ایک مثالی نکاح

0

پریس ریلیز

آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ نے ماضی قریب میں آسان نکاح مہم چھیڑ رکھا تھا، اس کے دور رس اثرات پورے ملک میں محسوس کئے گئے ،اور بہت ساری جگہوں سے سادگی کے ساتھ آسان نکاح کی خبریں موصول ہوئیں، من جملہ حال ہی میں ایک ایسے نکاح کی خبر موصول ہوئی،جس کوسو فیصد سادگی کے ساتھ انجام دیاگیا۔ نہ جہیز کالین دین، نہ بارات کی آمدورفت،نہ باجہ نہ گاجہ اور نہ شور و ہنگامہ، نکاح سے قبل دونوں فریق نے یہ طے کرلیا تھا کہ جہیز کے نام پر کوئی سامان نہیں لیاجائے گا، نکاح مسجد میں ہوگا، طے شدہ مہر نقد دیاجائے گا، چھوہارے تقسیم کئے جائیں گے، اور بس، نہ بارات جائے گی، نہ کھانا ہوگا، ، البتہ دوتین خواتین جاکر لڑکی کو ایک نیاجوڑا پہنا کر رخصت کراکر لیکر آئیں گی۔ چنانچہ حسبِ وعدہ ایساہی عمل کیاگیا، اور دوسرے دن دولہا نے ولیمہ مسنونہ کیا، جس میں امیر وغریب کو کھانا کھلایا گیا، دعوت ولیمہ میں نیوتہ جیسی بری رسم کو بھی ختم کیا گیا، یہ نکاح ہواحضرت اقدس شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے شاگرد رشید حضرت مولانا ابوالکلام قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کی پوتی عزیزہ فوزیہ بنت احمد سعید اور حضرت ہی کے نواسہ عزیزم ریان واصف ولد جناب مولانا ابراہیم مظاہری صاحب شاگرد رشید حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ اور حضرت شیخ محمد یونس جونپوری ؒ کے درمیان۔ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سرحد بھوجاگاؤں نامی مشہورگاؤں کی قدسی جامع مسجد میں مورخہ ١۸/مئی کی شب میں یہ نکاح انجام پایا، چوں کہ علاقے میں اس طرح کایہ پہلے نکاح تھا، اس لئے شروع سے ہی چہ میگوئیاں، لعن طعن اوراعتراضات کاسلسلہ جاری تھااس لئے جناب مولانامفتی غفران صاحب قاسمی نے نکاح سے قبل پرمغز خطاب کیا،جس میں انھوں نے کہاکہ رسم روایات اور سینکڑوں بدعات و خرافات کے درمیان اس طرح سادگی کے ساتھ نکاح کرناایک مردہ سنت کو زندہ کرناہے،حسب صراحت حدیث ان لوگوں کو سو شہید کاثواب ملے گا، ان شاء اللہ ۔ دلہن کے برادرنسبتی،دولہاکے خلیرے بھائی اورممبئی میں آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈکی ماتحتی میں چلنے والےدارالقضاء کے قاضی شریعت جناب مفتی محمد فیاض عالم قاسمی نے نکاح پڑھانے سے قبل دو منٹ میں چاراہم باتیں کہیں۔
(١)انھوں نے کہاکہ عام طورپرلین دین طے کیاجاتاہے، شرعایہ درست نہیں ہے، اس لئے اس نکاح میں لین دین نہیں ہوگا، یہی طے کیاگیاہے۔
(٢)دولہااپنے ساتھ سینکڑوں لوگوں کو لیکر بارات کی رسم اداکرتاہے، لیکن اس نکاح میں طے کیاگیاہے کہ دولہاہی نہیں جائے گا، جس سےدیگر لوگوں کاجانا از خود بند ،جب بارات نہیں تو “طعام داری” کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔
(٣)انھوں نے مزید کہاکہ رسم ورواج ، اوربدعات وخرافات میں پیسہ ضائع نہ کرکے اگر اپنی اولاد کی دینی اورعصری تعلیم پر خرچ کیاجائے تودنیاوآخرت اورملک وملت کے لئے خیر وبھلائی نیز ذریعہ آخرت بنے گا، اس لئے رسم رواج کو بندکیاجاناچاہئے ، اورسنت کے مطابق سادگی کے ساتھ شادیاں انجام دینی چاہیئے،
(٤) چوتھی بات جو انھوں نے کہی یہ ہے کہ اس طرح کایہ نکاح پہلا تو ہے لیکن آخری نہیں ہے، ہم نے ایک نمونہ پیش کیاہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر عمل کیاجائے اس کو عام کیاجائے۔اس کے بعد قاضی موصوف نے نکاح کا خطبہ دیا، ایجاب وقبول کرایا، اوردونوں میاں بیوی کو کیسے زندگی گزارنی ہےاس سے متعلق طبع شدہ اقرارنامہ کو پڑھ کر سنایا، جس سے سامعین محظوظ ہوئےاوراس کو سراہابھی۔ حضرت مولاناابوالکلام قاسمی نے زوجین کے لئے خیر وعافیت ، رحمت وبرکت،پیارومحبت کی دعاء کی، اوردونوں کو دعاء دی۔اوراسی وقت دولہن کی رخصتی بھی صرف ایک نئےجوڑے کے ساتھ عمل میں آئی، شادی کے دو دن بعد چوتھی کی رسم شادی کالازمی حصہ سمجھاجاتا ہے، لیکن زوجین اور ا ن کے گھروالوں نے اس کو بھی کالعدم قراردیا۔ اس نکاح میں تقریباپچاس علماء وحفاظ کرام نیز سرکردہ شخصیات نے شرکت کی، جس میں دولہا کے بھائی مولاناابرارخلیل مظاہری، مفتی اسعد غنی مظاہری، حافظ امانت اللہ رشیدی، دلہن کے چچامولانااطہر سعید قاسمی، مولانا سالم انظر قاسمی سفیر دارالعلوم دیوبند برائے کولکاتہ، مولانااکمل یزدانی،حافظ اعظم سرور، مولانالقمان قاسمی، قاری فرقان، مولانا منظور مظاہری، حافظ اظہر امام، مفتی عمران قاسمی، مولانا ابو ناصح، مفتی عیاض، ڈاکٹر سید عبدالحکیم، ڈاکٹر سید شمیم مرتضی، ڈاکٹر نیر عالم، دولہن کے دوسرے برادر نسبتی سید افضل حسین(بابل)، سید ارشاد احمد، سید نور عالم کنوینر پانچ گھریا ینگ کمیٹی، حافظ انظار ربانی، حافظ توفیق عالم وغیرہم کانام قابل ذکر ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.