کورونا وائرس: اسلامی ہدایات ،جدید مسائل اور حکومتی تدابیر

0

 

۔

مولانا بدیع الزماں ندوی قاسمی

خطرناک وبائی مرض کورونا نے گلوبل ویلیج کامنظر تبدیل کر کے رکھ دیاہے…..شرق سے غرب ہر ملک وقوم پر سکتہ طاری ہے ….مچھر سے کہیں چھوٹے وائرس نے دنیا کو عالم گیر لاک ڈائون پر مجبور کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ملک کے معروف عالم دین،چیرمین انڈین کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ ٹرسٹ بنگلور وجامعہ فاطمہ للبنات مظفرپور مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی نے مختلف اخبار کے صحافیوں کے درمیان کیا۔ انہوں نے کہاکہ ماہرین اطباء کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے موجودہ حالات میں مسلمان مصافحہ اور معا نقہ (گلے ملنے) سے مکمل پرہیز کریں‌ ، ملنے کے لئے اسلام میں مصافحے اور معانقے کا حکم ہے ، لیکن جب بیماری کا خدشہ ہو تو احتیاط کرنی چاہئے اور مصافحے اور معانقے سے گریز کرنا چاہئے ، اور یہ ایمان کی کمزوری کی علامت نہیں ہے ، موجودہ حالات میں ایک دوسرے کو دور سے سلام کرنے پر اکتفاکرنا چاہئے ، اجتماعات
( شادیوں کی تقریبات ، افطار پارٹیوں اور کسی بھی طرح کی محفلوں) میں شرکت سے مکمل اجنتاب کرنا ضروری ہے ۔ بلا شدید ضرورت کے ہسپتالوں میں بھی جانے سے پرہیز کرنا ضرروی ہے ۔ انہوں کہا کہ کورونامیں مبتلا مریضوں کا دوسرے لوگوں سے میل جول درست نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً ہر حکومت نے احتیاطی تدابیر سے آگاہ کردیا ہے ، اب لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ہدایات پر عمل کریں ، خود بھی اس موذی وائرس سے محفوظ رہیں ،اپنے دوست واحباب اور اہل و عیال کو بھی محفوظ رکھنے کی بھر پور کوشش کریں ، انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ایک عالمی وبا ہے ، اس لئے ہماری ذمہ داری ہے کہ اس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں ، اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں ، اپنے کپڑے صاف رکھیں ، اور کھانسی کی صورت میں منہ کے آگے ہاتھ ضرور رکھیں ، انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس بخار سے شروع ہوتا ہے ، جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے ، یہ وائرس سانس کے ذریعہ ایک دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ، کورونا وائرس کی علامت میں سانس لینے میں دشواری ، بخار ، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں ، انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات ميں جمعہ کی نماز ميں اردو خطبہ کو موقوف کردیا جائے اورعربی خطبہ مختصر کردیا جائے تاکہ جلدی سے جلدی لوگوں کا اجتماع ختم ہوجائے ، سنت و نوافل کے اندر اصل یہی ہے کہ گھر میں پڑھی جائے ، اس لئے موجودہ حالات میں اس پر خاص طور سے عمل کیا جائے ، اور سنت و نوافل گھر میں ہی پڑھنے کا اہتمام کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں چندلوگ( چار پانچ لوگ)مسجد میں نماز پڑھیں ، اور باقی لوگ اپنے اپنے گھر میں جماعت بنالیں ، اسی طرح موجودہ حالات ميں سب لوگ کسی ایک گھر میں جمع ہوکر نماز پڑھنے سے پرہیز کریں ، انہوں نے کہا کہ نماز میں صف کی درستگی کی بڑی تاکید آئی ہے اور صف کی درستگی میں یہ بھی ہے کہ لوگ مل کر کھڑے ہوں ، لیکن موجودہ حالات ميں احتیاط کے طور پر اگر ایک دوبالشت کا فاصلہ رکھا جائے تو لوگوں کے جسم ایک دوسرے سے کم سے کم ملیں تو ناگزیر حالات میں اس کی بھی گنجائش ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے 90 فیصد مریضوں کا علاج گھر میں ہی ممکن ہے ، اس لئے فوری طور پر ہسپتال کا رخ ہرگز نہ کریں ، انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن کی پابندی اور احتیاطی تدابیر پر عمل ناگزیر ہے ۔اخیر میں انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان اس عالمی وبا کی وجہ سے مختلف مسائل میں گرفتار ہیں ، اس لئے ہم سب اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ کورونا کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجائے۔ اور اللہ تعالیٰ کورونا کی ہلاکت خیزی ، اور تشویشناک و بگڑتی ہوئی صورت حال سے پوری دنیا کو عافیت اور نجات عطا فرمائے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.