” جنہیں ناز ہے ہند ہر وہ کہاں ہیں "

0

خان اُم حبیبہ

گزشتہ دو سال سے ہندوستان کیا ساری دنیا میں کورونا نے ہنگامہ مچا رکھا ہے. روزی روزگار کے سارے ذرائع ختم ہوتے جارہے ہیں. ذرائع ابلاغ نے وہ ستم ڈھائے ہیں کہ ہر کوئی ڈر اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے. علاج معالجہ کی سہولیات کا فقدان ہر مکتب فکر پر حاوی ہوتا ہوا انھیں مجبور بناتا جارہا ہے کہیں اسپتال موجود ہیں تو ڈاکٹر اور طبی عملہ ندارد ہے کہیں دونوں موجود ہیں تو بیڈ, وینٹی لیٹر اور آکیسجن کی کمیابی کا رونا رویا جارہا ہے. قبرستان اپنی تنگ دامانی کا شکوہ کررہے ہیں تو شمشان بھومیاں انتم سنسکار کے لئے لکڑیوں کا انتظار کررہی ہیں. جدھر دیکھئے خوف و ہراس چھایا ہوا ہے. انسانیت کہیں دور کھو گئی ہے. اپنے اپنوں سے گریزاں ہیں لیکن بے شمار درد مند افراد مذہب و ملت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوری تندہی سے مائل بہ کرم ہیں. کوئی اپنی مہنگی ترین لگژری کار فروخت کرکے کورونا متاثرین کو آکیسجن مہیا کرنے میں سرگرداں ہے تو کسی نے اپنی آٹو رکشہ کو چلتی پھرتی ایمبولنس بنا کر اپنی ہی بیوی کے زیور فروخت کرکے آکسیجن سیلنڈر نصب کرتے ہوئے کورونا متاثرین کو مفت سہولیات کرنے میں ہمہ تن مصروف ہے. ایسے نامساعد حالات میں بے شمار مسلم نوجوان بھی سامنے ہیں جو کورونا سے موت کا شکار ہوئے ہیں اور انھیں خود ان کے اہل خانہ بھی ہاتھ لگانے سے گریزاں ہیں ان کا انتم سنسکار ان کے رسم و رواج کے مطابق کرنے میں کوشاں ہیں. بے شمار ممالک نے خیر شگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایمبولینس, وینٹی لیٹر, آکسیجن اور دیگر ادویات مہیا کی ہیں.لاک ڈاؤں کی پابندیوں نے روزگار کے ذرائع مسدود کردئیے ہیں تو ارباب حکومت بھی کسی طرح کی مالی امداد مہیا کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے. بازار ویران ہیں, سڑکیں سنسان ہیں. کوئی کسی کا نہیں. آج سب اکیلیے ہیں. آج ہندوستان کا واحد طبقہ سیاست دانوں پر مشتمل ہے جو اپنی آسودگی اور خوشحالی کا اعلامیہ بنا ہوا ہے. انھیں اقتدار پر پہنچانے والا طبقہ حیرانی و پریشانی کے عالم میں اچھے دنوں کی آس لئے روز بروز موت کی دہلیز تک پہنچتا جارہا ہے. برسوں پہلے ساحر نے کہا تھا کہ… جنھیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں. اس کے برعکس ناز پروردہ افراد کا فقدان اور اس کے برعکس دردمند افراد کا زندہ و پائندہ احساس ثابت کرتا ہے کہ انسایت ابھی زندہ ہے کیونکہ درد مند افراد نے ہی مرتی ہوئی انسانیت کو سنبھالا دے رکھا ہے. بےلوث اور انسانیت نواز خادمین نے اپنی مسلسل کاوشات سے مرتی اور مٹتی ہوئی انسانیت کو جاوداں رکھنے کا عظیم کارنامہ انجام دیا ہے. برسوں پہلے گورکھپور کے ایک سرکاری اسپتال میں جب آکسیجن کی عدم دستیابی پر بے شمار نومولود بچے موت کی آغوش میں جانے کے در پے تھے تب ایک مسیحا صفت ڈاکٹر کفیل نے اپنے ہی ذاتی سرمایہ سے آکسیجن کی حصول یابی آسان کیا تھا لیکن المیہ یہ بھی ہے کہ یوپی کی فرقہ پرست اور متعصب یوگی سرکار نے اسی مسیحا کو اس حادثہ کا ذمہ دار بتاتے ہوئے جیل کی سلاخوں کے پچھے پہنچا دیا تھا. آج وہی مسیحا صفت جیل کی سلاخوں سے باہر آنے کے بعد بھی کورونا متاثرین کی تعداد دیکھ کر پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اسے کورونا متاثرین کا علاج کرنے کی اجازت دی جائے. چاہےبعد میں اسے دوبارہ پابند سلاسل کردیا جائے لیکن یوگی کی اندھی بہری سرکار اس پکار پر بھی اپنے کانوں کو بند کئے ہوئے ہے. کورونا نے کیسے کیسے روشن ماہ تابوں کو گہن آلود کردیا ہے. کورونا نے قوم و ملت کا عظیم سرمایہ ہم سے چھین کر موت کے حوالے کردیا ہے. آج غیر ترقی یافتہ ممالک میں کورونا متاثرین کے اعداد و شمار پستی کا شکار ہیں لیکن دنیا کی تیسری عالمی طاقت کا دعوی کرنے والا ہندوستان کورونا کے مقابل اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے سر نگوں ہوتا جارہا ہے. روز بروز ہزارہا افراد کو کورونا زندہ در گور کرتا جارہا ہے. اگر ایسے نامساعد حالات میں خادمان خلق کا ہجوم منظر عام پر نہیں آتا تو گلیوں گلیوں جنازے اٹھتے ہوئے صف ماتم بچھتا جاتا. آنگن آنگن چتائیں جلتی دکھائی دیتی. کوچہ کوچہ قریہ قریہ میں آنسوؤں کا بحر بےکنار رواں دواں نظر آتا. آج کورونائی یلغار نے احساس نامردای کو ختم کرتے ہوئے احساس درد سے مالا مال افراد کو اس طرح اپنی بیش بہا خدمات کی انجام دہی کے لئے سامنے لے آیا ہے کہ مرتی ہوئی انسانیت کو بقائے دوام مہیا ہو گیا ہے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.