۔       ما أجمل ديننا الاسلامي, ہمارا اسلام کتنا خوبصورت ہے۔

0
اسلام کا معمولی سے معمولی عمل بھی کفار کو اسلام لانے پر مجبور کردے لیکن، مسلمان سلف و صالحین کے صحیح اسلام پر عمل پیرا تو ہوں۔ اس کورونا وبا فیس 2 بھارت میں ہوئی  کثرت اموات اور ھندو بھائیوں کے اپنے اعزہ واقارب نیز قریبی رشتہ داروں کو، بعد موت کورنا، انکے جسد خاکی کو اپنے مذہبی عقائد کے ساتھ آخری رسومات انجام دئیے بنا ہی، انہیں گنگا میں پھینک دینے کے ہزاروں واقعات کے چلتے اور ایسے بیسیوں ہزار ھندوؤں کے، اپنے والدین کے جسد خاکی کو گنگا کنارے ریت میں دباچھوڑ بھاگنے اور بعد ، کتوں کے ان جسد خاکی کو نوچنے کھانے کےہزارہا مناظر نیشنل ٹی وی اور سائبر میڈیا پر دیکھنے کے بعد، بھارت کے ہزاروں ھندو اسلام دھرم جاننے اور اسلام دھرم ہی کے احترام والے طریقہ سے مرنے کی خواہش کرتے پائے گئے ہیں۔ کاش کہ حضرت نوح علیہ السلام کے امتی اس ھندو قوم کو، انہی کے وید پران میں بتائے، بغیر مورتی پوجا والے، ایک وحدہ لا شریک لہ والے دین آسمانی، اصلی ویدک دھرم ،جیسے دین اسلام کی دعوت مناسب انداز دینے والے ہم مسلمان، شرک و بدعات و قبر پرستی سے ماورا، اگر آج بھی سلف و صالحین کے اصل دین حنیف پر عمل پیرا، ان تک دین اسلام کی دعوت تدبر سے پہنچائیں تو ہزاروں لاکھوں دین نوح کے یہ پیروکار ھندو قوم، اجتماعی طور مسلمان  ہوتے ہوئے بھارت کا جغرافیائی نقشہ ہی بدل کر رکھ دیں۔ واللہ الموافق بالتوفیق الا باللہ۔ ابن بھٹکلی
ایک فرانسیسی عورت اپنے  چودہ سالہ بیٹے کو لے کر فرانس کے اسلامک سنٹر میں  آئی تاکہ اس کا بیٹا  مسلمان ہوجائے، وہ دونوں اسلامک سنٹر پہنچ گئے
   اسلامک سنٹر کے ناظم کے آفس میں جاکر  بچے نے  ملاقات کی، بچے نے کہا میری امی چاہتی  ہے  میں مسلمان ہوجاؤں، مرکز اسلامی کے ناظم نے بچے سے پوچھا کیا تم اسلام قبول کرنا چاہتے ہو؟ بچے نے جواب دیا، میں نے ابھی تک اس پر غور نہیں کیا ہے لیکن میری ماں کی خواہش ہے میں  اسلام قبول کرلوں
ناظم کو بچے کے اس جواب پر بڑی حیرت ہوئی، اس نے بچے سے پوچھا کیا تمھاری ماں مسلمان ہے؟  بچے نے کہا کہ نہیں میری ماں مسلمان نہیں ہے اور نہ ہی مجھے معلوم ہے کہ وہ مجھے اسلام قبول کرنے کے لئے کیوں کہتی ہے
ناظم نے پوچھا، تمھاری ماں کہاں ہے؟ بچے نے کہا وہ مرکز اسلامی کے باہر کے حصہ میں کھڑی ہے ناظم نے کہا اپنی ماں کو بلا لاؤ، تاکہ میں اس سے گفتگو کرکے صورت حال جان سکوں۔ بچہ اپنی ماں کو لے کر ناظم کے پاس آیا، ناظم نے ماں سے پوچھا کہ کیا یہ بات درست ہے، کہ تم مسلمان نہیں ہو اور چاہتی ہو کہ تمھارا بیٹا مسلمان ہوجائے؟
 ماں نے کہا کہ یہ بات بالکل ٹھیک ہے
ناظم کو اس جواب پر بڑی حیرانی ہوئی اس نے ماں سے پوچھا کیوں چاہتی ہو تمھارا بیٹا اسلام قبول کرلے
 ماں نے جو جواب دیا وہ حیرت زدہ کرنے والا تھا ماں نے بتایا۔”میں پیرس کے جس فلیٹ میں رہتی ہوں، میرے فلیٹ کے بالمقابل ایک مسلم فیملی کا فلیٹ ہے اس کے دوبچے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں صبح و شام جب بھی یہ دونوں بچے گھر سے نکلتے ہیں یا گھر میں داخل ہوتے ہیں وہ اپنی والدہ کی پیشانی چومتے ہیں اور ہاتھ کو بوسہ دیتے ہیں اور بڑے احترام اور ادب سے اپنی ماں کے ساتھ پیش آتے ہیں گویا وہ ماں کسی ملک کی پرائمنسٹر ہے، میں نے جب سے یہ منظر دیکھا ہے میری دلی تمنا ہوگئی ہے کہ میرا بیٹا بھی مسلمان ہوجائے ورنہ مجھے ڈر ہے، میں جب بوڑھی ہوجاؤں وہ کہیں مجھے اولڈ ایج ہوم میں نہ رکھے، میں چاہتی ہوں وہ میرے ساتھ ایسا سلوک کرے، جیسے یہ مسلم ماں کے بچے اپنی والدہ کے ساتھ کرتے ہیں”
ما أجمل ديننا الاسلامي. اذا اتممت اكتب الله أكبر
عربی سے ترجمہ
مولوی سید محمد زبیر مارکیٹ

Leave A Reply

Your email address will not be published.