غیرمسلم میت اور اسلامی تعلیمات

0

 

 

از: محمد ندیم الدین قاسمی
مدرس ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد۔

اس وقت ہمارا ملک کووڈ 19 کی وجہ سے وحشت نشاں بنا ہواہے ، ہر طرف افرا تفری کا عالم ہے، ہر طرف سے اموات کی خبریں موصول ہو رہی ہیں ،لوگ اپنے اعزاء واقرباء سے بچھڑ رہے ہیں ، پل بھر میں بچہ یتیم ، ایک ہی لحظہ میں ماں کی گود سونی ، باپ بے سہارا، اوربیوی کا سہاگ اجڑ رہا ہے ، تو کہیں والدین اپنے بیٹے کے سامنے ، تو کوئی بیٹا اپنے والدین کے روبرو  سسک سسک کر دم توڑ رہاہے، شمشان گھاٹ پر چتا جلانے اور قبرستان میں مردوں کو دفن کرنے لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں ،ہنستے کھیلتے گھر اجڑ چکے ہیں ، گویا قیامت کا منظر ہے ! اب ہر کوئی سہما اور ڈرا  ہوا ہے، حتی کہ غیر مسلم اپنے اعزاء واقرباء کے انتقال کے بعد آخری رسومات تو دور، قریب جانے تیار نہیں؛ لیکن اس صورت حال میں بھی مسلمان ہمیشہ کی طرح  دوسروں کو مالی و جانی مدد پہنچانے میں جی جان سے لگے ہوئے ہیں ؛حتی کہ بعض، انسانیت کے ناطے  "دیش بھکتی” کی نشے میں غیر مسلم نعشوں کی بڑھ چڑھ کر آخری رسومات ، اور بعض تو شرکیہ اقوال و اعمال  بھی انجام دے رہے ہیں؛لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلام مسلمانوں کو اس کی اجازت دیتا ہے؟
اس سلسلہ میں اولا عرض ہے: اسلام ہمیں ہر ایک کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے ، خلقِ خدا کے دکھ درد میں شریک ہونے کی تو تعلیم دیتا ہے؛ لیکن اس کے ساتھ اسلامی شناخت کو ہو بہ ہو باقی رکھنا ،ایک مسلمان کی بڑی ذمہ داری ہے، انسانی ہم دردی یا "دیش بھکتی” کے نشے میں اسلامی تعلیمات کو مسمار کرکے، مذہبِ غیر کے شعائر کو اختیار کرنا اپنے کو خدا کی نظر میں مبغوض بنانے اور ذلت و رسوائی کو دعوت دینے کے مرادف ہے،”لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق”
غیر مسلم میت سے متعلق کچھ اہم مسائل:
۱۔غیر مسلم کی تعزیت:
غیر  مسلم کے عزیز  و اقارب کی فوتگی پر ان  سے تعزیت  کرنا  جائز  ہے، اور تعزیت کے الفاظ یہ ہونے چاہئیں:
"أَخْلَفَ اللَّهُ عَلَيْك خَيْرًا مِنْهُ، وَأَصْلَحَك”یعنی  اللہ تمہیں اس سے بہترین نعم البدل عطا فرمائے، اور  اصلاح فرمائے۔(فتاوی عالمگیری 5/ 348)
۲۔غیر مسلم میت کا احترام :
غیر مسلم میت کا احترام کرنا چاہیے ،جیسے ایک مرتبہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو رسول اکرمﷺ کھڑے ہوگئے ۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یہ تو یہودی کا جنازہ ہے ۔ آپﷺ نے فرمایا : آخر وہ بھی تو انسان تھا ” ان فیہ لنفساً” صحیح بخاری ، بہ حوالہ مشکوٰۃ : ۷۴۱ یعنی ہم نے "انسانیت ” کا احترام کیا ہے۔
.۳۔غیر مسلم کےلئے دعائے مغفرت، یا RIP لکھنا:
کسی غیر مسلم کے انتقال کے بعد اُس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا یا RIP لکھنا جائز نہیں ہے۔ماکان للنبي والذين آمنوا أن یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ما تبين لهم انھم أصحاب الجحيم” (سورہ توبہ،آیت ١١٣)
۴۔ غیر مسلم کی آرتھی اٹھانا، اور شمشان گھاٹ لےجانا،پھول ڈالنا:
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب ؒفرما تے ہے کہ غیر مسلموں کی تجہیز وتکفین اور جنازہ کے ساتھ چلنے اور اُس کے جلانے میں شرکت کرنے یا اِس سلسلہ میں اُس کا مالی تعاون کرنے کی شرعاً اِجازت نہیں ہے، اِس لئے کہ یہ چیزیں اُن کے "مذہبی شعائر” میں داخل ہیں، اگر کوئی مسلمان اس میں شرکت کرے تو وہ سخت گناہ گار ہوگا، جس کے لیے اس پر توبہ و استغفار ضروری ہوگا۔(مستفاد ازکفایت المفتی:۴/۲۰۳) اور الفتوحات الالہیہ شرح جلالین (جمل) ٣ / ٢٩٢ میں ہے: لا تقم علی قبرہ ( لدفن او زیارۃ۔ ای لا تقف علیہ وتتول دفنہ، من قولہم قام فلان بامر فلان اذا کفاہ امرہ وناب عنہ فیہ ۔
جس کا خلاصہ ہے: تم غیر مسلم کی قبر پر کھڑے نہ ہو۔ ( نہ اس کی زیارت کرو اور نہ دفن کا انتظام کرو)یہی وجہ ہے کہ ایک بیماری میں ابو لہب جہنم واصل ہوا اور اس کی نعش تین دن پڑی رہی ، جب سڑنے لگی تو اس کے گھر والوں نے لکڑی کے سہارے سے اس کو گڈھے میں ڈال کر اپنی آنکھوں سے اوجھل کیا۔ کسی مسلمان کو اس کے کفن و دفن کی فکر نہیں ہوئی، اور یہ سب کچھ "رحمۃ للعالمین” کی موجودگی میں ہوا؛حالاں کہ وہ ہم سے زیادہ سخت حالات سے بھی دو چار تھے اور فہمِ دین کے شناور بھی تھے۔
۵۔غیر مسلم لاوارث نعش کاحکم:
ا مفتی شفیع صاحب ؒ "ولاتصل علی احد منھم” کی تفسیر میں فرما تے ہے” اگر کسی مسلمان کا کافر رشتہ دار مرجائے اور اس کا کوئی ولی وارث نہ ہو تو مسلمان رشتہ دار کو اسی طرح بغیر رعایت طریق مسنون کے گڑھے میں دبادیاجائے
(معارف القرآن: ولاتصل علی احد منھم مات)
اور آخر میں یہ بات سمجھ لیں کہ ہماری ترقی صرف اسلام کے راستے پر چلنے میں ہے، اسے چھوڑ کر سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا، خدارا ہوش کے ناخن لیں ! اور رب کی رضا کو ہر انسان کی خوش نودی پر ترجیح دیں۔
ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ، انک انت الوھاب۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.