسی بہانے دے دینے کا اعلان ہوتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ عوامی مشکلات کے دکھاوے کے نام پر حقیقی فائدہ کہیں اور پہنچا دینا ہے۔
دیکھتے دیکھتے پیٹرول کی قیمتیںاس طرح سے بڑھتی جا رہی ہیں کہ ملک کے ایک بڑے حصّے نے ایک سو سات اور ایک سو آٹھ روپے فی لیٹر اس کی شرح مقرّر ہے۔معیشت کے ماہرین کا سوچا سمجھا تجزیہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت کے بڑھنے کا مطلب اُس قدر سادہ نہیں ہے جیسا معلوم ہوتاہے۔پورا کا پورا مواصلاتی نظام پیٹرول کے سہارے چلتا ہے اس لیے کچے اور پکے ہر سامان کی ڈُھلائی کی قیمت بڑھنے کے بعد اُس سامان کی اصل قیمت بڑھ جائے گی۔جدیددنیا میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا مطلب ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہے۔کہنا چاہیے کہ مہنگائی کی یہ جڑ ہے۔گذشتہ مہینوں میں روزانہ اس کی قیمت میں کچھ اس انداز سے اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو یہ سمجھ میں نہ آئے کہ حقیقت میں پچیس اور تیس روپے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔پیٹرول کے ساتھ ڈیزل کی قیمت بھی تقریباً مساوی ہے جسے ہم کھیتی باڑی میں سب سے زیادہ استعمال کرنے والی شے کے طَور پر جانتے ہیں۔کسانوں پر بوجھ بڑھے گا تو ہر سامان اور خاص طَور سے اناج مہنگا ہوگا۔
پچھلے کئی مہینوں سے تِلہن کی قیمتوں میں ناقابلِ یقین حد تک اضافہ ہوا ہے۔ہندستان کو اناج اور کھانے سے متعلّق چیزوں میں خود کفیل مانا گیا ہے۔موجودہ وزیرِ اعظم تو ’آتم نِربھر بھارت‘ کا نعرہ ہی لگاتے رہتے ہیں۔ایسے میں دو سو روپے سے زیادہ سرسوں کے تیل کا استعمال ہندستانی عوام نے کئی مہینوں سے کِیا۔کمال یہ بھی رہا کہ حکومت نے اپنی طرف سے اس مشکل حالت میں نہ کوئی اعلان کِیا اور نہ ہی کوئی ایسی صورت پیدا کی کہ لوگ مالی اعتبار سے کچھ بوجھ ہلکا کر سکیں۔بعض صوبوں میں راشن کی دُکانوں پر سرسوں کے تیل دیے جاتے تھے۔اس دوران بہت چالاکی سے وہاں تیل کی فراہمی ختم کر دی گئی۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہندستان میں ہمارے باورچی خانوں میںتیل کا خرچ کِتنا ہے اور اُس کے بغیر ہندستانی شہری اپنی سبزیاں نہیں پکا سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہُوا کہ حکومت نے مجبور کیا کہ کثیر الاستعمال چیزوں کو مہنگا رکھا جائے تاکہ بازار کی منافع خوری قایم رہے۔پیٹرول سے سرسوں تیل کی دھار میں اس قدر اُچھال ہے تو سبزیوں میں نرمی کیوں کر ممکن ہے؟ آج بازار میں آپ جائیے تو اندازہ ہو جائے گا کہ سبزیوں کی قیمتیں آسمان چھو¾ رہی ہیں۔آخرلوگ اپنی متوازن غذا میں سبزیوں کے استعمال کے بغیر کیسے کام چلا سکتے ہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ گذشتہ ایک برس میں دال کی قیمتیں بھی اُسی طرح سے آسمان چھو¾تی رہی ہیں اور لوگوں نے بہت صبر کے ساتھ اس مہنگائی کا مقابلہ کیا ہے۔
اسکول کالج ایک طویل مُدّت سے بند ہیں یا براے نام کھُلے ہوئے ہیں۔حکومت اور خاص طور سے پرائیویٹ اداروں کی ملی بھگت سے ایک نقلی آن لائن تعلیمی نظام کی خانہ پُری کا جال بچھایا گیا۔تعلیمی اداروں نے اس بہانے لوگوں سے اسکول اور کالج کی فیس لی اور جتنے انداز کے نقلی کام ہو سکتے ہیں، وہ پایہ¿ تکمیل تک پہنچے۔اس آن لائن دکھاوے کا مالی بوجھ عام گھروں پر لاد دِیا گیا۔جہاں اسمارٹ فون نہیں تھے وہاں اسمارٹ فون خریدنے کی لازمیت پیدا کی گئی۔جس گھر میں ایک فون تھا، وہاں بچّوں کے لیے الگ سے دو اور تین فون خریدنے کی مجبوری آئی۔حسبِ استطاعت ٹیب لِٹ اور لیپ ٹاپ سے لے کر کمپیوٹر کا اضافی بوجھ اس آن لائن تعلیم کے نام پر اُن گھروں کو اُٹھانا پڑا جہاں گھر کا مالک و مختار خود بے روز گار ہو گیا ہے یا آدھی تنخواہ پر کام کر رہا ہے یا بھوکے مرنے کے لیے مجبور ہے۔مگر سی بی ایس سی، یو جی سی یا ہندستان کی وزارتِ تعلیم سے لے کر بڑی بڑی عدالتوں کو بھی اس آن لائن تعلیم کے نقلی پن اور کمزور مالیت والوں پر معاشی بوجھ کا کسی کو اندازہ ہی نہیں ہوا۔گھر میں اگر چار بچّے ہیں تو اُس گھر میں ماہانہ پانچ سو اور ہزار روپے انٹرنٹ کے سلسلے سے بھی خرچ ہوں گے۔ اس کے بارے میں بھی کسی نے غور ہی نہیں کیا۔
کورونا کی دوسری لہر کے کمزور پڑنے کے دوران تیسری لہر کے اندیشوں میں پورا ملک سہما ہوا ہے مگر وزیرِ اعظم اور مرکزی حکومت کے لیے اب سب سے بڑا ایجنڈا اُتّر پردیش کا انتخاب ہے۔ جہاں سے پارلیمنٹ کے اَسّی ممبران چُنے جاتے ہیں۔ایک آدھ ہفتے تک ایک نقلی ماحول بنانے کی کوشش ہوئی کہ وزیرِ اعظم اُتّر پردیش حکومت سے ناراض چل رہے ہیں۔ناگ پور کے کارندے لکھنو¿ اور دلّی کے ساتھ ایودھیا میں گھومنے لگے اور اپنے آپ ایسا ماحول بن گیا کہ کورونا کی دوسری لہر کا آخری حصّہ اِسی تماشے کی نذر ہو نے لگا۔مطلب یہ کہ حکومت کی بد انتظامی سے دھیان ہٹ جائے پھر یہ تو معلوم ہی ہے کہ لوگوں کا حافظہ نہایت محدود ہوتا ہے۔پھر رام مندر اور ایودھیا کا چمتکار شروع ہوگا اور اُتّر پردیش کے انتخابات کا بِگُل پھونک دیا جائے گا۔یہ دھیان میں رہے کہ کورونا کی دوسری لہر کے دوران اُتّر پردیش حکومت نے اسمبلی انتخاب کے سیمی فائنل کے طَور پر پنچایت انتخابات کرائے مگر اُن کی بے طرح شکست ہوئی۔جس سے عوامی بے چینی کا اندازہ کِیا جا سکتا ہے۔ابھی اُتّراکھنڈ کے وزیرِ اعلاکواستعفیٰ دینا پڑاجس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے چلانے کا کوئی خاص مزاج بھارتیہ جنتا پارٹی نے سوچ سمجھ کر تیّار نہیں کیا۔
سڑک سے لے کرگھروں تک اور کل کارخانوں سے لے کر اسکول اور کالج تک ، ہر جگہ عوام پریشان ہیں۔اُتّر پردیش میں سوچ سمجھ کر ماب لنچنگ اور انتشار کے کچھ کام شروع کیے جا رہے ہیں۔تاکہ فرقہ پرستانہ تقسیم کا عمل زیادہ تیزی سے آگے بڑھ سکے اور وہاں کی سرکار بچ سکے۔یہ بات ملحوظ رہے کہ نریندر مودی کی حکومت مہنگائی ، بے روزگاری، عدم تحفّظ اور صحت و تعلیم کے بنیادی سوالوں پر ایک لفظ بھی بولنا نہیں چاہتی۔ سات مہینے سے زیادہ دلّی میں کِسان اپنے سوالوں کے ساتھ ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں مگر حکومت کو اُن سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک ایسی سیاسی پارٹی ہے جو عوامی پریشانی ، بے چینی اور ابتری کو مذہبی نفرت کے زہر سے ہَوا کر دینے کا کھیل کھینا جانتی ہے۔ آیندہ چھے سات مہینے ملک کے لیے بھی شدید امتحانات میں گزریں گے جب اپنی عدم کارکردگی کو نریندر مودی اپنے مخصوص ایجنڈا سے بدل دینے کا کام کریں گے۔ اب شاید کچھ دنوں تک رام مندر کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی مصروفیت بھی بڑھے اور اس کو مرکز میں رکھ کر نئی سیاست کے گڑھنے کی کوششیں بھی قایم ہوں۔

مضمون نگار کالج آف کامرس،آرٹس اینڈ سائنس ،پٹنہ میں اردو کے استاد ہیں۔
Email: safdarimamquadri@gmail.com

Leave A Reply

Your email address will not be published.