*کیا بھارت میں مذہبی منافرت کو ختم نہیں کیا جاسکتاہے؟

0

 

۔ نقاش نائطی
۔ +966504969484

*امریکہ میں یہود و نصاری کے مقتدر حلقوں والے سازشی ذہن کی طرف سے، خود ساختہ نائین الیون حملہ کئے جانے کے بعد،جس طرح سے عالم بھر میں مسلم مخالف اسلامو فوبیا کا مرض عام کیا گیا ہے، آٹل بہاری واجپائی کے وزیر اعظم رہتے،بھارتیہ انٹیلیجنس ایجنسیوں میں بھرتی کرائے گئے مسلم مخالف سنگھی ذہن آفیسروں کی طرف سے، اس وقت بھارت کے کانگریس راج میں بھی،کسی بھی ناکردہ دہشت گردانہ الزم کے تحت مسلم نوجوانوں کو زیر حراست لیا جانا اور ان پر تشدد کی انتہا کرواتے ہوئے،انکے اقبال جرم کا بہانہ بنا، دس بیس سال تک انہیں جیل کی سعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور کرنا اور دس بیس سال بعد دیش کی ایک حد تک مذہبی منافرت سے آزاد، عدلیہ سے بےقصور ثابت ہو، انکا رہا ہو پایا جانا، عام سا معمول ہوچکا ہے۔*
*اب 2014 مسلم مخالف سنگھی مودی یوگی راج میں تو، کسی بھی بہانہ سے مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور جیلوں میں سالوں قید و بند رکھتے یا، انہیں سنگھی حکومتوں کے خودساختہ جیل سے بھاگ جانے کے الزام لگا ان زیرحراست مسلم نوجوانوں کو اینکونٹر میں جان سے مارڈالا جانا، یا پھر کچھ سالوں بعد پولیس یا انٹیلیجنس ایجنسیوں کی طرف سے عدم فراہمی ثبوت کے چلتے، دیش کی عدلیہ سے انہیں آزاد کیا جانا، بھارت میں عام سا معمول ہوگیا ہے۔*

*اور اب ان ایام میں کئی ایک اہم معرکتہ آلآراء عدالتی فیصلوں سے بھارت کی عدلیہ کے بھی، سنگھی مودی حکومت کی طرف سے یرغمال بنائے جانے کی خبروں کے چلتے، بھارت میں ہزاروں سال سے امن و شانتی سے جی رہے 25 سے 30 کروڑ ہم مسلمانوں کے لئے بھارت میں شانتی انتی سے رہنا گویا محال کیا جارہا ہے۔ ایسے میں امریکی نائین الیون حملہ کے بعد سے، بھارت میں اب تک جتنے بھی مسلم نوجوان، کئی کئی سال زیر حراست رہتے، دیش کی عدلیہ سے بے قصور جو رہائی پاچکے ہیں ان تمام کیسز کی فائل یکجا کرتےہوئے، جمیت العلماء ھند یا ڈیموکریٹک فرنٹ یا اس جیسی آل انڈیا تنظیم کی طرف سے دیش کی سپریم کورٹ میں گوہاڑ لگاتے ہوئے، دیش کی عدلیہ کے غیر جانبدار انصاف پر مبنی فیصلوں کی رو سے آزاد ہونے والے ان تمام مسلم نوجوانوں کے جیل میں بے قصور رکھے گئے دنوں، ہفتوں، مہینوں، سالوں پر مشتمل زیر حراست مدت کے لئے معاوضہ انہیں نہ صرف دلوایا جانا چاہئیے۔ بلکہ ان کیسز میں رہا ہوئے، بے قصورمسلم نوجوانوں کو خواہ مخواہ بغیر کسی ثبوت حراست میں لینے کی لغزش دانستہ کرنے کی پاداش میں، ان رہا ہونے والے نوجوانوں کو دئیے جانے والے معاوضے کے ایک حصہ کو، انہیں حراست میں لینے والے، انٹیلیجنس و پولیس ذمہ داروں کی تنخواہوں سے ادا کرنے پر انہیں مجبور کیا جانا چاہئیے، تاکہ کوئی بھی سنگھی آفیسر ، اپنی مسلم دشمنی میں کسی بھی بے قصور مسلم نوجوان کو زیر حراست لینے سے پہلے سو مرتبہ سوچ کو اس پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت کرپائے۔*

*مانا کہ دیش کی عدلیہ پر بھی ایک حد تک سنگھی مودی جی کا دباؤ برقرار ہے لیکن پھر بھی دیش کی عدلیہ ایک حد تک آزاد خود مختار ہے۔ ہمیں دیش کی عدلیہ پر مکمل بھروسہ رکھتے ہوئے، ہم مسلمانوں کو ان ظالم مسلم مخالف سنگھی سیاست دانوں اور انٹیلیجنس و پولیس اہلکاروں کے خلاف عدالت سے انصاف مانگنا نہیں چھوڑنا چاہئیے۔ ہمیں امید ہے دیش کی عدلیہ میں ابھی بھی ایسے انگنت جج صاحبان موجود ہیں جن سے انصاف کی امید رکھی جاسکتی ہے۔*

*دوسرا اہم نکتہ ، کسی بھی ریاستی یا مرکزی انتخابات سے عین پہلے، کسی نہ کسی بہانے مسلم منافرتی ایشوز کو تازہ کیا جاتا ہے یا کوئی مسلم مخالف قانون پاس کروایا جاتا ہے، یا سنگھی سیاست دانوں کی طرف سے مسلم مخالف، بے تکے بیانات جاری کئے جاتے ہیں تاکہ مسلم مخالف منافرتی ماحول دانستا پیدا کرتے ہوئے ، ھندو اکثریتی ووٹ ہتھیائے جائیں، جس کا فائیدہ یقینا جہاں مسلم دشمن ھندو شدت پسند پارٹیوں کو ہوتا ہے، وہیں اس کا زیادہ تر نقصان سیکیولر سیاسی پارٹیوں کو ہوجاتا ہے۔*

*اس لئے ہم مسلمانوں کی آل انڈیا نیانت کرنے والی سماجی فلاحی تنظیموں کو چاہئیے کہ اس سلسلے میں وہ کانگریس ، سماج واد سمیت تمام سیکولر پارٹیوں سے مکرر ملاقاتیں کر، انہیں قائل کرتے ہوئے، انہی کو آگے کر، دیش کی عدلیہ میں گوہاڑ لگاتے ہوئے، یہ فیصلہ دینے پر عدالتوں کومجبور کیا جاناچاہئیے کہ کوئی بھی انتخاب سے چھ آٹھ ماہ قبل کے دوران، کسی بھی مذہبی منافرتی نعرے بازی یا قانون سازی سے ہر شدت پسند سیاسی پارٹیوں کو سختی سے روکا جائے اور انہیں صرف اور صرف اپنے سابقہ دور حکومت میں کئے جانے والے، یا مستقبل میں عمل درآمد کئے جانے والے، ترقیاتی منصوبوں کے بل پر ہی انتخاب لڑنے پر مجبور کیا جائے۔ اس سے ان دو دہوں کے دوران، بھارت میں سر اٹھانے والے مذہبی منافرت کے مہا دیؤ کو قابو میں رکھا جاسکے،واللہ الموافق بالتوفیق الا باللہ*

Leave A Reply

Your email address will not be published.