نور عالم خلیل امینی بہ حیثیت سوانحی خاکہ نگار "پس مرگ زندہ "کی روشنی میں

0

 

 

عمرفاروق قاسمی

9525755126

سوانحی ادب میں مولانا نورعالم خلیل امینی ایک معتبر نام ہے ،”پس مرگ زندہ” سوانحی ادب کے حوالے سے ان کی دوسری تصنیف ہے ،اس سے قبل "وہ کوہ کن کی بات” اساطین اردو ادب کے درمیان مقبولیت حاصل کرچکی ہے۔ 932 صفحات پر مشتمل یہ کتاب مولانا امینی کی جادو بیانی کا عظیم مظہر ہے ۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 2010 میں منظر عام پر آئی اور صرف ایک ماہ میں تیسرا اڈیشن چھاپنا پڑا،جس سے اس کی مقبولیت کا پتہ چلتاہے،یہ کتاب تقریبا 37 شخصیات کی سوانحی زندگی پر مشتمل ہے،قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور مولانا سید اسعد مدنی پر دو دو مضامین ہیں،اس اعتبار سے کل انتالیس مضامین اس مجموعے میں شامل ہیں ۔اس کتاب کو متعلقہ شخصیتوں کے سوانحی خاکوں کا مجوعہ کہا جاسکتا ہے یا ان کے سلسلے میں اپنے تاثرات کا خزانہ بھی ؛کیوں کہ اس میں ان شخصیات کے مکمل یا نامکمل خاکے بھی پیش کئے گئے ہیں اور ان کے حوالے سے اپنے تاثرات و احساسات بھی سپرد قلم کئے گئے ہیں۔شخصیتوں کو پیش کرنے کا خوبصورت انداز اور ان کے حوالے سے سچائی نگاری،خیال آفرینی،اسلوب جمیل،دل چسپ انداز تحریر،زبان کی چاشنی،عبارت کی روانی اور تسلسل و توازن کی وجہ کر یہ کتاب خاکہ نگاری کے فن میں بے نظیر اور بے مثال واقع ہوئی ۔اس کتاب کی تمام متعلقہ شخصیات ان کے ہم عصر رہی ہیں،ان سے نہ صرف ان کو گفت و شنید کا موقع ملا ہے،بل کہ ان شخصیات کے ساتھ اکٹر اوقات گزارنے کی توفیق بھی انھیں ملی ہے،جن میں سے زیادہ تر متعارف اور مشہور ہیں ۔اس لحاظ سے یہ کتاب اردو ادب کی تاریخ ہی نہیں بل کہ کسی بھی تحریکی اور سماجی تاریخ لکھنے والوں کے لیے مصدر اور سرچشمہ کا کام دے گی ۔

کتاب کے چھبیس مضامین پہلے عربی میں لکھے گئے اور الداعی میں شائع ہوئے ان میں سے بیس مضامین کو بعد میں اردو کا قالب مولف نے خود دیا ہے جس سے ترجمہ پن کا احساس تک نہیں ہوتا ،اگر دیباچہ اور حاشیے میں اس کی صراحت نہیں کرتے تو دنیائے ادب کو اس کا پتہ بھی نہیں چلتا ۔آٹھ مضامین کے ترجمے ان کے شاگردوں کے ذریعے انجام دئیے گئے ،گیارہ مضامین براہ راست انھوں نے اردو میں تحریر کئے ہیں ۔ہر متعلقہ شخصیات پر تاثراتی مضامین یا قلمی خاکے کھینچنے کے بعد مصنف نے سوانحی نقوس یا فلاں ایک نظر میں یا مختصر سوانحی خاکہ کا عنوان ڈال کر ان کی زندگی کے مختلف گوشوں اور احوال و کوائف کو بیان کیا ہے جس کے تحت متعلقہ شخصیات کے حوالے سے اہم معلومات اکٹھا کردی گئی ہیں ۔اس اعتبار سے اگر کوئی شخص ان کی جامع اور مفصل سوانح لکھنا چاہے تو اس کو بڑی مدد ملے گی ۔خلاصہ یہ ہے کہ سارے مضامین مصنف نے جس انداز میں لکھے ہیں اس پر خاکہ کی تعریف صادق آتی ہے،البتہ مصنف نے ہر مضمون میں لاحقہ کے طور پر سوانحی نقوش بھی بیان کردیا ہے اس اعتبار سے کتاب کا ہر مضمون مختصر سوانح بھی ہے ۔

مولانا امینی نے دیباچہ میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ یہ کتاب تذکرہ نویسی کے فن میں اپنی مثال آپ ہوگی چناں چہ وہ لکھتے ہیں :

"ان مضامین میں زیادہ تر مضامین،متعلقہ شخصیتوں کے سوانح بھی ہیں،ان کے سلسلے میں بھرپور تاثرات بھی،ان کے مکمل یا نامکمل خاکے بھی اور ان کے عہد اور ماحول کے تذکرے بھی؛اس لیے یہ ہر طرح کے قارئین کے لیے،اپنے اندر دل چسپی کا سامان رکھتے ہیں ۔زبان کی چاشنی،شخصیتوں کے پیش کرنے کا خوبصورت انداز اور ان کے حوالے سے سچائی نگاری،تحلیل و تجزیے دقیقہ رسی،فکر انگیزی اور خیال آفرینی کے اسلوب جمیل کی وجہ سے،یہ کتاب تذکرہ نویسی کے فن میں،اپنی مثال آپ بن گئ ہے "۔(1)

مولانا نے بھلے ہی اس کے مضامین کو تذکرہ کہا ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اردو ادب کی اصطلاح میں تذکرہ ان مضامین کے مجموعہ کو کہا جاتا ہے،جن میں شعرا کے احوال و کوائف بیان کیے گئے ہوں جب کہ اس کتاب کی متعلقہ شخصیات علم و فن کی الگ الگ جہتوں سے وابستہ ہیں ،اس لیے لغوی اعتبار سے اگرچہ اس کتاب پر تذکرہ کا اطلاق ہو سکتا ہے تاہم اصطلاحی اعتبار سے یہ خاکوں کا ہی مجموعہ کہلائے گا تذکروں کا نہیں ۔اور جن تبصرہ نگاروں نے اس کو تذکرہ سے تعبیر کیا ہے انھوں نے بھی لغوی اطلاق مراد لیا ہے نہ کہ اصطلاحی ۔

چوں کہ عام طور پر خاکوں کے اخیر میں سوانحی نقوس یا فلاں ایک نظر میں پیش نہیں کیے جاتے اس لیے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ اس کو ایک نئی صنف سے تعبیر کیا جائے ۔چناں چہ اس حوالے سے مولانا فضیل احمد عنبر ناصری لکھتے ہیں:

"کہنے کو تو یہ ایک تاثراتی کتاب ہے،لیکن ہر شخصیت کے نمایاں اور پنہاں خد و خال کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے سوانحی نقوش بھی مفصلا علیحدہ درج کر دئے گئے ہیں ۔آگر کوئی شخص قلیل الفرصتی کی بنا پر مضمون نہ پڑھ سکے تو سوانحی نقوس کی یہ تفصیلات ہی اس کے لیے کافی ہوجائیں ۔تعارفی خاکوں اور سوانحی نقوس کے امتزاج نے خاکہ نویسی کے فن کو ایک نئی صنف اور نئی جہت عطا کی ہے ۔حقائق نگاری میں تاریخ کا اس درجہ حلول اور ہم آہنگی کہ تجزیہ نگاروں کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل کہ اس کتاب کا تعلق سیر و سوانح کے گل پوش مرغ زاروں سے ہے یا تاریخ کی سنگلاخ وادیوں سے”۔(2)

اس کتاب کے مشمولات سوانح ہیں یا خاکے یا ایک نئی صنف اس پر بحث ہوتی رہے گی ،لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ مصنف کی دگر کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی تحریر کے البیلا پن،تعبیرات کی ندرت اور قلم و زبان کی بے ساختگی کی وجہ کر حلقہ علم و ادب میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرچکی ہے ۔علم و فن کے ماہرین ،زبان و بیان کے اساطین اور آسمان صحافت کے ماہ و نجوم نے اس کتاب کے اسلوب کو کافی سراہا ہے ۔ مشہور کالم نویس ماضی قریب میں روزنامہ راشٹریہ سہارا کے سب ایڈیٹر مرحوم مولانا عبدالقادر شمس قاسمی اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"موصوف کا ایک مخصوص اسلوب نگارش ہے،ان کی تحریروں میں اتنی روانی،شگفتگی ہوتی ہے کہ قاری رو میں بہتا چلا جاتاہے ،ان کے ہاں عربیت،فارسیت اور اردوئیت کا نہایت خوب صورت امتزاج ملتا ہے،اس تثلیث سے ان کی تحریر میں تاثیر اور تسخیر پیدا ہوگئی ہے ۔طبقہ علما میں چند ہی شخصیتیں ایسی ہیں جن کے انداز بیان اور اسلوب پر اہل ادب بھی رشک کرتے ہیں،ان میں لاریب ایک نام نورعالم خلیل امینی کا بھی ہے "۔(3)

وہ مزید لکھتے ہیں :

” پس مرگ زندہ علم و معرفت کے شناوروں کی ایک تاریخ ہے،جس میں ہمارے عہد کی بہت سی سماجی،سیاسی حقیقتیں اور تہذیبیں روشن ہیں،اس کتاب کی حیثیت دستاویزی ہوگئ ہے ۔کیوں کہ اس میں محض تاثرات اور عقیدت کے پھول نہیں ہیں بل کہ کچھ حقائق کے خار بھی ہیں ۔جن کی تاریخی اعتبار سے الگ اہمیت ہے "۔(4)

مشہور صحافی اور مستقل کالم نگار سابق رکن پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے لکھا ہے :

"کتاب کا اسلوب بھی بڑا جان دار ،خوب صورت اور دل نواز ہے،لفظوں کے انتخاب میں مولانا نے بڑی دقت نظری اور ہنر مندی کا مظاہرہ کیا ہے،جو ان کی عربی و اردو ہر طرح کی تحریروں کا خاصہ ہے،تعبیرات کی جدت اور طرز ادا کے حسن میں "پس مرگ زندہ "اپنی مثال آپ ہے ۔۔۔۔۔۔بلاشبہ یہ کتاب سوانحی ادب میں ایک وقیع اضافہ ہے "۔

ماہنامہ دار العلوم دیوبندکے ایڈیٹر لکھتے ہیں:

ُُ ” اور عربی کی طرح اردو زبان و ادب میں بھی ان کا ذوق نہایت لطیف صاف، ستھرا اور بلند ہے جس کی ایک شاہد عدل موصوف کی زیر تبصرہ تالیف "پس مرگ زندہ "بھی ہے ۔نوسو بتیس صفحات پر پھیلی ہوئی یہ زخیم کتاب گویا زبان و ادب کے گل بوٹوں سے لہلہاتا ہوا ایک چمنستاں ہے ۔۔۔۔۔۔اور جو بات بھی تحریر کی ہے تحقیق کی چھلنی میں چھان پھٹک کر نقل کی ہے اور شنیدہ سے زیادہ دیدہ پر اعتماد کیا گیا ہے "۔(5)

سوانحی ادب میں خاکہ نگاری اور پیکر نویسی یا پیکر تراشی ایک مشکل فن ہے جس کے لیے بہت گہرائی اور گیرائی کی ضرورت ہے ۔مولانا کی خاکہ نگاری میں سچائی اور صداقت کے ساتھ زبان و ادب کی نزاکت و شیرینی،تعبیرات کا خوب صورت استعمال حسن اظہار کی مہارت کے ساتھ ساتھ تصویر کشی کا سلیقہ بھی خوب سے خوب تر ہے ۔البتہ بعض تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ متعلقہ شخصیات کے ساتھ اپنی شخصیت کو نمایاں کرکے پیش کیا گیا اور مصنف متعلقہ شخصیات کے ساتھ مصاحبت کرتا نظر آتا ہے ۔گویا یہ ایک قسم کی خود نمائی ہے ۔اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے معروف مضمون نگار مولانا عبدالحمید نعمانی لکھتے ہیں:

"دیکھی برتی اور جانی شخصیات کے ساتھ اگر مصنف بھی ضروری مقامات پر مصاحبت کرتا نظر آئے تو سچ یہ ہےکہ یہ بھی زندگی کے وہ گوشے ہیں،جو بغیر مصاحبت کے سامنے نہیں آسکتے ہیں ۔اس سلسلے میں یہ تبصرہ کوئی زیادہ وزن نہیں رکھتا ہےکہ اس مصاحبت میں خود کا نمو و اظہار ہے "۔(6)

اس حوالے سے مولانا امینی خود لکھتے ہیں کہ:

"کتاب میں پیش کردہ شخصیتیں،راقم کی صرف شنیدہ نہیں؛بل کہ دیدہ اور برتی ہوئی ہیں؛اس لیے ان کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے،اس میں خواہی نہ خواہی اپنا تذکرہ اور اپنے احوال و واقعات گھل مل گئے ہیں ۔بعض دفعہ راقم نے انھیں قلم انداز کرنے کی کوشش کی؛لیکن وہ اس میں ناکام رہا؛کیوں کہ یہ واقعات و حالات،صاحب تذکرہ کے حالات و واقعات سے اس طرح ہم رشتہ تھے جیسے دو جان و یک قالب "۔(7)

ایسے ہی کچھ اہل قلم اور ارباب ادب نے اس کتاب پر ایک اور اعتراض یہ کیا ہے کہ شخصیات کو پیش کرنے میں تجزیے کی کچھ کمی ہے ۔یعنی شخصیات کے حوالے سے صرف محاسن ہی کو پیش کیا گیا ہے ۔ان کے نقائص اور کمیاں یا زندگی کے منفی گوشے ان خاکوں میں کہیں بھی پیش نہیں کیے گئے۔

اس کا جواب مولانا عبدالحمید نعمانی اس طرح دیتے ہیں:

"ممکن ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے حضرات کو تجزیے کی کچھ کمی نظر آئے،تاہم اگر لکھنے کے وقت کو مد نظر رکھا جائے تو اس تاثر و خیال کا وزن بہت کم رہ جاتا ہے ۔بیشتر زیر تحریر متعلقہ شخصیات پر قلم برداشتہ اور وفات کے بعد فورا یا کچھ دنوں کے بعد ہی لکھا گیا ہے ۔ایسی صورت حال میں ظاہر ہے کہ محاسن ہی زیادہ تر سامنے ہوتے ہیں ۔تجزیہ کا موقع و محل دوسرا ہوتا ہے ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ تجزیہ کو نظر انداز کردیا گیا ہو،بسا اوقات تجزیہ و تبصرہ بین السطور میں ہوتا ہے ۔اس میں ماحول اور حالات کا بھی دخل ہوتا ہے ۔برہنہ تجزیہ کی توقع تاثراتی تحریروں سے قائم کرنا زیادہ انصاف کی بات نہیں ہوگی "۔(8)

مولانا عبدالحمید کے مذکورہ جواب سے بھی اختلاف ممکن ہے کیوں کہ ایسا نہیں ہے کہ وفات کے وقت خاکہ نگار کے سامنے صرف محاسن ہی ہوتےہیں دوچار شخصیات میں تو ایسا ممکن ہے لیکن جن کے ساتھ زندگی کے مراحل گزرے ہوں ان کے صرف محاسن ہی نظر کے سامنے ہوں اور عیوب آنکھوں سے پوشیدہ رہ جائیں یہ ممکن نہیں ۔در اصل ہرایک کا اپنا اپنازاویہ نظر ہوتا ہے ۔کچھ لوگ کو دوسروں کی منفی چیزوں کو اجاگر کرنے میں مزہ ہوتا ہے جب کہ کچھ اہل قلم کا نظریہ یہ ہوتا کہ متعلقہ شخصیات کے حوالے سے صرف ان گوشوں کو سامنے لایا جائے جو دوسروں کے کےلئے پند و موعظت اور عبرت و نصیحت کا ذریعہ بنیں ۔منفی گوشوں کا پرچار عام طور پر دوسرے لوگوں کو منفیات کا خوگر بنا دیتا ہے کیوں کہ بڑی شخصیات کے منفی پہلو جرائم پیشہ افراد کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوتےہیں ۔اس لیے کچھ خاکہ نگار کا زاویہ نظر اس حوالے سے یہ ہوتا ہے کہ منفی گوشوں کو پردہ خفا میں رکھا جائے اور ان گوشوں کو سامنے لانے کی اگر ایسی کوئی مجبوری بن جائے تو اس طرح بیان کیا جائے کہ اس سے عبرت کا سامان فراہم ہو ۔ہو سکتا مولانا امینی اسی نظریہ کے حامی ہوں ۔

ڈاکٹر حسن الدین احمد عہد جدید کے ایک معتبر خاکہ نگار ہیں ۔انہوں نے بھی اپنے خاکوں میں معائب سے گریز کرتےہوئے متعلقہ شخصیات کے صرف محاسن پیش کیے ہیں اور اس کی وجہ انھوں نے یہ بیان کی ہے:

"ان سوانحی خاکوں میں شخصیتوں کے کارناموں پر زیادہ زور دیا گیا ہے ۔ان کے کردار کی بلندیوں کو بیان کیا گیا ہے اور کمیوں سے صرف نظر کیا گیاہے ۔راقم الحروف کی ہر انسان میں اس کی مضمر خوبیوں پر نظر رہی اور وہ خامیوں کو ایسے نظر انداز کرتا رہا کہ گویا ان کا وجود ہی نہ ہو ۔واقعہ یہ ہےکہ خامیاں ۔۔۔۔۔۔اگر ہوں بھی تو راقم الحروف کو نظر نہ آئیں ۔اگر یہ بات درست ہے کہ خاکہ میں خاکہ نگار کے زاویہ نگاہ کو دخل ہوتا ہے تو خامیوں کا ذکر نہ کرنے کو راقم الحروف کا زاویہ نگاہ تصور کیا جائے "۔(9)

ڈاکٹر حسن الدین احمد کی اس عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ خاکہ نگاری برہنہ تجزیہ کے بغیر بھی ممکن ہے اور منفیات کی شمولیت کے بغیر بھی خاکہ نگاری کی جاسکتی ہے ۔ممکن ہے کہ مولانا امینی بھی اسی نظریہ کے حامی ہوں ۔اسی لیے ان کے خاکوں میں بھی معائب سے گریز کرتےہوئے متعلقہ شخصیات کے صرف محاسن پیش کیے گئے ہیں

بہرکیف پس مرگ زندہ کے حوالے سے ارباب اردو کی مختلف آراء ہیں ؛ لیکن ان کے اسلوب نگارش،اور زبان و بیان کی نزاکت و شیرینی،تعبیرات کی ندرت، تحریر کے البیلے پن ،سراپا نگاری و تصویر کشی اور قلم کی بے ساختگی کو سبہوں نے سراہا ہے ۔نمونہ کے طور پر یہ عبارت پیش کی جاسکتی ہے جو انھوں نے مولانا علی میاں ندوی کے حوالے سے لکھی ہے:

"میں نے صرف اردو میں نہیں عربی میں بھی تحریر کے بادشاہوں کو پڑھا ہے،تقریر کے جادوگروں کو سنا ہے،الفاظ کے شہنشاہوں کو برتا ہے،فصاحت و بلاغت کے دریا بہانے والوں کا تجربہ کیا ہے،مطالعہ و معلومات کی گم نام اور تاریک سرنگوں میں ، بے خطر بہت دور تک چلےجانے والے،بہت سے لوگوں کا علم ہے؛لیکن دل کی اتھاہ گہرائیوں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تحریر تقریر کے لفظ لفظ نہیں،حرف حرف پر اور ہر زیر و بم پرخلوص کا جو حسن،ایمان و یقین کی جو مہر تابی ،درد دل کی جو لذت ،انسانوں سے محبت کا جو جمال،اعلا ئے کلمہ اللہ کا جو جلال،صدائے حق کی جو دل نوازی،اور سوز دروں کی جو تمازت اور فقر غیور و زہد پر نورکی جو جاذبیت و حرارت،میں نے مولانا علی میاں کے ہاں محسوس کی ہے ،وہ میرے محدود علم و مطالعہ میں،ان میں سے کسی کے ہاں اس بھرپور کیفیت اور طرز خاص کے ساتھ نہیں ملتی "۔(10)

حوالے جات

(1)نور عالم خلیل امینی ،مولانا،پس مرگ زندہ ص 32 ناشر ادارہ علم و ادب افریقی منزل قدیم،نزد چھتہ مسجد دیوبند یوپی انڈیا

(2)فضیل احمد ناصری القاسمی،مولانا ۔مشمولہ ماہنامہ محدث عصر دیوبند ستمبر،اکتوبر،نومبر 2010 ص 69 نقد و نظر

(3)عبدالقادر شمس قاسمی،مولانا ،ڈاکٹر روز نامہ عالمی سہارا 11 ستمبر 2010 ص 66

(4)حوالہ سابق

(5)حبیب الرحمن اعظمی،مولانا،ماہنامہ دارالعلوم دیوبند دسمبر 2010 ص 54 -5

(6)عبدالحمید نعمانی مولانا،ہفت روزہ الجمیعہ دہلی 17 تا 23 نومبر 2010 ص

(7)نور عالم خلیل امینی مولانا،پس مرگ زندہ ص 34 حرف ناگزیر ۔ ناشر ادارہ علم و ادب،افریقی منزل قدیم نزد چھتہ مسجد دیوبند یوپی انڈیا

(8) عبدالحمید نعمانی مولانا،ہفت روزہ الجمیعہ دہلی 17 تا 23نومبر 2010

(9)حسن الدین احمد ڈاکٹر،انجمن حصہ اول (ایک سو سوانحی خاکوں کا مجوعہ )ص 10 ابتدائی باتیں ناشر :ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی

(10)نور عالم خلیل امینی پس مرگ زندہ ص 541 مضمون یکتائے زمن حضرت مولانا سید ابو الحسن

مضمون نگار ودیا پتی پلس ٹو ہائی اسکول بسفی میں اردو زبان کے استاد ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.