موت کی سوداگری کے بیچ اب ویکسین بھی تجارت:یہ حکومت ہے یا جرائم پیشوں کا گروہ؟

0

عرض داشت
موت کی سوداگری کے بیچ اب ویکسین بھی تجارت:یہ حکومت ہے یا جرائم پیشوں کا گروہ؟
کورونا کی دوسری لہر میں حکومتِ ہند کی ناکامی بہ صراحت اجاگر ہو رہی ہے۔ عزیز و اقربا اور جانے پہچانے لوگوں کی لاشیں زیادہ ہیں اور کاندھے کم۔ پھر بھی پرسانِ حال کوئی نہیں۔
صفدرا مام قادری
شعبہ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

پوری دنیا میں وبانے اب ہندستا ن کومرکز میں لے لیا ہے اورمتاثّرین کی تعدادمیں روز بہ روزحیرت انگیز اضافہ نظر آ رہا ہے مگرحکومتِ ہند کو طرح طرح کے سیاسی پینترے اور تماشے زیادہ عزیز ہیں۔ طبّی سہولیات میں گذشتہ ایک برس میں ملک ایک اِنچ بھی آگے نہیں بڑھا مگر نہ حکومت پشیمان ہے اور نہ سرکاری عملوں کو یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ موت کی جو رفتار ہے ، اگر یہی قایم رہ گئی تو آخر انھیں ووٹ کون دے گا اور وہ حکومت کس پر کریں گے۔یہ بات سب کے دلوں میں بیٹھ چکی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کورونا کے پہلے دور میں دنیا کی دیکھا دیکھی بہت سے تماشے کیے مگر موثّر اقدام کے نام پر یہ مُلک جہاں پہلے کھڑا تھا وہیں رہ گیا۔کچھ دنوں کے قرار کے بعد جب دوسری لہر نے زور پکڑا ہے تب مرکزی حکومت نے سارے معاملات صوبائی حکومتوں پر چھوڑ دیے اور خود کو مغربی بنگال کے صوبائی انتخاب میں دو دو ہاتھ کرنے کے لیے آزاد رکھا۔ دنیا کی تاریخ میں ایسی نہ جانے کتنی کہانیاں دفن ہو چکی ہیں جب شاہانِ وقت نے مصیبت کے وقت میں عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دیا۔کتنے ڈکٹیٹروں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جن کے پاس اپنی جان کو ہلاک کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔ ہندستان کی مرکزی حکومت کورونا کی دوسری لہر میں بالکل اُسی انداز سے چل رہی ہے جسے مغربی کہاوت میں روم کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے کہ ’جب روم جل رہا تھا تو اس کا بادشاہ نیروبنسی بجا رہا تھا۔
گذشتہ سوابرسوں میں مرکزی سطح پر اچھی خاصی رقم جمع کی گئی۔ اربوں روپے عطایات میں آئے۔ وزیرِ اعظم نے بلند بانگ دعوے پیش کیے کہ صحت کے سلسلے سے مُلک میں ایک مضبوط ڈھانچہ قایم کرنے میں اس رقم کا استعمال ہوگا۔مگر ان سوا برسوں میں حالت یہ ہے کہ دو سو روپے کے آکسیجن سلنڈر کی کمی سے ہزاروں لوگ اسپتالوں میں اور سڑکوں پر موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ جہاں آکسیجن پر لالے پڑے ہوں، وہاں مہنگی دوائیں اور ونٹی لیٹر کے انتظامات خواب ہی کہے جائیں گے۔حکومت نے نہ ریاستوں کو اس کام میں آگے بڑھایا اورنہ خود مستقل انتظامات کے لیے کوششیں کیں۔آج روزانہ تین لاکھ سے زیادہ متاثّرین اور کئی ہزار موتیں نظر آ رہی ہیں مگر عوامی سطح پر اس کا جائزہ لیا جائے تو اب بھی ایسے شبہات پیدا ہو رہے ہیں کہ متاثّرین اور مہلوکین کی تعداد پیش کرنے میں حکومت کی روایتی جعل سازیاں بھی کام کر رہی ہیں۔
آج حالت یہ ہے کہ ہر چھوٹے بڑے شہر کے قبرستان میں دفن کرنے کے لیے جگہہ کی تنگی محسوس ہو رہی ہے۔ پٹنہ کے شاہ گنج قبرستان کے ارکان نے تو باضابطہ اخبار میں مراسلہ شایع کرایا کہ بہ راہِ کرم لوگ دوسرے قبرستان جہاں گنجایش ہو، وہاں لاشوں کو لے جائیں۔ جلدی جلدی میں قبرستان کے ایک حصّے کو مٹّی سے بھر کر نئے سِرے سے تیّار کرنے کی بات بھی اس مراسے میں درج ہے۔یہ کم و بیش ہر علاقے کی کیفیت ہے۔ بھوپال کے این ڈی ٹی وی کے صحافی نے ایک روز شمشان گھاٹ پر ایک ساتھ جلتی ہوئی چالیس لاشوں کی تصویر دکھائی تھی۔ ہر اسپتال اور پرائیویٹ کلینک میں جتنے نئے داخلے ہو رہے ہیں اس سے کم وہاں سے لاشیں نہیں نکل رہی ہیں۔گذشتہ دس دنوں میں اردو کے ادیب و شاعر ، دانش ور اور فن کار اتنی بڑی تعداد میں وبا کی نذر ہوئے ، اس سے اندازہ کیا جا سکتاہے کہ ہر طبقے میں موت کا رقص جاری ہے اگرچہ حکومت اسے دوتین ہزار کی تعداد دکھا کر روزانہ کے اعداد و شمار متعیّن کر لیتی ہے۔
کورونا کے لیے دنیا میں واحد علاج یہ تجویز ہوا تھا کہ ہر آدمی کو ویکسین لگانا ہے۔ عالمی سطح پر کم و بیش ہر ملک نے یہ فیصلہ کیا کہ ویکسین کا انتظام حکومت کی جانب سے ہوگا اور عوام کی سطح پر افراتفری اور کالا بازاری سے گریز کا راستا اختیار کیا جائے گا۔ حکومتِ ہند نے پینتیس ہزار کروڑ کی رقم گذشتہ بجٹ میں صرف ویکسین دینے کے لیے مقرّر کی تھی۔ وزیرِ مالیات محترمہ نرملا سیتا رمن نے پارلیمنٹ میں بہ بانگِ دُہل یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اس سے زیادہ رقم کی ضرورت پڑے گی تو اس کا بھی انتظام کیا جائے گا۔مگر پورے ملک کا ویکسی نیشن ممکن بنایا جائے گا۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب ابھی ویکسین نہیں آئی تھی ۔ خدا کے فضل سے جب ہندستان میں ویکسین بنی تو مرکزی حکومت سے اُس کی ڈیڑھ سو روپے ایک ڈوز کی قیمت طَے ہوئی۔ڈیڑھ سو روپے کے حساب سے ہندستان کی ساری آبادی کو دو ڈوز ویکسین دی جا سکتی ہے مگر دو مہینے پورے ہوتے ہوتے اب ویکسین دینے کے پروٹوکول میں کئی طرح کی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ یہ وبا سے بچانے کی مہم میں موت کی سوداگری اور تجارت کا ایک نیا طَور ہے۔
حکومتِ ہند نے جس کمپنی سے ڈیڑھ سو روپے میں ویکسین خریدی اب حکومتِ ہند کے مشورے سے ریاستی حکومتیں اسی ویکسین کو چار سو روپے میں خریدنے پر مجبور ہوںگی۔نجی اسپتالوں میں بھی ویکسین فراہم کی جا رہی ہے ۔ وہاں اس کی قیمت چھ سو روپے ہو گی۔پہلا سوا ل یہ ہے کہ جب پورے ایک سو سترہ کروڑ لوگوں کے لیے دو سو چونتیس کروڑ ویکسین ڈوز کی رقم پہلے سے بجٹ میں موجود ہے ، اس حالت میں مرکزی حکومت کو دس فی صد کام سے پہلے ہی اپنا ہاتھ پیچھے کیوں کرنا چاہیے؟آخر اُ س رقم کے لیے مقرّرہ مد کو حکومت کیوں تبدیل کرنا چاہتی ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ایک ہی سامان مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے لیے الگ الگ قیمت پر کیوں فراہم کیا جا رہا ہے۔عام شہری مرکزاور صوبائی حکومتوں کے بٹوارے میں وبا سے محفوظ ہونے کے ویکسین کے معاملے میں اس بازاری ذہن کا شکا ر ہونے کے لیے اب مجبور ہوں گے۔
یاد رہے کہ مرکزی حکومت نے ’کووی شیلڈ‘ اور ’کو ویکسین‘ لگانے کا سلسلہ ۶۱ جنوری ۱۲۰۲ءسے شروع کیا۔ ایک سو سولہہ کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں جس سست رفتاری سے ویکسین دینے کا کام آگے بڑھا ، وہ ہر اعتبار سے ناقابلِ اطمینان رہا۔ سرکار نے اپنی طرف سے کالا بازاری کے لیے ایک گنجایش اس طرح سے پیدا کی کہ جہاں ’کووی شیلڈ ‘ ویکسین کا پہلا ڈوز لوگوں نے لیا، وہاں چار ہفتے کے بعد ’کو ویکسین‘ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مطلب یہ کہ دوسرا ڈوز لینے کے لیے آپ پرائی وٹ نرسنگ ہوم کی منھ مانگی قیمت پر خود کو تولنے کے لیے مجبور ہوں۔ویکسین کی گارنٹی اور استناد پر سوالات تو الگ ہیں ہی۔آنے والے وقت میں امریکی ،روسی ، برطانوی سارے ویکسین بازار میں ملنے لگیں گے۔حکومتِ ہند نے ہی یہ ماحول بنایا ہے کہ ایک سو سترہ کروڑ آبادی یعنی دو سو چونتیس کروڑ ویکسین کے بڑے بازار میں سب کچھ نہ کچھ لو¾ٹ لیں اور آنے والے دو مہینوں میں عوامی سطح پر یہ افراتفری صاف صاف نظر آنے لگے گی۔ مار پیٹ ، خلفشار اور بر وقت ویکسین نہیں ملنے کی مایوسی میں عوام کی بے بسی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔حکومتِ ہند اور اس کے سربراہ اپنی عوامی بے حسی اور گفتار کے غازی ہونے کے لیے سند یافتہ اور مشہور ہیں، وہ جب تک مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے کچھ بہتر نتیجہ بہ زورِ بازو¾ نہیں حاصل کر لیں گے، اس وقت تک کورونا وبا کی دوسری لہر نہ جانے اور بھی کیا کچھ کر چکی ہوگی۔وزیرِ اعظم کے ٹی وی شو بھی اب بے حد پھس پھسے ہو چکے ہیں۔ پچھلی بار تو وہ پندرہ منٹ میں ہی تھک گئے ۔نتیجہ یہ معلوم ہوا کہ شیخ تو¾ اپنی اپنی سنبھال۔ ہندستان کی تاریخ نے ایسا حکم راں نہیں دیکھا۔
قبیلائی دور کی لوگوں نے کہانیاں سُنی ہیں، اب جمہوریت کے دور میں موت کی سوداگری اور ننگا ناچ بھی چل رہا ہے۔ خدا کرے کہ وبائی قہر کم ہو اور حکومت کو لوگوں کی موت اور عدمِ تحفّظ کا خیال آئے اور کم از کم پورے ملک کو ویکسین کے دو ڈوز جلد از جلد ایمان داری سے فراہم ہو سکیں۔آسٹریلیا، نیوزی لینڈ یہاں تک کہ انگلینڈ جیسے ملک نے اس وبا سے کامیابی کے ساتھ فتح حاصل کی مگر ہمارا مقدّر یہ ہے کہ ڈینگ بازی اور ایکٹنگ کی طاقت پر ملک کا نظام چلایا جا رہا ہے ۔ وہ دور چلا گیا جب ریل کے ایک چھوٹے سے حادثے پر وزیر استعفیٰ دے کر لوگوں سے معافی مانگتا تھا۔پورا ملک مَر رہا ہے مگر اس ملک کے وزرا اور وزیرِ اعظم مُسکراتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ایسے ہی موقعے کے لیے کہتے ہیں کہ شرم و حیا اور غیرت کو بھی جب شرم آ جائے۔

٭٭٭
مضمون نگار کالج آ ف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس میںشعبہ¿ اردو کے استادہیں۔
Email: safdarimamquadri@gmail.com

Leave A Reply

Your email address will not be published.