! ماب لنچنگ پہ مسلم رہنماؤں کی بےحسی

0

 

 

احساس نایاب

( شیموگہ، کرناٹک )

اے مسلمانان ہند کیا آپ بھول گئے ؟
کس طرح ہماری نظروں کے آگے ہماری حاملہ بہنوں کا پیٹ چیرا گیا، اُن کے نوزائیدہ بچوں کو تلواروں کی نوک پہ اچھالا گیا ، ہماری مرحوم ماؤں کو قبروں سے نکال کر اُن کے جسموں سے بدکاری کرنے کی بات کہی گئی, جانوروں کے نام پہ ہمارے بےقسور بھائیوں کا قتل کیا گیا، ہماری پردہ نشین بہن بیٹیوں کو برہنہ کرکے سڑکوں، چوراہوں پہ ٹانگا گیا اُن کے جسموں کو کتوں کی طرح نوچ کر اُن کی عزت کو تار تار کیا گیا ، گجرات سے مظفر نگر ، دہلی اور کشمیر میں کی گئی بربریت کیا آپ اتنی جلدی بھول گئے ؟؟؟
کیا وہ سارے خوفناک مناظر بھول گئے جب ہم سے ہمارا سب کچھ چھین کر ہمارے گھروں، مسجدوں کو آگ لگادی گئ ، ریفیوجی کیمپوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح جینا ہمارا مقدر بنادیا گیا ، ہمارے امام مساجد اور موذن کے سر کاٹے گئے ، قرآن پاک کے نسخون کو جلادیا گیا ، ہمارے بزرگان دین کی بار بار توہین کی گئی، ہمارے بےقسور نوجوانوں پہ بےبنیاد الزامات لگاکر انہیں زندانوں میں ڈال دیا گیا کیا واقعی مین آپ سب کچھ بھول گئے ؟؟؟
یا بھولنے کا ناٹک کررہے ہیں کہ جان کر بھی انجان بےحس بنے ہیں جو اس قدر ذلیل و خوار کئے جانے کے باوجود خود کو سکیولرزم کے علمبردار کہلوانے کی ضد کررہے ہیں ۔۔۔۔
جبکہ آج ان سنگھی آدم خوروں کی زبانوں کو ہمارے خون کا چسکا لگ چکا ہے، اخلاق کے قتل سے شروع ہوا سلسلہ جنید، سبود، تبریز، آصف تک پہنچ گیا، ان وحشیوں کو چھوٹے عظیم اور ننھی آصفہ پہ بھی ترس نہیں آیا ، شاید یاد ہو آپ کو عظیم وہی 8 سالہ معصوم بچہ جو اپنے والدین سے دور مدرسہ میں پڑھائی کررہا تھا اور ایک دن مدرسہ کے احاطہ میں گِلی دنڈا کھیل رہے ننھے عظیم کو علاقے کے چند شرپسندوں نے بےرحمی سے قتل کر ڈالا اُس وقت بھی آپ لوگ خاموش تھے اور آج بھی آپ خاموش ہیں ۔۔۔۔ ایک بزرگ کو جبرا سور کا گوشت کھلایا گیا اور حال ہی میں ایک بزرگ کی داڑھی کاٹ کر رام کے نام پہ انہیں بےدردی سے مارا پیٹا گیا اب بھی آپ خاموش ہیں ۔۔۔۔۔
چند نامرد آن کیمرہ آپ کی حاملہ بہنوں کا پیٹ چیر کر ان کے بچوں کے قتل کی سیاہ تاریخ دوبارہ دہرانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
جی ہاں !
اترپردیش میں ایک نامرد جو خود کو ہندو کرنی سینا کا صدر بتاتا ہے اس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلمانان ہند کو دھمکی دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
جس کی ویڈیو سوشیل میڈیا پہ تیزی سے وائرل بھی ہوئی لیکن افسوس کسی میں اتنا دم نہ تھا کہ وہ اس کمینے کا منہ توڑ سکے، اس کے حلق سے زبان کھینچ سکے ۔۔۔۔۔ ؟؟؟
جب بھی اس ویڈیو کو دیکھتے ہیں تو دل و دماغ میں گجرات کا وہ دردناک منظر اُبھر آتا ہے اُس وقت بھی بھگوادھاریوں کی یہی سوچ تھی جب گجرات 2002 مودی کی سرپرستی میں خونی کھیل کھیلا گیا تھا سرعام مسلمانوں کا نرسنگھار کیا گیا اور انسانی بھیس میں چھپے ان درندوں نے حاملہ خاتون کا پیٹ چیر کر بچے کو زندہ جلادیا ۔۔۔۔
اور اس ویڈیو پہ اےسی لگے کمروں میں بیٹھے چند نام نہاد دانشورون کا کہنا ہے کہ بھوکنے والے کتے کاٹتے نہیں ہیں ،،،،، افسوس غفلت میں ڈوبے ان خوش فہم لوگون کی عقلوں پہ ۔۔۔۔۔
ہمارا ان سبھی سے بس یہی کہنا ہے کہ بھونکنے والوں نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار کاٹا ہے کہیں بھگوا لباس میں آکر تو کہیں خاکی وردی میں چھپ کر ہاشم پورا ، گجرات ، مظفرنگر سے لے کر دہلی ہر جگہ مسلمانوں کی جان مال آبرو بار بار لوٹی گئی ہے اور ہم خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے اتحاد کا جھنڈا تھامے رہے ۔۔۔۔۔۔
خود تو فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے دست گریباں ہیں اور امید غیروں سے اتحاد کی ہے ۔۔۔۔۔۔
یہ کفر کے جتنے فتوے ایک دوسرے پہ لگاتے ہیں کاش اگر ان میں ذرہ برابر بھی ایمانی غیرت اور ہمت ہوتی تو یہ امن و امان کی اپیل کرنے کے بجائے ممبروں پہ بیٹھ کر جہاد کی ترغیب دیتے نوجوانوں کے اندر جوش اور حوصلہ پیدا کرتے انہیں بتاتے کہ اسلام میں بزدلی کے لئے کوئی جگہ نہیں اور یوں بےموت مرنے کے بجائے سیلف ڈفینس میں دوچار کو کیفرکردار تک پہنچاکر مرنا شہادت ہے ۔۔۔۔۔ لیکن افسوس یہاں دشمنان اسلام کے ساتھ ساتھ خود مسلمانوں نے بھی اپنے مفاد کے خاطر جہاد کا مطلب ہی بدل دیا ہے ۔۔۔۔
دوسری جانب لوجہاد کے نام پر ہماری معصوم بچیوں کا مذہب تبدیل کیا جارہا ہے، اُن کی زندگیوں پہ گرہن لگایا جارہا ہے لیکن آپ کو اس سے کیا ؟ یہ کونسا آپ کی بہن یا بیٹی کا معاملہ ہے ؟؟؟
کسی غریب کی بیٹی ہے مرتی ہے تو مرے ، کسی غریب کی عزت ہے لٹتی ہے تو لٹے آپ بس اپنے خانخاہوں میں گوشہ نشین ہوجائیں ۔۔۔۔
بھلے اسلام کی ان شہزادیوں کو زور زبردستی بدنام گلیوں کی زینت بنادیا جائے ۔۔۔۔۔۔
لیکن نہیں آپ اس پر بھی اپنے لب نہ کھولیں، بلکہ سکوت اختیار کریں، قاتلوں کے ساتھ ملاقاتیں کرکے امن و ایکجہتی کے گیت گائیں، آخر آپ اتحاد والے امن کے رکھوالے جو ہیں سو ان بھیڑیوں کے ساتھ عید ملن کی پارٹیاں منائیں ، آپ لوگ حکمت پسند جو ہیں اور آپ کے سو کالڈ رہنما و قائدین کے مطابق یہی مصلحت ہے بھلے راہ چلتا کوئی پاگل کتا آپ کے بزرگوں کی داڑھی نوچے، سروں کی ٹوپیاں اچھالے آپ کے معصوم بچوں کو نفرت کی بھینٹ چڑھادے لیکن آپ ٹس سے مس نہ کرنا نہ ہی ظالم کے ہاتھ پکڑنے کی جرات کرنا بلکہ ان کی لاشوں کو اپنے کاندھوں پہ اٹھاکر خود کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہنا، انہین اپنے جلسوں میں بلاکر اسٹیجس کی زینت بناکر ان کے گلوں مین پھول کے ہار پہنانا ، بھلے اس کے بدلے وہ ہمارے نوجوانوں کے گلے کاٹیں آپ انہیں مٹھائی اور تحفے تحائف کے سوغات دینا ، ایلکشن میں ان کے آگے پیچھے دم ہلاتے ان کے تلوے چاٹتے ہوئے ان کی جئے جئے کار کرنا کیونکہ اسی میں آپ کی فلاح ہے اسی میں آپ کے لئے دنیاوی آرائش ہے اور اسی میں آپ کی امان ہے ۔۔۔۔۔
لیکن یاد رہے آپ کی یہ جو دنیاپرستی ہے یہی مسلمانوں کی تباہی اور ہمارے نوجوانوں کے قتل و غارتگری کی اصل ذمہ دار ہے آج ان درندوں کو بڑھاوا آپ کی اسی خاموشی سے مل رہا ہے کہ یہ ہمارے گھروں میں گھُس کر ہماری عورتوں اور بچوں کا خون بہارہے ہیں کورونا اور لاک ڈاؤن کے نام پہ جہاں عوام کو گھروں میں قید کیا گیا ہے وہیں ان آدم خوروں کو اتنی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ وہ بلاخوف و خطر سرعام مسلمانوں کا قتل کررہے ہیں اور ہمارے نام نہاد ملی و سیاسی قائدین کو سانپ سونکھ چکا ہے ان کی زبانوں پہ تالا پڑ چکا ہے ان کی سوچ مفلج ہوچکی ہے ان کے حوصلے مردہ ہوچکے ہیں اور ان کا وجود سڑھی گلی لاش بن کے رہ گیا ہے، افسوس کہ ان لاشوں کا بوجھ پوری قوم اٹھائے کھڑی ہے اپنی جان مال اولاد تک قربان کرکے ان کے تابوتوں کو سجائے کھڑی ہے ۔۔۔۔۔۔
خدارا اب تو ہوش میں آئیں اس پیری، مریدی، شخصیت پرستی پہ خاک ڈال کر ایک اللہ ایک رسول ایک قرآن اور روزقیامت پہ ایمان لائیں، اپنے آبا و اجداد کی زندگیوِں پہ غور و فکر کریں جن کی شمشیریں ایک بہن کی آواز پہ میانوں سے نکل جاتی تھیں اور آج انہیں کے وارث سوشیل میڈیا کے مجاہد بن کر رہ گئے ہیں، تصاویر و ویڈیوز سوشیل میڈیا پہ اپلوڈ کرکے خود کو اس دور کے مجاہد آعظم سمجھ بیٹھے ہیں، ان میں چند لائکس ، کمنٹس اور فالوروس کی تو ایسی دوڑ لگی ہے مانو یہی دنیا و آخرت میں کامیابی کی کنجی ہے ۔۔۔۔۔
کوئی ٹک ٹاک، انسٹاگرام، پب جی پر اپنی زندگی برباد کررہا ہے تو کوئی گلی کوچے میں بیٹھ کر نشے کا عادی بن چکا ہے یوں ہر ایک کے سر پہ کسی نہ کسی چیز کا نشہ چڑھ کر بول رہا ہے ایسے میں اس قوم کو کون سنبھالے گا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
خدارا آپ اسلام کے شہسوار ہو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو آپ سے یہ قوم ہے ، قوم کا مستقبل ہے اسے تباہ ہونے سے بچاؤ، اپنی ماؤں بہنوں پہ گندی نظریں ڈالنے والے خنزیروں کی آنکھیں نوچ ڈالو ان کی گندی نظروں کو ہمیشہ کے لئے نابینا کردو ۔۔۔۔۔۔ جو زبان بزرگان دین کی توہین کرے اُن زبانوں کو اپنے جواب سے کاٹ ڈالو، جو ہاتھ مظلوم پہ اٹھتے ہیں اُن بازوؤن کو اُکھاڑ پھینکو ۔۔۔۔۔
ورنہ تمہاری زندگیوں پہ، تمہاری جوانیوں پہ، تمہارے مظبوط بازوؤں پہ لعنت ہے، لعنت ہے ایسے وجود پہ جو بےحس بےضمیر دنیاوی نشے میں مدہوش پڑا ہے ۔۔۔۔۔۔
ان حالات پہ شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔۔۔۔۔
نہیں اٹھنا بغاوت کو تو مرجاؤ کہیں جاکر
یہ سہنا روز کی ذلت یہ جینا روز گھبرا کر
جو بزدل رہ کے زندہ ہو، مقدر ان کا سوتا ہے
ہم اس کے مستحق ہیں جو ہمارے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔

آخر میں اس دنیا کے بعد جو ابدی دنیا ہوگی وہاں سوال جواب ہوں گے، مظلوم کے ہاتھ اور ہمارے آپ کے گریبان ہوں گے، ظالموں کا جو ہوگا سو ہوگا ہی لیکن ہمیں بھی نہیں بخشا جائے گا کیونکہ ہماری لالچ مفادپرستی ظالموں کی مددگار ہے ۔۔۔۔ ہماری چپی اُن کی طاقت ہے، ہماری بزدلی اُن کی ہمت ہے جو اُن کی راہیں ہموار کررہی ہے لیکن عنقریب سارے جوابدہ ہوں گے ہر غفلت ہر نفس پرستی کی پوچھ ہوگی وہاں ہمارے ہر فعل و عمل پہ جزا اور سزا کا فیصلہ سنایا جائے گا یاد رہے وہاں ہمارا کوئی عزر نہیں چلے گا نہ ہی ہماری عبادتیں کام آئیں گی نہ ہی ہمارے سجدے و روزے ہمیں بچا پائیں گے کیونکہ حقوق العباد کی ہم سے ایسی پوچھ ہوگی کہ اُس وقت کوئی فرقہ کوئی پیری مریدی ہمارے کام نہ آئے گی، ہم پوری طرح سے بےیارومددگار کھڑے ہوں گے ، دنیا میں تو ذلیل ہوہی رہے ہیں آخرت میں بھی ذلت و رسوائی ہوگی اُس دن سے ڈریں اللہ کے غضب سے ڈریں ، مظلومین کی آہوں سے ڈریں اور اللہ سے پناہ مانگیں، اپنی سوچ اپنے عمل میں تبدیلی لائیں، اپنی نیتوں کو صاف کریں اور اپنے اندر حوصلہ جگائیں ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا ۔۔۔۔۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.